سیرت و شخصیات

فیض کے قلم سے (یوم پیدائش)

فیض کے قلم سے (یوم پیدائش)
تحریر ـــ شہلا کلیم

سنا ہے آج کل ہندوستانی کٹگھرے میں ہوں! خیر ہم اہل زباں کے لیے یہ کوئی نئی بات بھی نہیں ـ "ہوتا آیا ہے کہ اچھوں کو برا کہتے ہیں” یاد نہیں وہ حبیب جالب جن کی باغی نظم ہماری بدنام زمانہ نظم کے سروں سے سر ملا کر گائی جاتی ہے؛ جب تک زندہ رہے عدالتوں کا چکر کاٹتے رہے اور ایوانوں میں چیخ چیخ کر کہتے رہے:

ایسے دستور کو، صبح بے نور کو

میں نہیں مانتا، میں نہیں جانتا

اس سے ایک بات تو واضح ہو جاتی ہے کہ آپ نے لاکھ ترقی کر لی ہو دنیا میں ایک مسئلہ جوں کا توں ہےـ اہل زباں کل بھی عدالتوں میں تھے آج بھی عدالتوں میں ہیں ـ بھلے آپ جمہوریت کا ڈھنڈورا پیٹتے پھرتے ہوں الفاظ آج بھی اسیر ہیں، زبانیں آج بھی کاٹ دی جاتی ہیں ـ لیکن خیال؟ خیالات کو بیڑی کیوں کر پہنائی جا سکتی ہے؟ اقبال نے بہت پہلے کہا تھا "قوموں کی حیات ان کے تخیل پہ ہے موقوف ” دیکھیے تخیل کی طاقت کہ ہم آج بھی حیات ہیں ـ اقتدار سے لڑتے لڑتے، ان کے خلاف آواز بلند کرتے کرتے اور اس جرم کی پاداش میں سزائیں کاٹتے کاٹتے ہم تو ۱۹۷۴ میں ہی گزر گئے تھے اور سوائے اپنے اعمال کے ہم خود تو خالی ہاتھ ہی اپنے رب کی جانب لوٹے لیکن اپنی زندگی بھر کی کمائی اپنا تخیل، اپنی آواز، اپنے الفاظ حتی کہ اپنی آنکھیں بھی اہل زباں، اہل سماعت، اہل بصارت و بصیرت کو تحفے میں دے آئےـ اور یہ اسی کا کمال ہے کہ جو کچھ ہم نے دیکھا اور اس کے خلاف صداے احتجاج بلند کی وہی کچھ آج کے ترقی یافتہ دور میں دیکھ کر انصاف پسند لوگ صداے احتجاج بلند کر رہے ہیں ـ لیکن بھئی اس معاملے میں گڑے مردے اکھاڑ کر ہمیں کٹگھرے تک گھسیٹ لانے کی کیا ضرورت تھی؟ کسی عہد حاضر کے شاعر کی نظم پر ہاتھ صاف کیا ہوتا ہم مظلوم تو ہمیشہ سے عدالتوں کے دکھ جھیلتے آئے ہیں ـ تاہم ہم آپکی مجبوری سے بخوبی واقف ہیں کہ موجودہ ادب کے نا صرف چودہ بلکہ چودہ دونی اٹھائیس طبق روشن ہیں لہذا بحالت مجبوری ہماری نظموں کا رخ کرنا آپ کا فرض عین ہےـ رہی ہماری بات تو ہم اقتدار کی آنکھوں میں ہمیشہ کانٹے کی طرح چبھتے رہے اور ان بے وقوفوں کے نزدیک ہمارا واحد علاج قید خانہ تھا گویا شیخ ذوق نے اپنے ایک شعر کے ذریعے ہمارے سلسلے میں ہی پیشن گوئی کی تھی ـ لہذا زندہ تھے تو گبھرا کہ یہ کہتے تھے کہ مر جائیں گے اور بعد از مرگ کہنا پڑ رہا ہے کہ "مر کے بھی چین نہ پایا تو کدھر جائیں گے؟” سیاست بڑی شاطر ہے جھٹ سے جوابا کہتی ہے ” وہیں کٹگھرے میں اور کہاں!” جب کہ ہم کہتے ہیں:

"مقام فیض کوئی راہ میں جچا ہی نہیں

جو کوے یار سے نکلے تو سوے دار چلے”

خدارا اب اس شعر کی تشریح میں الجھ کر ہمیں مزید رسوا نہ کرنا ـ جب ہماری سیدھی سادی بھولی بھالی اور معصوم سی نظم لوگوں کی سمجھ میں نہیں آئی تو یہاں تو خیر مصرعہء ثانی میں اچھی خاصی ترکیب اور مصرعہء اولی میں اچھی خاصی تفہیم موجود ہےـ لیکن ایک مزےدار اور حیرت انگیز بات یہ ہے کہ ہمارے اس شعر کا مفہوم سمجھا بھی تو کس نے اسی پارٹی کے ایک باذوق، سخن شناس اور ادب نواز شخص نے جس کے نا اہل اور بے ذوق لوگوں نے آج ہمارے کلام کو ایک بار پھر سے کٹ گھرے میں لا کھڑا کیا ہے ـ جو لوگ اپنی پارٹی کے غیر معمولی لوگوں کی تاریخ سے بھی واقف نہیں ان سے ادب کو نہ سمجھنے کا شکوہ بےجا اور فضول ہےـ اس شعر کے ساتھ ہمارے جذبات کے تار یوں جڑے ہیں کہ پہلی بار کسی سیاست داں نے ہمارے کلام کو نہ صرف سمجھا اور یاد رکھا بلکہ اس شعر کے عوض اپنا پروٹوکول توڑ کر ہم سے ملنے ہمارے غریب خانے پر تشریف لائے جی ہاں ان دنوں اٹل بہاری واجپئی پاکستانی دورے پر تھے جب ان کو علم ہوا کہ ہم بھی پاکستان میں ہی موجود ہیں تو وہ قانون کی پرواہ کئے بغیر ہم سے ملنے آئے اور ہمارا یہ شعر سنا کر پوری غزل سننے کی فرمائش کی ـ ہم نے سن اور پڑھ رکھا تھا کہ سیاست کے پہلو میں دل نہیں ہوتا لیکن جب ہمارا شعر ایک سیاست داں کے دل کے تار چھیڑ گیا تو خوشی سے ہماری باچھیں کھل گئیں ادیب و شاعر یوں بھی جذباتی ہوتے ہیں لیکن اس دن ہم سچ مچ "بھاوُک” بھی ہو گئےـ یقین جانیے اس دن گنگا جمنا کا ملن ہی ہم نے پہلی بار دیکھاـ

اب رہی دیکھنے دکھانے کی بات تو بھئی ہم اور آپ ہمیشہ سے دیکھتے آئے ہیں ـ ہم نے دیکھا وجود کائنات کے روز اول سے حق و باطل، ظالم و مظلوم، امیر و غریب ، حاکم و محکوم کے بیچ جنگ کس طرح جاری ہےـ ہم نے دیکھا ہر دور میں تخت و تاج اور اقتدار کی دیوی کو مظلوموں کے خون کی بھینٹ کس طرح چڑھائی گئی ہم نے بارہا ظلم کو حد سے گزرتے دیکھا لیکن ظلم آخر ظلم ہے بڑھتا ہے تو مٹ جاتا ہے لہذا پھر ہم نے لا تعداد تخت گرتے دیکھے بے شمار تاج اچھلتے دیکھے بہت سے ظلم کے کوہ گراں مسمار ہوتے دیکھے اور یہ سلسلہ ازل سے جاری و ساری ہے اور ابد تک رہےگاـ جہاں تک بات تھی دیکھنے دکھانے کی تو ہم نے آئینہ دیکھا بھی اور بخوبی دکھایا بھی لیکن اگر بات آتی ہے کہنے کی تو یہاں ہم معذرت کے ساتھ ہر دور کے ان مصلحت پسند لوگوں کی پیروی کرنا چاہیں گے جو دنیا میں رہتے ہوئے بھی دنیا کے معاملات سے ناواقفیت کا عذر پیش کرکے بدنامی و نیک نامی سے صاف بچ نکلتے ہیں ـ اور ایسے ہی لوگ یقینا دنیاوی اعتبار سے سرخرو ہیں ـ ہم دنیا میں موجود نہیں پھر وہاں کے حالات سے کیونکر واقف ہو سکتے ہیں جبکہ دنیا میں موجود مشہور و معروف شخصیات ایسے ترقی یافتہ دور میں ان معاملات سے بھی ناواقفیت کا اظہار کرکے پلہ جھاڑ لیتے ہیں جنکا بخوبی علم گمنام عوام کو بھی ہےـ چنانچہ ہم صرف اپنی نظم پر بات کرینگے کہ آخر کیوں یہ زبان دراز نظم ہر دور کے حاکموں کے دل و دماغ میں کھٹکتی ہے اور کب، کیوں اور کیسے یہ نظم انقلاب و احتجاج کا استعارہ بنی ـ واقعہ ۱۳ فروری ۱۹۷۶ کا ہے جب ہماری وفات کے بعد پہلی مرتبہ ادب نوازوں نے ہمارا یوم پیدائش جشن کے طور پر منانے کا فیصلہ کیاـ یہ عجب المیہ ہے کہ ایک فن کار کو اپنی اہمیت جتانے کیلیے مرنا پڑتا ہے ـ آپ کی حیات میں کوئی قدر و اہمیت ہو یا نہ ہو بعد از مرگ آپ کی یوم پیدائش سے لیکر یوم وفات تک جشن ہی جشن منائے جاتے ہیں ـ چنانچہ یہ بھی اسی طرز کا جشن تھا جس میں اس دور کی تانا شاہی کے خلاف احتجاج کے طور پر ہماری اسی نظم کو چنا گیاـ جب لاہور الحمراء آرٹ کونسل کے اسٹیج سے کالی ساڑھی میں ملبوس سراپا احتجاج بنی اقبال بانو کی پر سوز آواز گونجی تو ہزاروں آوازیں ان کی ہم زباں ہو گئیں پھر یہ نظم انقلاب و احتجاج کا سمبل بن کر دنیا پر چھا گئی ـ اور یہ سلسلہ کچھ ایسا دراز ہوا جو تاہنوز جاری ہےـ ہم لکھ کر چل بسے، اقبال بانو گا کر گزر گئیں لیکن نظم آج بھی زندہ ہے اور یقینا ہمیشہ رہےگی کیوں کہ سوچ کبھی نہیں مرتی!!

دلچسپ بات یہ ہے کہ جب سے IIT کانپور کے طلباء کے ذریعے احتجاج کے طور پر ہماری نظم گائے جانے کو غلط قرار دیتے ہوئے ان کے خلاف کارروائی کی مانگ اور ہماری نظم پر جانچ کمیٹی بٹھائی گئی کہ آیا یہ ہندو مخالف ہے یا اس سے اسلام کی تبلیغ ہوتی ہے تب سے ہماری حالت غالب کی سی ہو گئی ہے اور ہم باغ بہشت میں بھی حیرت و وحشت سے کہتے پھرتے ہیں "حیراں ہوں دل کو روؤں کہ پیٹوں جگر کو میں ” کیونکہ جس "انا الحق ” کے نعرے کو یہ کند ذہن اسلام کی تبلیغ سمجھتے ہیں اسی نعرے پر یہاں منصور کو تختہء دار پہ چڑھا دیا جاتا ہےـ یعنی ہم تو "نہ ادھر کے رہے نہ ادھر کے رہےـ”

آخر میں ان لوگوں سے جو یہ کہتے ہیں کہ شاعری سے ہوتا کیا ہے دست بستہ عرض کرتے چلیں کہ شاعری سے حکومتوں کے تخت الٹ جاتے ہیں تاج اچھالے جاتے ہیں اور اگر آپ کے نزدیک یہ مبالغہ ہے تو کم از کم شاعری سے اقتدار کے پاؤں لرز جاتے ہیں ، دماغ مفلوج ہو جاتے ہیں اور دل کانپ اٹھتے ہیں ـ نتیجتا حکومت وقت کو الفاظ کو بھی مذہب کا لبادہ پہنا کر ایک جانچ کمیٹی بنانی پڑتی ہےـ اور اس پورے معاملے میں ہمارا اور ہماری نظم کا کیا بنتا ہے؟ اس سلسلے میں آپ شیفتہ کے اس مصرع پر اکتفا کریں "بدنام اگر ہونگے تو کیا نام نہ ہوگا!” چنانچہ آج تک ہم صرف اردو کے ایک مسلم شاعر تھے اور آپ تو واقف ہی ہونگے کہ اردو ادب میں "جس کو دیکھو شاعری میں لگ گیا” کے تحت مکھیوں کی پیداوار سے بھی زیادہ تعداد میں شاعر پیدا ہو رہے ہیں ایسے میں اردو کے قارئین کس کس کے ساتھ انصاف کریں؟ انصاف سے مراد یہاں صرف "یاد”رکھ لینا ہے ـ لیکن اب ہم قوم و مذہب، تاریخ و ادب سے بالاتر عوام کے شاعر ہیں اور ہمارا کلام انقلاب و احتجاج کا استعارہ!

رہے وہ لوگ "جو ہم دیکھیں گے” پر اس گمان میں مبتلا ہیں کہ صرف ہم دیکھیں گے اور وہ نہیں دیکھ پائیں گے اسلیے وہ خفا ہیں کہ دیکھنے سے انہیں کیوں محروم رکھا گیا وہ مصرعے کو یوں سمجھیں "لازم ہے کہ "تم” بھی دیکھو گے!”

بس نام رہے گا اللہ کا

جو غائب بھی ہے، حاضر بھی

جو منظر بھی ہے ناظر بھی!!

مزید پڑھیں

Urdutimes@123

ہندوستان اردو ٹائمز پر آپ سب کا خیر مقدم کرتے ہیں

متعلقہ خبریں

جواب دیجئے

Close