سیرت و شخصیات

اخلاق کا مجسم پیکر! قاری محمد سفیان صاحب مرحوم رائپوری ! فتح محمد ندوی

لکھتے رہے جنوں کی حکایات خوں چکاں
ہر چند اس میں ہاتھ ہمارے قلم ہوئے
(غالب)
جناب قاری محمد سفیان صاحب مرحوم رائپوری سے پہلی اچانک ملاقات سہارن پور میں ہوئی مولانا محمد راحت مظاہری کھجناوری نے ان کا تعارف کرایا۔ لیکن سفیان صاحب نے اس تعارف سے بالاتر ہو کر مجھ سے اپنی محبت اور پہلے سے سناشائی کا اظہار جس والہانہ انداز سے کیااس نے میرے دل کو بے حد متاثر کیا۔میں کچھ دیر تک سوچتا رہا کہ یہ شخص کتنی جلدی اپنے کریمانہ اخلاق اور کردار کا جادو کر کے چلا گیا۔ لیکن کیا معلوم تھا کہ یہ سفیان صاحب سے پہلی اور آخری ملاقات تھی۔
اتفاق یہ ہوا کہ اس روز رات میں قیام بھی سفیان صاحب کے گھر ہی پر ہوا لیکن سفیان صاحب وہاں موجود نہیں تھے۔ان کی غیر موجودگی میں ان کے بڑے بھائی ڈاکٹر مجیب الرحمن رائپوری ہماری میزبا نی کے فرائض انجام دے رہے تھے۔ ویسےگھر کے تمام لوگ ہماری خاطر مدارات میں بسر و چشم بچھے جا رہے تھے۔میں اس پورے منظر سے محو حیرت تھا۔اور ان کے اپنے تئیں اس جز بے کو دل ہی دل میں سلام پیش کر رہا تھا۔میرے ساتھ دو اور میرے عزیز تھے جناب حاجی محمد اظہار صاحب جناب راؤ آباد خاں جو رشتہ میں ان کے بہت قریب تھے۔لیکن میری اجنبیت کے با وجود تکلفات کے تمام دبیز پردے درمیان سے ہٹ گئے۔رات کے تقریباً دو بجے تک ان کے گھر کے حالات پر گفتگو رہی۔ کیسے انہوں نے محنت اور لگن سے ایک گاؤں سے اٹھ کر شہری زندگی میں قدم رکھا۔ کیا کیا اور کس طرح کے حالات کا ان کو سامنا ہوا ایک غم زدہ کہانی کے تمام کردار غموں سے پر تھے ۔ دل پر بجلیاں سی گررہی تھی۔
جناب سفیان صاحب مرحوم اکابر اوربزگان دین کا مسکن اور روحانیت سے بھر پور اہل عرفان کی عظیم یادگار بستی رائپور میں ۱۹۹۲ء کے قریب پیدا ہوئے۔ آپ کے والد جناب راؤ حبیب الرحمن خاں بستی کے معزز لوگوں میں شمار ہیں۔ سفیان صاحب کی تعلیم کا آغاز خانقاہ رائپور کے کسی عظیم بزرگ کی تسمیہ خوانی سے ہوا۔ پھر ابتدائی تعلیم خانقاہ رائپور ہی میں ہوئی۔ اس کے بعد مزید تعلیم کے لیے دوسری جگہوں پر آپ کی حاضری ہوئی۔ لیکن جلد ہی ناسازگار حالات کی وجہ سے تعلیم کا سلسلہ ختم ہو گیا۔
ماں کی ممتا اور شفقتوں کے سہارے عملی زندگی میں قدم رکھا۔ کامیابی کی طرف منزلوں کی تلاش میں آپ کا سفر جاری وساری رہا۔کارواں آگے بڑھ تا گیا راہیں کھلتی گئیں۔ بلکہ دشوار گزار راہوں سے گزر کر اب فتوحات کا باب واں ہوگیا تھا۔ جلدی ہی اس فتوحاتی دور میں ملت کی تعمیر کے لیے ایک ادارے کے قیام کا خاکہ تیار کرکے اپنے خوشگوار مستقبل کی راہیں متعین کی اور دیکھتے ہی دیکھتے جامعہ ھدی العالمین کا تصوار تی پلان عمل کا پیکر بن کر سر زمین کاکور کیرانہ ضلع شاملی میں سنگ بنیاد کے ذریعہ عمل میں آگیا ۔ پتھروں کے اس شہر میں کسی تعمیر ی کام کو وجود بخش نا جوئے شیر لا نے کے مترادف تھا۔ لیکن سفیان صاحب نے اس سرزمین کو محبت کی چاشنی عطاء کرنے کےلیےسفر جاری رکھا۔ تعلیمی سرگرمیوں کے ساتھ انسانیت کی فلاح کا درس اور پاٹھ پڑھا نے کے لیے بہت سے پیام انسانیت کے نام سے پروگرام منعقد کرائے۔ لیکن کوئی اثر اس سرزمین کے سخت سینہ پر نہیں ہوا۔ بقول میر:
الٹی ہو گئی سب تدبیریں کچھ نہ دوا نے کام کیا۔
سفیان صاحب مسلسل سخت حالات سے لڑتے ہوئے بڑے ہوشیار اور دور اندایش ہو گئے تھے۔ اس مختصر سی سی زندگی میں انہوں نے کافی دنیا کو دیکھ لیا تھا۔ بلکہ وہ غالب کے اس قول کے صحیح مصداق تھے۔بازیچہ اطفال ہے دنیا میرے آگے۔
‌منزلوں کی تلاش اور جستجو کا یہ تمام سفر اس وقت ختم ہوگیا۔ جب ان کی موت کی اندوہناک اور جاں گداز خبر سنی۔ان کی موت کی اس خبر سے بے طبیعت بہت متاثر ہوئی۔ پورا واقعہ ان کی موت کا یہ ہوا کہ ان کے مدرسہ کے کچھ اساتذہ نے یہ پلاننگ بنائی کہ سفیان صاحب کا مڈر کردیا جائے۔ اور ان کے اس تمام مدرسے کی پراپرٹی کے خود مالک بن جائیں۔آخر اس مذموم مقصد کو پائے تکمیل تک پہنچانے کے لیے ظالموں نے سفیان صاحب کو چائے میں پہلے نشہ دیا۔پھر نشے کی اس حالت میں ان کو پتھر اور اینٹوں سے مارا اس کے بعد ان کی نعش کو ٹکڑے ٹکڑے کر کے ایک بوری میں ڈال کر جنگل میں لے جا کر آگ لگائی۔اور تین دن آگ لگانے کا یہ گھناؤنا عمل جاری رہا۔ اس کے بعد ان کی بچی کچھی ہڈیوں کو جمنا ندی کے سپرد کے انسانوں کی شکل میں یہ ظالم بھیڈ یے گھر آگئے۔ اور اس بات کو بھول گئے کہ اللہ تعالیٰ تمہاری اس انسانیت سوز حرکت کو دیکھ رہا ہے۔
دن کی روشنی کی طرح یہ خبر دور دور تک پہنچ گئی۔ ہر چہرا اداس اور غمگین۔ بلکہ جگہ جگہ ماتم اور کہرام مچ گیا۔ایسا لگ رہا تھاکہ کچھ دیر کے لیے وقت تھم سا گیا۔اس سناٹے کے عالم میں ہر کوئی سائل اور خودہی مسئول بھی۔لیکن کس سے سوال پوچھا جائےاور کون زمانے کی اس بے حسی کا جواب دیگا۔
تمام شہر میں بے چہرگی کا عالم ہے
جسے بھی دیکھیے گرد اور دھواں دکھائی دے۔( شہاب جعفری )
اس حادثے کی شدت کو مجموعی طور پر عام اور خاص سبھی لوگوں نے پوری طرح محسوس کیا ۔لیکن سفیان صاحب کا یہ حادثہ ان کے والدین۔ بھائی بہن عزیز و اقارب دوست و احباب کے لیے کسی قیامت سے کم نہیں۔ خصوصا جواں سال بیٹے کی موت اور پھر وہ بھی اچانک اتنا بڑا حادثہ کہ بغیر صورت اور آخر ی دیدار کے ہمیشہ کے لیے اس کی جدائی اور فراق کو برداشت کرنا ان کے لیے بہت مشکل اور تھکا دینے والا مرحلہ ہے بلکہ اس طرح کے حادثات ماں باپ کو وقت سے پہلے قبر کی دہلیز تک پہنچا دیتے ہیں ۔بقول اسلم کولسری :
سورج سر مژگاں ہے اندھرے نہیں جاتے
ایسے تو کبھی چھوڑ کے بیٹے نہیں جاتے
جو جانب صحرائے عدم چل دیا تھا تنہا
بچے تو گلی میں بھی اکیلے نہیں جاتے
جو پھول سجانے تھے مجھے تیری جبیں پر
بھیگی ہوئی مٹی پہ بکھیرے نہیں جاتے۔
واقعہ یہ ہے کہ جہاں اس جوان بیٹے کی موت پر اس کے ماں باپ اور بھائی بہنوں کے تمام خواب ٹوٹ پھوٹ کر بکھر گئے اور سب امیدیں ختم ہوگئیں۔ سب ارمان خاک میں مل گئے وہیں اس حادثے نے ہمارے لیے بہت سے سوالوں کو جنم دیا میرے ایک محترم دوست علم اللہ اصلاحی نے اس واقعہ پر مجھے لکھا کہ ”ہمیں دشمنوں کی ضرورت نہیں “۔اس مختصر سے جملے نے میرے دل کو چھلنی کردیا اور بہت دیر تک صرف اسی کو دیکھتا رہاکہ اف! ہماری یہ حالت ۔اور اگر یہی حالت رہی تو ہم بہت جلد دشمن کے جال میں پھنس جا ئیں گے۔اور ہمارا وجود بھی اس سر زمین پر باقی نہیں رہے گا۔کسی قوم کی کمزوری کے لیے صرف اتنا ہی کا فی کہ وہ آپس میں خوں ریزی پر اتر جائے۔
اب میں اپنے تئیں ان کی اس بے پناہ پذیرائی اور اظہار تعلق کو کیسے خراجِ عقیدت پیش کروں۔ میرے پاس ایسا کچھ بھی نہیں بس میری آنکھوں کے سامنے ان کی اس پہلی ملاقات کا وہ خوبصورت منظر ہے۔ لیکن میں کچھ نہیں کہہ سکتا۔ سوائے ان کی معصومیت پر احمد فراز کا یہ شعر خراج عقیدت کے لیے میرے پاس آخری تحفہ ہے :
تم تکلف کو بھی اخلاص سمجھتے ہو فراز
دوست ہوتا نہیں ہر ہاتھ ملانے والا۔
خدا آپ کی بال بال مغفرت فرمائے۔

Urdutimes@123

ہندوستان اردو ٹائمز پر آپ سب کا خیر مقدم کرتے ہیں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

متعلقہ خبریں

Back to top button
Close
Close