چنئی

سی اے اے، این پی آر اور این آر سی کے لئے تیاری کیسے کریں؟ جسٹس جی ایم اکبر علی

چنئی (پی سید ابراہیم ایڈووکیٹ ہائی کورٹ، چنئی ) جسٹس جناب جی ایم اکبر علی نے بہت اچھے اور واضح انداز میں سی اے اے، این پی آر اور این آر سی کو سمجھایا ہے۔ براہ کرم اس تفصیل کوغور سے پڑھیں اور دعسروں کے ساتھ شیئر بھی کریں۔

کسی شخص کے قانونی طور پرہندوستانی شہری ہونے کے حوالہ سے شہریت ایکٹ 1955 کیا کہتا ہے؟

مندرجہ ذیل کام کرلیں:

۱۔ اپنے گھر میں موجود ہر فرد کی تاریخ پیدائش نوٹ کر لیں۔

۲۔ ان تاریخ پیدائش کو تین حصوں میں تقسیم کرلیں۔

الف) وہ جو یکم جولائی 1987 سے پہلے پیدا ہوئے۔

ب) وہ جویکم جولائی 1987 اور 31 دسمبر 2004 کے درمیان پیدا ہوئے۔

ج) وہ جو 31 دسمبر 2004 کے بعد پیدا ہوئے۔

۳۔ جو لوگ یکم جولائی 1987 سے پہلے پیدا ہوئے ہیں، وہ اس بات کو یقینی بنائیں کہ ان کے پاس پیدائش کا سرٹیفکیٹ یا پاسپورٹ میں سے کوئی ایک لازمی طور پر ہو۔ اگر ان میں سے کوئی ایک ان کے پاس موجود ہے تو، ان کو پیدائشی طور پر براہ راست ہندوستانی مانا جائے گا۔ ان کو کسی اور ثبوت کی ضرورت نہیں ہے۔

٤۔ یکم جولائی 1987 کے بعد پیدا ہونے والے تمام افراد اس بات کو یقینی بنائیں کہ ان کے پاس پیدائش کا سرٹیفکیٹ ضرور موجود ہو۔ اگر ان کے پاس پیدائش کا سرٹیفکیٹ ہے تو:

الف) والدین میں سے کوئی ایک جو جولائی 1987 اور دسمبر 2004 کے درمیان پیدا ہوا ہے وہ ہندوستانی ہونا چاہیے۔
ب) ان کے والدین میں سے کسی کا سن پیدائش یا نام، پیدائش کے سرٹیفکیٹ اور پاسپورٹ پریکساں ہونا چاہیے۔ اگر ایسا ہے تو، وہ بھی نسل کے لحاظ سے ہندوستانی مانے جائیں گے۔ کسی اور ثبوت کی ضرورت نہیں ہے۔

۵۔ 31 دسمبر 2004 کے بعد پیدا ہونے والے افراد کے والدین اگر (شہریت ایکٹ 1955 کے مطابق) ہندوستانی ہوں اور ان کے نام ان کے سرٹیفکیٹ سے میچ ہورہے ہوں تو وہ بھی نسلا ہندوستانی ہیں۔ کسی اور ثبوت کی ضرورت نہیں ہے۔

مذکورہ تفصیلات کی بنیاد پر ہر شخص اپنے گھرکا جائزہ لے اور ان لوگوں کی فہرست بنالے جن کے پاس پاسپورٹ یا پیدائش کا سرٹیفکیٹ نہیں ہے۔

پاسپورٹ بنوانے کے لیے:
آدھار کارڈ، پین کارڈ اور راشن کارڈ کے ذریعہ پاسپورٹ بنوایا جاسکتا ہے۔ یہ زیادہ مشکل کام نہیں ہے۔

پیدائش کا سرٹیفکیٹ بنوانے کے لیے:

الف) اگر آپ کی پیدائش اسپتال میں ہوئی ہے تو، اس علاقہ/ گاؤں/ تعلقہ/ کارپوریشن آفس جائیں جہاں وہ اسپتال واقع ہے اور اپنی تفصیلات کے ساتھ وہاں درخواست دیدیں۔ یہ کام بھی آسانی سے ہوجاتا ہے۔ اس کی فیس صرف ۲۰۰ روپئے ہے۔

ب) اگرآپ گھر میں پیدا ہوئے ہیں تو، نوٹری تصدیق کے ساتھ ایک حلف نامہ تیار کرلیں کہ آپ کے پاس پیدائش کا سرٹیفکیٹ نہیں ہے۔ پھر اسےاپنے گاؤں/ تعلقہ/ کارپوریشن آفس میں جمع کردیں۔ اس آفس سے آپ کو اس بات کا ثبوت فراہم کیا جائے گا کہ آپ کے پاس واقعی میں پیدائش کا سرٹیفکیٹ نہیں ہے۔ اس ثبوت کوآپ ڈسٹرکٹ کورٹ میں جمع کروادیں۔ وہاں آپ سے 200 روپئے سالانہ کے اعتبار سے جرمانہ وصول کر کے سرٹیفکیٹ فراہم کردیا جائے گا.

بس کام مکمل!

اگر اس طرح سے آپ کا کام ہوگیا ہو تو کم از کم ایک گھروالوں کی ان کے کاغذات بنوانے میں آپ بھی مدد کریں اور ان سے بھی کہیں کہ وہ کسی دوسرے اورکی مدد کریں۔ ان شاء اللہ اس طرح سےہم معاشرے میں کسی کو چھوڑے بغیر ہر ایک کے ہندوستانی ہونے کی قانونی دستاویز بنا سکتے ہیں۔

Urdutimes@123

ہندوستان اردو ٹائمز پر آپ سب کا خیر مقدم کرتے ہیں

Leave a Reply

متعلقہ خبریں

Back to top button
Close
Close