مضامین

شاتمِ رسول جب محافظِ رسول بن گیا : محی الدین غازی

عبدالمطلب کے کئی بیٹے تھے۔ ایک بیٹے کا نام حارث تھا۔ حارث کا ایک بیٹا مغیرہ تھا۔ عبدالمطلب کے ایک اور بیٹے کا نام عبداللہ تھا۔ عبداللہ کے بیٹے محمد رسول اللہ ﷺ تھے۔ مغیرہ اور محمدؐ دونوں ہم عمر تھے۔ دونوں رضاعی بھائی بھی تھے۔ دائی حلیمہ نے دونوں کو دودھ پلایا تھا۔ دونوں چچیرے بھائیوں میں دوستی بھی تھی۔خاص بات یہ کہ دونوں کی شکل ایک دوسرے سے ملتی تھی۔
آگے چل کر مغیرہ کی کنیت ابوسفیان پڑی اور اسی سے وہ مشہور ہوا۔ یہ وہ ابوسفیان بن حرب نہیں جو جنگ احد میں مشرکوں کی فوج کے سالار تھے اور فتح مکہ کے موقع پر ایمان لائے تھے۔ یہ آپؐ کا چچیرا بھائی ابوسفیان بن حارث تھا۔ جب حضرت محمد ﷺ اللہ کے رسول بنائے گئے، تو یہ آپؐ کا سخت دشمن بن گیا۔ یہ آپؐ کی شان میں گستاخی کرتا اور اشعار کے ذریعے آپؐ کی ہجو کرتا۔ آپؐ کے ساتھیوں کو ستاتا اوراشعار کی صورت میں ان پر جھوٹی تہمتیں باندھتا۔ اس نےرسول پاک کے ساتھ دشمنی میں کوئی کسر نہیں اٹھارکھی۔ جب جب قریش کا لشکر مدینہ پر حملہ کرنے جاتا ابوسفیان اس میں ضرور جاتا۔ وہ اللہ کے رسول ﷺ کی شان میں گستاخانہ اشعار کہتا اور عرب کے قبیلوں میں پھیلادیتا۔ اللہ کے رسولﷺ کی طرف سے حضرت حسان بن ثابتؓ ایسے گستاخ شاعروں کی ہجوکا جواب دیتے۔ دشمنی کی آگ میں جلتے ہوئے اور گستاخی کی لعنت میں لوٹتے ہوئے بیس سال گزر گئے۔ یہاں تک کہ مکّہ میں خبر گرم ہوگئی کہ اللہ کے رسول ﷺ ایک بڑے لشکر کے ساتھ مدینہ سے مکہ کی طرف روانہ ہوچکے ہیں۔
مکّہ میں ہنگامہ برپا تھا۔ ایسے بہت سے خطرناک مجرم اور گستاخانِ رسول تھے جنھیں یقین تھا کہ ان کی سزا موت کے سوا کچھ نہیں ہے۔ ان شیطانوں میں سے ہر کوئی کہیں بھاگ نکلنے کا منصوبہ بنا رہا تھا۔
ابوسفیان بن حارث بھاگ کر اپنے گھر آیا، اور اپنے بیوی بچوں کو ساتھ لیا اور مکّہ سے نکل کر اس راستے پر چل پڑا جدھر سے مسلمانوں کا لشکر آرہا تھا۔ جب وہ ابواء کے مقام پر پہنچا تو اللہ کے رسول فوج کے ہراول دستے کے ساتھ ابواء پہنچ چکے تھے۔
ابوسفیان نے اپنا بھیس بدلا، اپنے بیٹے جعفر کو ساتھ لیااور آپؐ کی قیام گاہ پر پہنچ گیا۔ وہاں پہنچ کر اندر آنے کی اجازت مانگی۔ آپ کی بیوی حضرت ام سلمہؓ نے آپؐ سے کہا : اللہ کے رسول! آپؐ کے چچا زاد بھائی آئے ہیں، آپؐ سے ملنا چاہتے ہیں۔ آپؐ نے فرمایا: یہ میرا چچیرا بھائی ہے، جس نے میری عزت پر حملے کیے، مجھے اس سے بات نہیں کرنی ہے۔ جب یہ بات ابوسفیان کو معلوم ہوئی تو اس نے کہا: اللہ کی قسم وہ مجھے ملنے کی اجازت دیں نہیں تو میں اپنے اس بیٹے کا ہاتھ پکڑ کر صحرا میں نکل جاؤں گا اور کہیں بھوک پیاس سے تڑپ کر ہم دونوں مرجائیں گے۔ جب یہ بات اللہ کے رسولﷺ تک پہنچی، تو آپؐ کا دل بھر آیا، آپؐ نے انھیں اجازت دی، وہ آئے اور اسلام قبول کرلیا۔
اللہ کے رسول ﷺ نے حضرت علیؓ سے کہا: اپنے چچیرے بھائی کو وضواور نماز کا طریقہ بتاؤ، پھر میرے پاس لاؤ، وہ وضو کرکے آئے اور آپؐ کے ساتھ نماز ادا کی۔ پھر آپؐ نے حضرت علی سے کہا اور انھوں نے لوگوں میں منادی کرادی : سنو اللہ اور اس کے رسول ابو سفیان سے راضی ہوگئے ہیں، سنو تم لوگ بھی راضی ہوجاؤ۔
ابوسفیانؓ کو جان کی امان ملی اور ایمان کی دولت ملی۔ لیکن ان کا دل کچھ اور مانگتا تھااور وہ اس کے لیے بے چین تھے۔ پھر وہ وقت بھی آگیا۔ اللہ کے رسول ﷺ مکہ فتح کرنے کے بعد طائف کی طرف روانہ ہوئے۔ حنین کی وادی میں دشمن نے حملہ کردیا۔ مسلمانوں کے پاؤں اکھڑ گئے اور مسلم فوج میں افراتفری مچ گئی۔ اس وقت ابوسفیانؓ اپنے گھوڑے سے کود پڑے اور تلوار سونت کر آپؐ کے آگے کھڑے ہوگئے۔ ابوسفیانؓ کی خواہش تھی کہ وہ آپؐ کی حفاظت کرتے ہوئے کام آجائیں۔ آپؐ ان کی جواں مردی دیکھ کر تعجب کررہے تھے لیکن یہ نہیں معلوم تھا کہ وہ کون ہیں۔ جب گرد صاف ہوئی تو آپؐ نے پوچھا یہ کون ہے جو اپنی جان پر کھیل کر میرے آگے ڈٹا رہا۔حضرت عباسؓ نے کہا: اللہ کے رسول! یہ آپؐ کا بھائی ابوسفیان بن حارثؓ ہے۔ آپؐ اس سے راضی ہوجائیے۔ آپؐ نے فرمایا: میں اس سے راضی ہوچکا ہوں اور اللہ نے اس کی وہ ساری دشمنی معاف کردی جو اس نے مجھ سے کر رکھی تھی۔ پھر آپؐ ابوسفیانؓ کی طرف متوجہ ہوئے، اور بڑے پیار سے کہا: میرے بھائی۔ ابوسفیانؓ کی خواہش پوری ہوگئی اور انھوں نے خچر کی رکاب میں رکھے آپؐ کے قدم کو بوسہ دے دیا۔
آپؐ نے ابوسفیانؓ کی جاں نثاری کا اعتراف کرتے ہوئے فرمایا: ابوسفیانؓ میرے بھائی اور میرے کنبے کے بہترین شخص ہیں۔ اللہ نے چچا حمزہؓ کی شہادت کے بعد ان کا بدل ابوسفیان بن حارثؓ کی صورت میں عطا فرمایا ہے۔ اس کے بعد ابوسفیانؓ کو شیر خدا اور شیر رسول کہا جانے لگا۔ ہاں انھی ابوسفیان کو جو بیس سال تک سب سے بڑے گستاخِ رسول بنے رہے۔
ابوسفیان جب تک کفر پر رہے، سب سے بڑے دشمنِ اسلام بنے رہے لیکن جب اسلام قبول کیا تو اسلام کی بلند منزلیں طے کرتے چلے گئے۔ یہاں تک کہ اللہ کے رسول ﷺ نے فرمایا: ابوسفیان بن حارثؓ جنت کے جوانوں کے سردار ہیں۔
جب حضرت ابوسفیانؓ کی وفات کا وقت ہوا تو اپنے گھر والوں سے کہا: مجھ پر رونا مت، میں نے جب سے اسلام قبول کیا ہے، ایک بھی گناہ نہیں کیا ہے۔
عبادت کا شوق ایسا تھا کہ گرمیوں کے سخت موسم میں بھی صبح سے نصف نہار سے پہلے تک نماز پڑھتے، اور پھر ظہر سے عصر تک نماز پڑھتے۔
یہ دین کی دعوت کا کمال ہے،کہ جو شخص بیس سال تک رسول پاکؐ کی شان میں گستاخی کرتا رہا، وہ اسلام قبول کرنے کے بعد شیرِ خدا، شیرِ رسول اور جنت کے جوانوں کا سردار قرار پایا۔
یہ رحمت للعالمینؐ کی شانِ کریمی تھی کہ اپنی شان میں گستاخی کرنے والے کو توبہ کرنے کا موقع دیا اور پھر اتنا قریب کیا کہ اپنا بھائی بنالیا۔
اسلام کے علم برداروں اور رسول پاکؐ کے عاشقوں کے لیے اس میں نصیحت کا بڑا سامان ہے۔
(ملاحظہ ہو: سیرت ابن ہشام، الطبقات الکبری لابن سعد اورسیر اعلام النبلاء للذہبی)

غازی محی الدین

ہماری یوٹیوب ویڈیوز

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔

Back to top button