بین الاقوامی

شعائر اسلامی میں قادیانیوں کی دراندازی ،5قادیانی گرفتار

لاہور ،12جولائی (ہندوستان اردو ٹائمز) پاکستان کے صوبہ پنجاب میں عید الاضحی کے موقعے پر قربانی کرنے کے الزام میں احمدی یعنی قادیانیت سے تعلق رکھنے والے افراد کو گرفتار کرلیا گیا ہے۔ان لوگوں کو دو الگ الگ مقدمات پر شیخوپورہ اور فیصل آباد میں گرفتار کیا گیا ہے۔ ان میں سے تین کا تعلق فیصل آباد سے ہے جب کہ دو افراد کو شیخوپورہ میں گرفتار کیا گیا۔

پولیس ریکارڈ کے مطابق پہلا مقدمہ ضلع فیصل آباد کے گاؤں 89 ج ب رتن تھانہ سے موصول ہونے والی درخواست پر تھانہ ٹھیکری والا میں درج کیا گیا۔ پولیس نے ضابطہ فوجداری کی دفعہ 298 سی کے تحت تین افراد کے خلاف مقدمہ درج کیا ہے جس میں الزام گیا ہے کہ قادیانی عقائد سے تعلق رکھنے والے اپنے گھر کے اندر بکرے کی قربانی کر رہے تھے۔ایف آئی آر کے مطابق ایگ گھر میں سیڑھی لگا کر اس بات کی تصدیق کی گئی تھی کہ وہاں رہائش پذیر احمدی عقائد رکھنے والے افراد بکرے کی قربانی کر رہے تھے۔

مقدمے میں لکھا گیا ہے کہ ملک کا 1973 کا دستور چوںکہ احمدیوں کو غیر مسلم قرار دے چکا ہے اس لیے عقیدہ ختم نبوت کا منکر ہوتے ہوئے وہ ظاہری طور پر اسلامی روایات اور رسومات ادا نہیں کرسکتے۔ماجد جاوید نامی شخص کی مدعیت میں درج کیے گئے اِس مقدمے میں کہا گیا ہے کہ جماعتِ احمدیہ سے تعلق رکھنے والے افراد کے قربانی کرنے سے شعائر اسلام کی خلاف ورزی ہوئی ہے جس سے ان کے جذبات کو ٹھیس پہنچی ہے۔فیصل آباد کے تھانہ ٹھیکری والا میں مقدمہ درج ہونے کے بعد پولیس نے تین افراد کو گرفتار کر لیا ہے۔

صوبہ پنجاب ہی کے ضلع شیخوپورہ کے علاقے نواں کوٹ میں ایسا ایک اور واقعہ سامنے لایا گیا ہے جس میں عیدالاضحٰی کے دِن قربانی کرنے پر پولیس نے دو افراد کو گرفتار کیا ہے۔شیخوپورہ کے تھانہ صفدر آباد میں درج کیے گئے مقدے میں کہا گیا ہے کہ اتوار کو عیدالااضحی کے دِن احمدی کمیونٹی سے تعلق رکھنے والے ایک گھر سے ’بسم اللہ‘ اور ’اللہ اکبر‘ کی آوزیں سنی گئیں جس کے بعد اس گھر سے خون نکلتے دیکھا گیا۔ اس کی اطلاع فوری طور پر پولیس کو دی گئی تھی جس پر کارروائی کرتے ہوئے پولیس نے موقع پر پہنچ کر قربانی کرنے والے دو افراد کو گرفتار کر لیا۔

احمدی کمیونٹی سے تعلق رکھنے والے ان افراد کے خلاف بھی 298 سی کے تحت مقدمہ درج کیا گیا ہے جو شعائر اسلام کی خلاف ورزی سے متعلق ہے۔جماعت احمدیہ کے مرکزی رہنما عامر محمود کا مگر مچھ کا آنسو یہ ہے کہ کافی عرصہ سے ان کی کمیونٹی کے مخالفین ان کے بنیادی انسانی حقوق سلب کرنے کی کوششوں میں مصروف ہیں۔اور ان کی یہ کوشش ہوتی ہے کہ احمدیوں کو ہر لحاظ سے پاکستان میں تنگ کیا جائیجس کے لیے بعض لوگ پاکستان میں احمدیوں کی مذہبی آزادی پر مسلسل حملے کرتے رہتے ہیں۔

قادیانیوں کے مرکزی رہنما کے مطابق پاکستان کے قانون میں یہ پابندی تو ہے کہ جماعت احمدیہ کے لوگ اپنے عقائد کا پرچار نہیں کر سکتے۔ اِسی طرح اپنی عبادت گاہ کو مسجد نہیں کہہ سکتے البتہ اگر کوئی احمدی اپنی چار دیواری کے اندر کچھ کرتا ہے تو آئین اور قانون کے تحت اْس پر کوئی پابندی عائد نہیں ہوتی ہے۔ خیال رہے کہ یہ چار دیواری کے اندر قربانی کرنا شعائر اسلامی میں دراندازی ہے ، اور اسے پاکستانی آئین کے مطابق جرم سمجھا گیا ہے۔

ہماری یوٹیوب ویڈیوز

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button