سیرت و شخصیات

تعزیتی کلمات ملفوظات وارشادات حضرت اقدس بانی مدرسہ اصلاح المسلمین مجھنا ملک مولانا حفیظ اللہ صاحب قاسمی نوراللہ مرقدہ کے نام!تحریر: مولانا عبداللہ قاسمی

تحریر: مولانا عبداللہ قاسمی
خادم مدرسہ سراج العلوم نوتنواں بازار
رابطہ نمبر 9838737641

محترم حضرات سلام مسنونہ بعدہ…………….. کل گزشتہ جس شخصیت کا اس دنیا سے وصال ہوا وہ ایک ایسے عظیم المرتبت قابل القدر مجازبیعت خلیفہ اجل حضرت مولانا معین الدین نوراللہ مرقدہ کے جانشین وسجادہ نشیں تھے، جو اپنی مقبولیت ومحبوبیت کا نشان چھوڑ کر اس دار فانی سے دار بقا کو اس قفس عنصری سے پرواز کر گئے جس کی نظیر اور خلا کا پورا ہونا بہت مشکل ہے، جنازہ میں اتنے امڑتے ہوئے سیلاب کا شامل ہونا اور ان کے عقیدت مندوں کا پروانہ وار نثار ہونا ان کے فنا فی اللہ عارف باللہ صوفی باصفا ہونے کی علامت ہے……………. ہیرے کی قدر جوہری ہی جانتا ہے جو بزرگ ہستیاں جب اللہ کو پیاری ہوتی ہیں تو موسم سازگار وقت سازگار حالات بھی سازگار اور خبریں اتنی تیزی سے آگ کی طرح پھیلتی ہیں ہر کسی کو جنازے میں شریک ہونے کی توفیق حاصل ہوجاتی ہے الا ماشاءاللہ محروم رہ جاتے ہیں حضرت مرحوم زہد وتقوی کے پیکر تھے پورے علاقے کے روح رواں تھے مسلم کے علاوہ غیر مسلم بھی عقیدت مند تھے اس علاقے کے لوگوں کہنا ہے کہ جب سے حضرت آئے کبھی قحط سالی نہیں ہوئی یہ بھی ایک کرامت ہے اولیاء اللہ کا سایہ بھی رحمت ہواکرتی ہے، ایک تقویٰ صفت آفتاب ہمیشہ کے لئے غروب ہوگیا، اللہ والوں کی خاص نشانیوں میں سب سے بڑی نشانی ان کا جنازہ ہوتا ہے، ان کے عقیدت مندوں کا ہجوم اللہ والا ہونے کی سچی علامت ہوا کرتی ہے، کیونکہ ان کی زندگی اللہ ہی کے لئے گزرتی ہے اور اپنی پوری زندگی دین وایمان کےلئے وقف کردیتے ہیں اور اتباع سنت میں ہرلمحہ گزار دیتے ہیں۔ آپ نے اپنی آغاز جوانی سے لیکر پوری سوسالہ عمر اللہ کے دین کے لئے قربان کردی اتنی لمبی زندگی تقریباً ستر سالہ ایک ہی جگہ لگا دینا یہ استقامت وثابت قدم ہونا جبل الایمان اور بحرالایمان ہونے کی نشانی ہے…………. حضرت مرحوم دارالعلوم دیوبند سے سند یافتہ ہونے کے بعد اس مدرسہ کی بنیاد رکھی جو قیامت تک لئے نشانی اورصدقہ جاریہ ہے اللہ تعالیٰ ایسا دین کا داعی عالم ربانی وحقانی اور دین کا خادم ومخدوم لاکھوں اورصدیوں میں ایک پیدا فرماتا ہے بندہ حضرت اقدس کو قریب سے جانتا ہے حضرت نے اپنی کوئی شرح تنخواہ نہیں مقرر کی تھی فی سبیل اللہ دین کی خدمت فرمائی دنیا کا کوئی کروڑ پتی ارب پتی ہو اس کے جنازے میں کھبی اتنی بھیڑ نہیں جمع ہوسکتی ہے، کیونکہ ان کی زندگی دنیا بنانے مال جمع کرنے میں لگتی ہے اسی لئے ان کے جنازے میں امرا اور دولت والے ہی نظر آتے ہیں، لیکن جب ایک ولی اللہ کا جنازہ نکلتا ہے تو علماءکرام وصلحاعظام عقیدت مندوں کا ہجوم شاہد ہوتا ہے، پرنم آنکھوں سے سپرد خاک کرنے والے اللہ کے حوالے کرکے جنت الفردوس کے حوالے کرتے ہیں، اللہ تعالیٰ حضرت اقدس کو غریق رحمت فرمائے بال بال مغفرت فرمائے حضرت اقدس مدرسہ کے مدرسین کے لئے مربی تھے طلباء کرام کے لئے مشفق تھے، اور اساتذہ کے لئے واعظ عمر تھے، ظاہری طور پر سختی تھی لیکن دل کے بہت نرم مزاج تھے، اور معاملات میں بہت صاف ستھرے اور فقیہ النفس دیانت دار امانت دار تھے اور عوام الناس کے لئے مستجاب الدعوات تھے۔ آخری عشرہ رمضان المبارک اعتکاف میں اپنے مریدوں کے ساتھ مدرسہ کے مسجد میں خاص معمول کے ساتھ گزارتے تھے، عورتوں کے لئے دعا میں پردے کا خاص خیال رکھتے تھے اور جتنے حضرات دعا کے لئے آتے ان کو پنجوقتہ نماز پابندی سے پڑھنے کا حکم فرماتے مہمان نوازی ان کے فطرت سلیمہ اور عادت شریفہ کا ایک حصہ تھی، ایسے ہی ان کے زندگی میں کئی ایسے کارنامے اور نمونے ہیں جس کو شمار کرنا بہت مشکل کام ہے، ان کی خلوت نشینی اور سحر گاہی میں تہجد وتسبیحات کے معمولات کا پورا کرنا اوابین اشراق صلوٰۃ التسبیح سنت ونوافل کا پابندی سے ادا کرنا روز مرہ کی عادت شریفہ تھی، اور بھی بہت سی خصوصیات خوبیوں اور صفات کے حامل تھے، اپنی لمحات زندگی میں تقریباً دس حج؛اور کئ بار عمرہ کرنے کا شرف حاصل ہوا، اللہ تعالیٰ نے ان کے ذریعہ ان کی زندگی میں نیکیوں کا ذخیرہ جمع کروایا یہ آپ کے صوفی باصفا ہونے کی دلیل ہے اور اپنی پوری زندگی میں اتنا بڑامجمع جنازے کی نماز میں اپنے علاقے یا ضلع میں نہیں دیکھا بندہ کوحضرت اقدس سے اصلاحی تعلق تھا اسی لئے بندہ حضرت کے زہد وتقوی سے واقف ہے، حضرت نمونہ اسلاف پیر طریقت رہبر شریعت عالم روحانی پیشوائے قوم وملت علم عمل کے پیکر وآفتاب وروح رواں تھے، حضرت کے سوانح عمری اور تعلیم وتعلم تزکیہ نفس ظاہر وباطن مصلح اور مدرسہ کے انتظامی کارنامے رقمطراز کئے جائیں تو ایک ضخیم کتاب تصنیف وتالیف ہوسکتی ہے، جو آپ کے گفتار کردار اطوار سے عوام الناس کو اصلاحی تعلق حاصل ہوگی ………………….اللہ تعالیٰ حضرت اقدس کے قبر کو نور سے منور فرمائے کروٹ کروٹ جنت نصیب فرمائے قیامت تک کے لئے ان کے قبر کو آرام گاہ بنائے اور جنت الفردوس میں اعلیٰ مقام نصیب فرمائے اور لواحقین کو صبر جمیل عطا فرمائے۔ آمین یارب العالمین

مزید پڑھیں

Urdutimes@123

ہندوستان اردو ٹائمز پر آپ سب کا خیر مقدم کرتے ہیں

متعلقہ خبریں

جواب دیجئے

Back to top button
Close
Close