سیرت و شخصیات

"پیاز کے چھلکے” والے فکر تونسوی کی فن شخصیت ! محمد عباس دھالیوال

محمد عباس دھالیوال
مالیر کوٹلہ ،پنجاب.
رابطہ. 9855259650
Abbasdhaliwal72@gmail.com

جب بھی طنز و مزاح کے کالمز کا تذکرہ ہوتا ہے تو پیاز کے چھلکے کالم کے خالق فکر تونسوی کا نام سر فہرست آتا ہے . طنزو مزاح سے لبریز پیاز کے چھلکے کے ذریعے فکر تونسوی نے جو شہرت و مقبولیت حاصل کی وہ شاید ہی کسی دوسرے مزاح نگار کے حصے میں آئی ہو۔

فکر تونسوی جن کا اصل نام رام لال بھاٹیہ تھا ۔آپ کی پیدائش7 اکتوبر، 1918ء کو بستی منگروٹھہ تونسہ شریف میں ہوئی ۔ بقول محمد اعظم فکر تونسوی صاحب کی پیدائش شجاع آباد، ضلع ملتان میں ہوئی ۔ فکر کے والد دھنپت رائے ایک زمیندار چوہدری نارائن سنگھ کے یہاں منشی تھے ۔انہوں نے ابتدائی تعلیم اپنے گاؤں میں ہی حاصل کی اور اس کے بعد میٹرک کا امتحان ہائی اسکول تونسہ سے پاس کر آپ ایمرسن کالج، ملتان میں داخل ہوئے۔ لیکن افسوس کہ ایک سال بعد ہی آپ کے والد انتقال فرما گئے۔ جس کے صدمے نے آپ کو بے حال کر دیا۔ جس کے نتیجے میں مجبورًا آپ کو اپنی تعلیم بیچ میں ہی چھوڑنا پڑی اور روزی روٹی کی تلاش میں لگ گئے۔ شروع شروع میں ہفتہ وار رسالے کسان میں کام کیا ۔
فکر کے مطابق انکی ادبی زندگی کا آغاز ‘ادبی دنیا’ میں نظم ‘ تنہائی’ 1942 میں شائع ہونے کے ساتھ ہوا.
فکر آٹھویں جماعت میں ہی شعر کہنے لگے تھے ۔ ان کے مطابق نظم تنہائی کو ادبی سنگھٹن حلقہ ارباب ذوق نے سال کی بہترین نظم قرار دیا تھا۔ اس کے بعد معروف فکشن نگارممتاز مفتی کے ساتھ مشترکہ ادارت میں دو ماہی میگزین “سویرا” کا آغاز کیا ۔اس کے علاوہ “ادب لطیف” کی ادارت کی ۔اس کے بعد 1942ء میں ادبِ لطیف سے وابستہ ہوئے جہاں کیلاش وتی کو اپنی شریک حیات بنایا۔
1947کے فرقہ وارانہ فسادات میں بطور رفیوجی ہندوستان آئے ۔ 1947میں ہی نظموں کا پہلا مجموعہ ‘ہیولے’ کے نام سے شائع ہوا۔
فکر نے فسادات کے بعد شاعری ترک کردی ۔ طنزو مزاح میں نثر لکھنے لگے۔ان کی پہلی نثریہ تصنیف ‘چھٹا دریا ‘فسادات پر ایک دردناک ڈائری کی شکل میں ہے۔ان کی کتاب ‘ساتواں شاستر ‘بھی فسادات کے موضوع پر ہے۔
لیکن کم معاوضہ کی وجہ سے ڈیرہ غازی خان کے ایک پرائمری اسکول میں بطور معلم اپنے فرائض انجام دینا شروع کر دیئے ۔ وہاں بھی گردشِ ایام نے چین نہ لینے دیا ۔ تو لاہور چلے آئے اور کتب خانہ میں ملازم ہو گئے۔ جہاں آپ کو مختلف موضوعات پر کتابوں کے مطالعہ کرنے کا موقع ملا ۔
فکر نے سردار الله نواز خان چیف آف قبیلہ کھتران نواز درانی کی زیرِ ادارت ڈیرہ غازی خان سے نکلنے والے ہفت روزہ اصلاح میں بھی مضامین لکھنے لگے۔ اس دوران فکر کو سردار صاحب کی مدیرانہ صلاحیت سے بے حد متاثر ہوئے اور سردار درانی کی سحر انگیز شخصیت اور ان کی شاعرانہ خوبیوں سے متاثر ہوکر ان کی شاگردی اختیار کرلی اوراپنے کلام پر اصلاح لینے لگے ۔اس کا خلاصہ انہوں نے مختلف مواقع پر کیا ۔ اس کے بعد فکر صاحب نے من کی موج، رسالہ کی ادارت کی زمیداری سنبھالی۔

تقسیمِ وطن کے دوران مذہبی اور سیاسی تعصب کی آندھی نے پورے برصغیر کو اپنی لپیٹ میں لے لیا۔
فکر بھی اس تعصب سے اچھوتے نہ رہ سکے ۔ کیوں کہ وہ ایک بے حد جذباتی ادیب تھے. اس لیے جب لوٹ کھسوٹ اور قتل و غارت کے دلخراش مناظر دیکھے تو اپنے بیوی بچوں کے لیے فکر مند ہوئے بغیر نہ رہ سکے ۔ اسی بیچ آپ کے ادبی و شاعر دوستوں ساحر لدھیانوی، قتیل شفائی اور احمد راہی وغیرہ تونسہ شریف لائے اور آپ کے بچوں کو اپنی زیر نگرانی میں لاہور لے آئے اور فرقہ وارانہ فسادات کے بعد فکر تونسوی بطور رفیوجی ہندوستان تشریف لے آئے ۔ ہندوستان میں آنے کے بعد آپ یہاں روزنامہ نیا زمانہ، میں طنزیہ کالم” آ ج کی خبر” کے عنوان تحت لکھنا شروع کر دیا۔اس کے بعد فکر 1955ء میں دہلی کے اردو روزنامہ “ملاپ” میں پیاز کے چھلکے کے عنوان کے تحت سیاسی و سماجی مسائل پر طنزیہ کالم لکھنے لگے اس وقت یہ کالم یعنی’ پیاز کے چھلکے’ اخبار کے قارئین میں بے حد مقبول ہوا. قارئین پیاز کے چھلکے کالم کا بے صبری سے انتظار کرتے تھے اور جب یہ اخبار شائع ہو کر مارکیٹ میں آتا تو کیا مزدور،کیا دکاندار،کیا وکیل کیا ڈاکٹر کیا حکیم کیا پروفیسر کیا عام اور کیا خواص سبھی انکے پیاز کے چھلکے کے مرید و دلدادہ بن گئے. یہی وجہ ہے کہ پرچہ بازار میں آتے ہی ہاتھو ہاتھ بِک جاتا تھا اور پاٹھک اخبار لیتے ہی پہلے’ پیاز کے چھلکے’ والے کالم والا صفحہ نکالتے اور دلچسپی کے ساتھ اس کو پڑھنے میں مصروف ہو جاتے۔آپ ملاپ اخبار سے25 سال تک وابستہ رہے یعنی اپنے مذکورہ کالم کے ذریعے قارئین کو مسلسل ہنساتے اور رلاتے رہے۔
اس دوران ریڈیو اسٹیشن جالندھر اور دہلی پر سینکڑوں شاہکار ڈرامے ،فیچر اور تقریریں پیش کیں۔ٹیلی ویژن پر متعدد ڈرامے لکھے۔جنھیں سامعین و ناظرین نے خوب پسند فرمایا۔
فکر تونسوی ایسے سیاسی طنز و مزاح نگار تھے کہ جن کا انداز بیان اپنے ہم عصر مزاح نگار وں سے بالکل مختلف تھا ۔بقول کنہیا لال کپور فکر تونسوی نے اردو ادب میں ایک لفظ تونسہ کا اضافہ کیا ہے۔اپنی کتاب ‘وارنٹ گرفتاری’ میں انہوں نے اپنی جان پہچان کرواتے ہوئے کہا کہ ‘مصنف کا کچا چٹھا’ کے عنوان کے تحت لکھتے ہیں کہ:” مصنف کا نقلی نام فکر تونسوی ہے (اصلی نام کافی واہیات تھا)پہلی جنگ عظیم میں پیدا ہوااور تیسری جنگ عظیم میں کوچ کر جائے گا۔والدین غریب تھے اس لیے والدین یعنی غریبوں کے حق میں لکھنے کی عادت پڑ گئی ۔اس کی خواہش ہے کہ غریب ہمیشہ قائم رہیں کہ کوئی ہمیشہ لکھتا رہے۔شروع شروع میں نظمیں لکھتا تھا جو اس کی اپنی سمجھ میں بھی نہیں آتی تھیں ۔بڑی مشکل سے اس کی سمجھ میں یہ بات آئی کہ وہ گھٹیا شاعر اور بڑھیا نثر نگار ہے۔ چنانچہ نثر میں مزاحیہ اور طنزیہ چیزیں لکھنے لگا۔پہلے ا سے یقین نہیں آتا تھا کہ وہ اچھا لکھتا ہے ۔لیکن جب قارئین نے شور مچادیا کہ وہ اعلیٰ ترین طنز نگار ہر ،تب اسے بھی اپنے اعلیٰ ترین ہونے کا یقین آگیا ۔جس دن یہ یقین ٹوٹ گیا وہ خود کشی کرلے گا۔ شکل بھونڈی ہے ،تحریر خوبصورت ہے اور یہ دونوں چیزیں خداداد ہیں ۔لوگ اس کی تحریر پڑھ کر اسے دیکھنا چاہتے ہیں ،جب دیکھ لیتے ہیں تو اس کی تحریریں پڑھنا چھوڑ دیتے ہیں۔اس لیے مصنف دنیا سے منھ چھپاتا پھرتا ہے ۔عزت قائم رکھنے کے لیے انسان کو سب کچھ کرنا پڑتا ہے ۔
و ہ اب تک ہزاروں صفحے لکھ چکا ہے اور لاکھوں مداح پیدا کرچکا ہے ۔اس کا دعویٰ ہے کہ لاکھوں صفحے اور کروڑو مداح اس کی ارتھی کے ساتھ جائیں گے۔جن میں زیر نظر کتاب اور اس کے پڑھنے والے بھی شامل ہوں گے۔ (یہ کچا چٹھا مصنف نے خود اپنے منھ میاں مٹھو بن کر لکھا)’دہلی”
ایک دوسری جگہ اپنی کتاب کے تعارف میں جمہوری نظام کی پول کھولتے ہوئے لکھتے ہیں کہ” ہاں یہ کتاب میں نے کلوا دھوبی کے لیے لکھی ہے ،جو اسے پڑھ نہیں سکتا ۔ہم دانشمند لوگ بہت سے کام ایسے کرتے ہیں جن کا مقصد شانتی لال کو فائدہ پہنچانا ہوتا ہے ،مگر فائدہ کانتی لال اٹھاتا ہے ۔اور اسی کو ہم ڈیموکریسی کہتے ہیں۔ڈیموکریسی کی سب سے بڑی ٹریجڈی یہ ہے کہ وہ شانتی لال اور کانتی لال دونوں کے لیے ہوتی ہے۔اس لیے شانتی لال روتا ہے اور کانتی لال ہنستا ہے ،اور اس رونے اور ہنسنے کو ایک ہی پلیٹ فارم پر اکٹھا کرنا ایک زبردست کارنامہ ہے ،جس سے تاریخ جنم لیتی ہے اور نہ جانے اس طرح کی کتنی الم غلم عظیم چیزیں جنم لیتی ہیں۔’ آخری جملہ ہے ؛ اور یہ کتاب میری معصومیت کی لاش کا نوحہ ہے۔”
آپ نے اردو ادب میں 20 اور ہندی زبان میں 8 کتابیں لکھ کر دونوں زبانوں کے ادب کو اپنی بیش قیمتی تخلیقات سے نوازا۔ان میں’ ہیولے ‘ چھٹا دریا، پیاز کے چھلکے،چوپٹ راجا،فکر نامہ، آدھا آدمی، چھلکے ہی چھلکے، بات میں گھات، گھر میں چور۔،میں، میری بیوی وارنٹ گرفتاری،ماڈرن الہ دین، ماؤزے تنگ، تیرِ نیم کش،ہم ہندوستانی ،راجا راج کرے۔ ڈارلنگ ۔گمشدہ کی تلاش۔
فکر تونسوی صاحب کو انکی ادبی خدمات کے اعتراف میں زندگی میں بہت سے انعامات و اعزازات سے نوازا گیا۔ ان میں سے 1969ء میں سوویت لینڈ نہرو ایوارڈ،
1973ء میں چوپٹ راجا پر یو۔ پی اردو اکادمی ایوارڈ،
1977ء میں فکر نامہ پر یو۔ پی اردو اکادمی ایوارڈ،
1980ء میں آخر ی کتاب پر یو۔ پی اردواکادمی ایوارڈ،
1983ء میں میر اکیڈمی ایوارڈ،1985ء میں آخری کتاب پر بنگال اردو اکیڈمی ایوارڈ,1987ء میں غالب ایوارڈ دہلی.
ادب کی دنیا کا یہ بے مثال ستارہ عمر کے آخری ایام میں فالج کا شکار ہوگیا اور بالآخر 12 ستمبر، 1987ء کو فکر تونسوی اس دنیا ئے فانی کو ہمیشہ ہمیش کے لیے الوداع کہہ گئے اور طنزو مزاح کی دنیا میں ایسی خلاء چھوڑ گئے جس کی بھرپائی ہوپانا مشکل ہے۔

Urdutimes@123

ہندوستان اردو ٹائمز پر آپ سب کا خیر مقدم کرتے ہیں

متعلقہ خبریں

جواب دیجئے

Back to top button
Close
Close