سیرت و شخصیات

خلد آباد کی خمیر سے اٹھی رفیع الدین رفیع کی شخصیت جس نے حرمت لوح و قلم کے پاسدار ی کی : عبدالوہاب حبیب

عبدالوہاب حبیب
9970073214

خلد آباد کو اولیائے کرام کی سرزمین کہا جا تا ہے جہاں سارے عالم سے ہجرت کر چکے سینکڑوں اولیائے کرام مدفن ہیں۔ انہی اولیائےکرام کے آمد و تربیت کی برکت تھی کہ خلد آباد بھی اپنے نام کی طرح صدیوں بعد بھی روحانیت سیراب کرتا ہے۔ اسی سرزمین میں تقریباً نصف دنیا پر حکومت کے باوجود خدا ترس میں لا ثانی بادشاہ اورنگ زیب بھی آرام فرما ہے۔ اورنگ زیب نے اپنے پیر و مرشد حضرت زین الدین شیرازی کے قریب دفن ہونے کی وصیت کی تھی اور اسی لیے انہیں بعد از مرگ احمد نگر سے خلد آباد میں منتقل کیا گیا تھا۔ اسی پر رونق خلد آباد کے خمیر سے اٹھا ایک شخص ‘رفیع الدین رفیق ’اب دوبارہ اسی مٹی کا حصہ بن گیا ہے لیکن اس دنیا ئے فانی میں اپنی مختصر سی زیست کو جس طرح انہوں نے بسر کیا وہ اسم با مسمی ثابت ہوئے۔ اپنے معطر وبلند کردار کے مالک رفیع الدین رفیق ہر کسی کےرفیق و مدد گار تھے۔ اردو ٹائمز سے وابستہ اس بیباک صحافی نے داعی اجل کو لبیک کیا کہا ۔۔ سارا شہر ویران سا ہو گیا۔ اقبال کے رخت سفر کو انہوں نے زندگی بھر اپنایا اور نگہ بلند ، سخن دل نواز اور جاں پرسوز کو اپنے فعال کارناموں سے ثابت کیا۔ رفیع الدین رفیق کہنے کو ممبئی اردو نیوز ( اردو ٹائمز )سے بڑے ادارے سے تین دہائیوں تک منسلک رہے جہاں انہوں نے بطور صحافی ایسا کوئی شعبہ نہیں چھوڑا جہاں اپنی قلم سے لوگوں کو متاثر نہ کیا ہوں۔ اپنے صحافتی پیشہ میں پوری محنت، ایمانداری، یکسوئی اور اخلاص کا جو درس انہو ں نے نئی نسل کو دیا اس سے ایسے کئی مخلص صحافی تیار ہوئے جو صحافتی اصولوں پر آنچ نہیں آنے دیتے ۔جو کسی کی ذات پر حرف نہیں اٹھاتے، جو تنقید بھی کرتے ہیں تو برائے اصلاح کرتے ہیں۔ رفیع الدین رفیق نے ذہنوں کی جس طرح حوصلہ افزائی کی وہ کسی اتالیق سے کم نہیں۔ اصلاح غرض کی خاطر غلطیوں پر انفرادی طور پر ٹوکتے، کسی خبر کے زاویہ نگاہ یا زبان سے متعلق صحافیوں کی رہنمائی کرتے۔ صحافت کے علاوہ ادب میں بھی ان کو شغف تھا۔ اکثر مشاعروں، کانفرنس، سیمناروں اور پروگرامس میں موجود رہتے۔ چند دن قبل اورنگ آباد میں نوجوان شعراء کرام کی حوصلہ افزائی کےلئے ایک مشاعرے کا اہتمام کیا گیا تو موصوف اولین صف میں بیٹھ کر ان نوجوانوں کی حوصلہ افزائی کرتے رہے۔ مشاعرہ کے بعد بھی انہوں نے جس طرح داد تحسین سےنسلِ نو کو نوازا وہ اُن شاعروں کےلئے کسی سند سے کم نہیں تھا۔ اتفاق سے اسی مشاعرہ میں میرے ہمراہ ایک دوست بھی تھا جس کی رفیع الدین رفیق سے پہلی بار ملاقات ہوئی تھی۔۔ رفیع الدین رفیق کی چند منٹ کی باتوں نے اس دوست کو اپنا گرویدہ بنا لیا ۔ اس دوست کو رفیع الدین رفیق کے رحلت کی خبر ہوئی تو اس نے اپنے رنج و غم کا اظہار کیا۔ رفیع الدین رفیق اردو صحافت میں ستون کی حیثیت رکھتے تھے۔ انہو ں نے اپنی قلم کا جس طرح سے حق ادا کیا شاید ہی عصر حاضر میں ایسا کوئی صحافی ہو ں جس نے پوری ایمانداری، بے باک، بے لاگ طور پر عوامی مسائل، مظلوموں کی آواز اور دردمندوں کی کیفیت بیان کی ہوں۔ خلد آباد ، اورنگ آباد ،احمد نگر سمیت مغلیہ تاریخ پر عبوریت رکھنے والا اس شخص نے اپنے قلم اور پھر ڈیجیٹل چینل کے ذریعہ دنیا تک ذرین تاریخ پہنچائی۔رفیع الدین رفیق جیسے سنجیدہ انسان کی گفتگو میں وہ سحر انگیز باتیں ہوتی تھیں کہ محو گفتگو کے بعد وقت کا پتہ نہیں چلتا۔ ہمیشہ مثبت اور تعمیری سوچ رکھنے والے اس شخص نے اپنے قلم سے بھی کبھی دل آزاری نہیں کی، کوریج میں کبھی مذہبی، ذاتی یا عصبی نا انصافی نہیں کی۔ خلد آباد سے ہونے اور ذرین شجرہ سے تعلق ہونے کے سبب وقف بورڈ کے معاملات میں انہیں دسترس تھی۔ صحافت کے علاوہ انہو ں نے جو خدمات ،فلاح انسانی کےلئے انجام دیں، وہ اس پر فتن ماحول میں ان کے کردار کی عکاسی کرتی ہہیں۔ صحافتی ذمہ داریوں کے باوجود وہ ہر سال پروفیشنل کورسیس میں داخلوں کےلئے وہ مہاراشٹر ہی نہیں بلکہ پورے ملک میں دورے کرتے، اتنے فعال تھے کہ ان کے ایک فون کال پر بچوں کے داخلہ سے لے کر ٹفن کا تک مفت اہتمام ہو جاتا۔ مہاراشٹر کا ایسا کوئی علاقہ نہیں جہاں سے انہوں نے ضرورت مند طلباء کی رہنمائی نہ کی ہوں۔ رفیق سر نام سے مشہور رفیع الدین رفیق یونیک فاؤنڈیشن چلاتے جس کا ایک ہی مشن تھا کہ اقراء باسم ربک الذی خلق کے حکم کو عام کیا جائے۔ طلباء کو جہاں لاکھوں روپیوں فیس ادا کرنے کے باوجود داخلہ نہیں ملتا ایسے موقع پر رفیع الدین رفیق اسکالر شپ کے ذریعہ انہیں مفت داخلہ دلواتے ۔ اس کام کےلئے انہو ں نے کبھی معاوضہ نہیں لیا جس کے سبب ہر سوسائٹی کا ذمہ دار کے ہاں ان کی قدر و منزلت تھی۔ مہاراشٹر کے ہر خطہ میں ان کے سینکڑوں چاہنے والے بستے ہیں۔ اخلاص کا یہ پیکر کورونا جیسی عالمی وبا میں کیونکہ خاموش رہتا؟ رفیع الدین رفیق نے رضائے الہی کی خاطر بے لوث ہو کر تگ و دو کرتے ہوئے پوری رازداری کے ساتھ ضرورت مندوں تک غذائی اجناس پہنچائی۔ وہ غریبوں کے چشم کشا تھے جو ہمارے آقا ﷺ اور صحابہ کرام کے بتائے گئے طریقہ پر انتہائی خموشی سے چشم پوشی کرتے تھے۔ رفیع الدین رفیق صحافت سے تعلق رکھنے، مختلف زبان پر دسترس رکھنے ، علمی سرمایہ ازبر ہونے کے سبب کسی سے مرعوب نہیں ہوئے بلکہ ان کی باتوں میں تجربوں کی جو کیمیا اور کشش ہوتی تھی وہ ہمکلام شخص کو اپنا گرویدہ بنا لیتی تھی۔ عام طور پر ایک صحافی کا دل تجربات کے سبب کافی مضبوط مانا جاتا ہے جو صرف اپنے قلم کے ذریعہ احساسات کی ترجمانی کرتا ہے ۔ وہ بڑے بڑے حادثوں پر بھی اپنا رنج و غم ظاہر نہیں کرپاتا لیکن جب رفیع الدین رفیق کے ارتحال کی خبر ہوئی تو کئی صحافیوں کو اشکبار دیکھا گیا ۔ حرمت لوح و قلم کا یہ پاسدار جو کسی بھی دنیاوی طاقت کے سامنے خاموش نہیں ہو سکتا تھا داعی اجل کو لبیک کہہ گیا تو اورنگ آباد ہی نہیں بلکہ مہاراشٹر کی صحافت میں ایک نا قابل تلافی خلا ء پیدا کر گیا جسے پر کرنا ممکن نہیں۔۔۔راقم الحروف نے اولیائے کرام ، صوفیان کرام کو تو نہیں دیکھا لیکن خلد آباد جیسی مٹی سے اٹھی اس شخصیت کو دیکھا جو عصر حاضر کے تقاضوں کو پورا کرتے ہوئے اسی مشن پر اپنی آخری سانس تک پابند رہا۔ اللہ رفیع الدین رفیق کی مغفرت فرمائے ، ان کے درجات بلند کرے ۔آمین

Urdutimes@123

ہندوستان اردو ٹائمز پر آپ سب کا خیر مقدم کرتے ہیں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

متعلقہ خبریں

Back to top button
Close
Close