سیرت و شخصیات

اردو کے بنیاد گزار نقاد، مورخ، سوانح و سیرت نگار علامہ شبلی نعمانی! (یومِ پیدائش 4 جون) محمد عباس دھالیوال

محمد عباس دھالیوال ،
مالیر کوٹلہ ،پنجاب.
رابطہ 9855259650
Abbasdhaliwal72@gmail.com

اردو ادب میں جب کبھی سوانح نگار، مورخین و تنقید نگاروں کا تذکرہ ہوتا ہے توعلامہ شبلی نعمانی کا نام بھی حالی طرح اردو تنقید کے بنیاد گزاروں میں سر فہرست آتا ہے۔ مولانا الطاف حسین حالی کی طرح شبلی بھی اردو میں بطورشاعر، مورخ، سوانح نگار اورسیرت نگار کی حیثیت سے مسلم و مقدم تسلیم کیے جاتے ہیں ۔
شبلی نعمانی کی زندگی کا جب ہم طائرانہ جائزہ لیتے ہیں تو پتا چلتا ہے کہ آپ کی پیدائش اعظم گڑھ ضلع کے ایک گاؤں بندول جیراج پور میں 4 جون 1857ء میں ہوئی. آپ نے ابتدائی تعلیم گھر پر ہی مولوی فاروق چریاکوٹی سے حاصل کی- 1876ء میں حج کے لیے تشریف لے گئے۔ اسی بیچ آپ نے وکالت کا امتحان بھی پاس کیا مگر اس پیشہ سے دلچسپی نہ تھی۔ علی گڑھ گئے تو سرسید احمد خان سے ملاقات ہوئی، چنانچہ فارسی کے پروفیسر مقرر ہوئے۔ یہیں سے شبلی نے علمی و تحقیقی زندگی کا آغاز کیا۔ پروفیسر آرنلڈ سے فرانسیسی سیکھی۔ 1892ء میں روم اور شام کا سفر کیا۔ 1898ء میں ملازمت ترک کرکے اعظم گڑھ آ گئے۔ 1913ء میں دار المصنفین کی بنیاد ڈالی۔ 1914ء میں انتقال ہوا۔

اردو میں سوانح نگاری کا آغاز بے شک مولانا حالی نے کیا لیکن اس کو بامِ عروج تک پہنچانے میں علامہ شبلی نعمانی نے خاص و نمایاں رول ادا کیا.
شبلی کی شاہکار سوانح عمریوں میں المامون، النعمان، الفاروق، الغزالی، سوانح مولانا روم اور سیرۃ النبیؐ کو ایک خاص مقام و مرتبہ حاصل ہے۔ شبلی نے جدید طرز کے مطابق نئے مباحث پر محققانہ اور عالمانہ بحث کرکے اُنہیں مغربی تصانیف کی ہمسری کے مقابل لا کھڑا کیا. انھوں نے اپنی تحریر میں دلچسپی اور شگفتگی ایسی پیدا کی کہ وہ سب کے پڑھنے کے قابل بن گئیں۔

کارلائل کا ایک مشہور فقرہ ہے کہ ’’تاریخِ عالم صرف عظیم انسانوں کی تاریخ کا نام ہے‘‘ شبلی کی سوانح نگاری بھی اِس فقرہ کا پرتو نظر آتی ہے، اُن کے دل میں مشاہیرِ اسلام پر لکھنے کا داعیہ کیوں پیدا ہوا اِس کا کچھ اندازہ ’’حیاتِ شبلی‘‘ میں علامہ سیّد سلیمان ندوی کی اِس تحریر سے ہوتا ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ "مسلمانوں کی بیماری کا علاج ایک (سرسیّد) کے نزدیک یہ تھا کہ مسلمان مذہب کے سوا ہر چیز میں انگریز ہوجائیں اور دوسرے (مولانا شبلی) کے نزدیک یہ تھا کہ صحیح اسلامی عقائد کی حفاظت اور بقاء کے ساتھ ساتھ نئے زمانے کی صرف مفید باتوں کو قبول کیا جائے‘‘۔ (حیاتِ شبلی)
شبلیؔ مغربی تہذیب اور اُس کے ادب سے کبھی مرعوب نہیں ہوئے، سرسیّد کے رفقاء میں وہ تنہا تھے جو آخری عمر تک اسلامی تہذیب و ادب کے دفاع میں اپنے قلم سے جہاد کرتے نظر آتے ہیں ایک جگہ شبلی کہتے ہیں کہ
’’یورپ کے بے درد واقعہ نگاروں نے سلاطینِ اسلام کی غفلت شعاری ، عیش پرستی اور سیہ کاری کے واقعات کو اُس بلند آہنگی سے تمام عالم میں مشہور کیا کہ خود ہمیں یقین آچلا اور تقلیدپرست تو بالکل یورپ کے ہم آہنگ بن گئے‘‘۔ (مقالاتِ شبلی)
جب ہم شبلی نعمانی کی کارلائل کا ایک مشہور فقرہ ہے کہ ’’تاریخِ عالم صرف عظیم انسانوں کی تاریخ کا نام ہے‘‘ شبلی کی سوانح نگاری بھی اِس فقرہ کا پرتو نظر آتی ہے، اُن کے دل میں مشاہیرِ اسلام پر لکھنے کا داعیہ کیوں پیدا ہوا اِس کا کچھ اندازہ ’’حیاتِ شبلی‘‘ میں علامہ سیّد سلیمان ندوی کی اِس تحریر سے ہوتا ہے۔ وہ کہتے ہیں:

’’مسلمانوں کی بیماری کا علاج ایک (سرسیّد) کے نزدیک یہ تھا کہ مسلمان مذہب کے سوا ہر چیز میں انگریز ہوجائیں اور دوسرے (مولانا شبلی) کے نزدیک یہ تھا کہ صحیح اسلامی عقائد کی حفاظت اور بقاء کے ساتھ ساتھ نئے زمانے کی صرف مفید باتوں کو قبول کیا جائے‘‘۔ (حیاتِ شبلی)
شبلیؔ مغربی تہذیب اور اُس کے ادب سے کبھی مرعوب نہیں ہوئے، سرسیّد کے رفقاء میں وہ تنہا تھے جو آخری عمر تک اسلامی تہذیب و ادب کے دفاع میں اپنے قلم سے جہاد کرتے رہے، انہوں نے یورپی اسکالروں کی اُس بہتان طرازی اور اختراپردازی کا پردہ چاک کیا، جو مسلمانوں کے تعلیم یافتہ طبقہ کے ذہنوں پر شب خون مارنے کے لئے منصوبہ بند طریقے سے آزمائی جارہی تھی اور اُس کی وجہ سے نوجوان طبقہ اپنے مشاہیر کے عقائد اور تہذیب پر شرمندگی محسوس کرکے اُن کے مخالفوں کی ہمنوائی کرنے لگا تھا۔ شبلی خود کہتے ہیں:

’’یورپ کے بے درد واقعہ نگاروں نے سلاطینِ اسلام کی غفلت شعاری ، عیش پرستی اور سیہ کاری کے واقعات کو اُس بلند آہنگی سے تمام عالم میں مشہور کیا کہ خود ہمیں یقین آچلا اور تقلیدپرست تو بالکل یورپ کے ہم آہنگ بن گئے‘‘۔ (مقالاتِ شبلی)
جب ہم شبلی نعمانی کی زندگی کا مختصراً جائزہ لیتے ہیں تو پتا چلتا ہے کہ آپ کی پیدائش اعظم گڑھ ضلع کے ایک گاؤں بندول جیراج پور میں 1857ء میں ہوئی -آپ نے اپنی ابتدائی تعلیم گھر پر ہی مولوی فاروق چریاکوٹی سے حاصل کی- 1876ء میں حج کے لیے تشریف لے گئے۔ اسی بیچ آپ نے وکالت کا امتحان بھی پاس کیا مگر اس پیشہ سے دلچسپی نہ تھی۔ علی گڑھ گئے تو سرسید احمد خان سے ملاقات ہوئی، چنانچہ فارسی کے پروفیسر مقرر ہوئے۔ یہیں سے شبلی نے علمی و تحقیقی زندگی کا آغاز کیا۔ پروفیسر آرنلڈ سے فرانسیسی سیکھی۔ 1892ء میں روم اور شام کا سفر کیا۔ 1898ء میں ملازمت ترک کرکے اعظم گڑھ آ گئے۔ 1913ء میں دار المصنفین کی بنیاد ڈالی۔ 1914ء میں انتقال ہوا۔

شبلی کے تنقیدی نظریات و افکار کو جب ہم اپنے مطالعے میں لاتے ہیں تو آپ کے افکار و نظریات مختلف مقالات اور تصانیف میں جابجا بکھرے پڑے ہیں.
شبلی کو شاعری اور شاعری کی تنقید سے خاص انسیت تھی۔ انہوں نے نہ صرف یہ کہ شاعری اور اس کے دیگر لوازمات سے متعلق اپنے نظریات کو مفصّل طور پر پیش کیا. شبلی کے نزدیک شاعری ایک ذوقی اور وجدانی شے ہے وہ کہتے ہیں کہ شاعری کی جامع تعریف پیش کرنا آسان نہیں بلکہ مختلف ذریعوں سے اور مختلف انداز میں اس حقیقت کا ادراک ہو سکتا ہے۔ بقول ” شاعری چونکہ وجدانی اور ذوقی چیز ہے، اس لیے اس کی جامع و مانع تعریف چند الفاظ میں نہیں کی جا سکتی اِس بنا پر مختلف طریقوں سے اس کی حقیقت کا سمجھانا زیادہ مفید ہوگا کہ ان سب کے مجموعہ سے شاعری کا ایک صحیح نقشہ پیش نظر ہو جائے۔”
شبلی شاعری میں ادراک اور احساس کی وضاحت کرتے ہوئے تحریر کرتے ہیں کہ” خدا نے انسان کو مختلف اعضا اور مختلف قوتیں دی ہیں۔ ان میں سے دو قوتیں تمام افعال اور ارادات کا سر چشمہ ہیں، ادراک اور احساس، ادراک کا کام اشیا کا معلوم کرنا اور استدلال اور استنباط سے کام لینا ہے۔ ہر قسم کی ایجادات، تحقیقات، انکشافات اور تمام علوم و فنون اسی کے نتائج عمل ہیں۔ احساس کا کام کسی چیز کا ادراک کرنا یا کسی مسئلے کا حل کرنا یا کسی بات پر غور کرنا اور سوچنا نہیں ہے۔ اس کا کام صرف یہ ہے کہ جب کوئی موثر واقعہ پیش آتا ہے تو وہ متاثر ہو جاتا ہے، غم کی حالت میں صدمہ ہوتا ہے، خوشی کی حالت میں سرور ہوتا ہے، حیرت انگیز بات پر تعجب ہوتا ہے، یہی قوت جس کو انفعال یا فیلنگ سے تعبیر کر سکتے ہیں شاعری کا دوسرا نام ہے، یعنی یہی احساس جب الفاظ کا جامہ پہن لیتا ہے تو شعر بن جاتا ہے۔”
شبلی ایک یورپین مصنف کے حوالے سے ایک جگہ کہتے ہیں "ہر چیز جو دل پر استعجاب یا حیرت یا جوش اور کسی قسم کا اثر پیدا کرتی ہے، شعر ہے ۔” اس بناپر فلک نیلگوں، نجمِ درخشاں، نسیم سحر، تبسم گل، خرام صبا، نالہ بلبل، ویرانی دشت، شادابی چمن، غرض تمام عالم شعر ہے”
شبلی کے نزدیک شاعری تمام فنونِ لطیفہ میں بلند تر حیثیت رکھتی ہے۔ کیونکہ تاثر کے لحاظ سے بہت سی چیزیں مثلاً موسیقی، مصوری، صنعت گری وغیرہ اہم ہیں مگر شاعری کی اثر انگیزی کی حد سب سے زیادہ وسیع ہے۔
لفظ اور معنی کی بحث میں لفظوں کی اقسام اور ان کی نوعیت کی صراحت کرتے ہوئے تحریر کرتے ہیں :

"الفاظ متعدد قسم کے ہوتے ہیں، بعض نازک، لطیف، شستہ، صاف، رواں اور شیریں اور بعض پر شوکت، متین، بلند، پہلی قسم کے الفاظ عشق و محبت کے مضامین ادا کرنے کے لییموزوں ہیں، عشق اور محبت انسان کے لطیف اور نازک جذبات ہیں، اس لیے ان کے ادا کرنے کے لیے لفظ بھی اسی قسم کے ہونے چاہئیں۔”
لفظ اور معنیٰ کی بحث نہایت دلچسپ ہے۔ فصیح اورمانوس الفاظ کا اثر، سادگی ادا، جملوں کے اجزا کی ترکیب پر اپنی آرا کا اظہار کرتے ہوئے شبلی اس کے اثر کی بھی بات کرتے ہیں۔ ان کا نظریہ یہ ہے کہ خیال یا مضمون کتنا ہی عمدہ کیوں نہ ہو اگر لفظ عمدہ نہیں ہوں گے تو خیال کا اثر جاتا رہے گا۔ اپنی بات کی وضاحت کرتے ہوئے وہ آب زم زم کی مثال کچھ اس طرح پیش کرتے ہیں۔ اگر آپ کو کوئی گندے پیالے میں آبِ زم زم پینے کو دے تو آپ آبِ زم زم کے تقدس کی وجہ سے پانی تو پی لیں گے لیکن آپ کی طبیعت میلی ہو جائے گی۔ یہ بات ذہن نشین رہے کہ اس مثال میں پیالہ لفظ کی نمائندگی کر رہا ہے اور پانی مضمون کی۔ اس کا مطلب یہ ہوا کہ خیال کی عمدگی کے ساتھ ساتھ الفاظ کا عمدہ ہونا بھی ضروری ہے۔

شبلی نے اردو کی تمام کلاسیکی اصناف کا جائزہ لیا ہے اور اس پر اپنی رائے بے باکی سے دی ہے۔ ان کا نقطۂ نظر تاثراتی اور جمالیاتی نظر آتا ہے لیکن شاعری کی دوسری خوبیوں و اوصاف پر بھی ان کی نگاہ بدستور رہتی ہے۔ اسی طرح انہوں نے موازنۂ انیس و دبیر میں شاعری کی صنعتوں کی جس طرح تشریح پیش کی ہے اس میں وہ اپنی مثال آپ ہیں ۔

محمد عباس دھالیوال ،
مالیر کوٹلہ ،پنجاب.
رابطہ 9855259650
Abbasdhaliwal72@gmail.com

Urdutimes@123

ہندوستان اردو ٹائمز پر آپ سب کا خیر مقدم کرتے ہیں

متعلقہ خبریں

جواب دیجئے

Back to top button
Close
Close