سیرت و شخصیات

بہار کے اوّل عظیم مجاہد آزادی  شہید وارث علی (آخر کار مرکزی حکومت نے 164 سالوں بعد مجاہد آزادی وارث علی کو بہار کا پہلا شہید  تسلیم کیا) مضمون نگار:اسلم رحمانی

اسلم رحمانی
مقام: مجھولیا بچلہ ٹولہ ڈاکخانہ پارو ضلع مظفرپور بہار 
rahmaniaslam9@gmail.com

1857 تحریک آزادی میں نمایا کردار ادا کرنے والےمایہ ناز مجاہد آزادی بہار کے پہلے شہید وارث علی کی شہادت ناقابل فراموش ہے۔ قابل غور بات یہ ہے کہ ہندوستان کی آزادی کی کہانی اور تاریخ مسلمانوں کے خون سے لکھی گئی ہے۔ آبادی کے لحاظ سے کم تناسب کے باوجود جدوجہد آزادی میں مسلمانوں کی ایک کثیر تعداد نے نہ صرف بڑھ چڑھ کر حصہ لیا بلکہ اپنے وطن عزیز کی آزادی کو یقینی بنانے اپنی جانوں کے نذرانے بھی پیش کئے۔ یہ الفاظ کسی عام ہندوستانی، سیاسی رہنما یا پھر کسی مسلم عالم و قائد کے نہیں بلکہ ممتاز صحافی و ادیب آنجہانی خشونت سنگھ نے کہے تھے۔
آپ کو بتادیں کہ دہلی کی انڈیا گیٹ پر تقریباً 95,300 مجاہدین آزادی کے نام تحریر کئے گئے ہیں جن میں سے 61,945 مسلمان ہیں۔ اس کا مطلب یہ ہوا کہ ہندوستان کی آزادی کے لئے انگریزوں کے خلاف اُٹھ کھڑے ہونے، لڑنے اور قربانیاں پیش کرنے والوں میں 65 فیصد مسلم مجاہدین آزادی تھے۔
جدوجہد آزادی میں مسلمانوں نے سب سے زیادہ قربانیاں دیں لیکن ان کی قربانیوں کو جان بوجھ کر چھپادیا گیا یا عوام کی نظروں سے اوجھل کردیا گیا۔ انہیں میں سے ایک مایہ ناز مجاہد آزادی شہید وارث علی تھے جنہیں برطانوی راج کے خلاف سازش کے الزام میں  پھانسی دی گئی۔ اس طرح وہ انگریز حکومت کے خلاف جدوجہد کی پاداش میں پھانسی پر چڑھ جانے والے بہار کے پہلے مجاہد آزادی بن گئے۔ آخر کار ترہت بہار کے وارث علی کی قربانی کو تسلیم کرتے ہوئے 164 سال بعد وزارت ثقافت اور ہندوستانی تاریخی تحقیقاتی کونسل کے ذریعہ جاری کردہ ملک کے شہداء کی نئی فہرست میں وارث  علی کا نام بہار کے شہدا میں پہلے نمبر پر شامل کیاگیا ہے۔ اس فیصلےنے بہار کی تاریخ کو ایک نئی اونچائی دی ہے۔ مرکزی حکومت کے ذریعہ شائع کتاب ڈکشنری مارٹیئرس (انڈیاس فریڈم اسٹرگل 1947-1857 ) کی چوتھی جلد میں وارث علی کو بہار کے اول شہید کے طورپر ذکر کرنے کے ساتھ ہی مرکز کی طرف سے بہار کے پہلے شہید  وارث علی کی شہادت پر مرکز کی تصدیقی مہر لگ گئی  ہے۔یہاں یہ واضح ہو کہ ترہت کے گمنام مجاہدین آزادی کی قربانیوں اور شہادتوں کو شناخت دلانے نیز نئی نسل کو اپنے اسلاف سمیت وارث علی کی عظیم تاریخ سے واقف کرانےو انہیں حکومتی سطح پر شہید کا درجہ دلانے میں  "عزم” نامی ادبی تنظیم  کے روح رواں رشحات قلم صحافی جناب آفاق اعظم اور ان کی ٹیم کے معزز ہمدردان قوم و ملت جناب جمیل اختر،ڈاکٹر سید علی مرتضی، حاجی امتیاز احمد، ڈا کٹر منصور معصوم،صحافی اخلاق احمد، صحافی سید ماجد حسین کا اہم کردار ہے۔ جن کی سالوں کی جدوجہد کے بعد 7 جنوری 2017 کو اس وقت کے ڈی ایم دھرمیندر سنگھ نے ترہت کے شہدا کی شناخت کے لئے جنرل ایڈمنسٹریشن ڈیپارٹمنٹ کو اپنی منظوری بھیجی تھی۔ اس کا اعتراف کرتے ہوئے محکمہ نے تحقیقات کیں۔ تحقیقات میں وارث علی کا نام ترہت حلقہ(بہار) میں  جنگ آزادی میں شہید ہونے والے مجاہدوں میں پہلے آیا۔

شہید وارث علی کی شہادت تاریخ کے آئینے میں۔

شمالی بہار کے گمنام مجاہدین آزادی پر تحقیق کرنے والے مظفرپور ضلع پاروتھانہ حلقہ مجھولیا جنوبی ٹولہ کے معروف صحافی آفاق اعظم نے اپنے کتابچہ "تحریک آزادی 1857 میں بہار کے پہلے شہید وارث علی ” میں بہار کے معروف تاریخ داں ڈاکٹر کےکے دتّا سابق وائس چانسلر پٹنہ یونیورسٹی، تاریخ مگدھ کے مصنف مولوی فصیح الدین بلخی عظیم آبادی،پیرعلی کتاب کے مصنف شاد عظیم آبادی، غدر ان انڈیا کے مصنف اشوک انشومن و شری کانت کے حوالے سے شہید وارث علی کا تفصیلی ذکر کرتے ہوئے لکھتے ہیں کہ مجاہدین آزادی کے بلند حوصلے سے خوف زدہ انگریزی حکومت نے 1853ء  میں فیصلہ کیا کہ کہ جیلوں میں قیدیوں کو ملنے والے پیتل کے لوٹے ضبط کر لیے جائیں گے اور انہیں مٹی کے برتن لوٹے وغیرہ ہیں استعمال کرنے ہوں گے۔ اس فیصلے نے آرہ اور مظفر پور کے جیلوں میں بند قیدیوں کے غصے میں بے پناہ اضافہ کر دیا۔ ہندو قیدیوں کو پیتل سے خاص مذہبی عقیدت تھی لہذا اس قدم کو مذہبی جذبات کو ٹھیس پہنچانے کے مترادف سمجھا -پیتل کے لوٹے کو ہٹانے کے فیصلے پر آرہ اور مظفر پور کے قیدی بھڑک اٹھے اس بغاوت میں عام لوگ بالخصوص کسان بھی بڑے پیمانے پر شامل ہوگئے۔مظفر پور کے سڑکوں پر رعیت  اور شہر کی عام آبادی نکل آئی اور پورے خلقت جیل کی جانب بڑھنے لگی۔ جیل پر حملہ کرکے قیدیوں کو فرار کر دیا ۔اس تحریک کو "لوٹا بغاوت” کا نام دیا گیا۔ اس تحریک کی تیاری خفیہ طورپر دراصل مظفرپور ضلع کے بڑوراج  پولیس چوکی کے جمعدار وارث علی نے کی تھی۔
وارث علی کو 1857 تحریک آزادی میں بہار کے سب سے پہلے شہید ہونے کا اعزاز حاصل ہے۔یہ پہلے بہاری مجاہد آزادی تھے جسے انگریزوں نے 06جولائی 1857 میں "لوٹا بغاوت” بغاوت کی سازش کی پاداش میں پھانسی دی تھی۔
وارث علی ترہت حلقہ مظفرپور ضلع کے بڑوراج پولیس چوکی میں جمعدار تھے۔ لیکن ان کی وفاداری دہلی کے سلطنت کے ساتھ تھی انہیں ہی ملک کا حکمراں مانتے تھے۔انگریزوں کے متعلق ان کا نظریہ تھاکہ وہ لوگ غاصبانہ طریقہ سے ہمارے ملک پر قابض ہیں ۔یہی وجہ ہے کہ وہ ضلع کے مجاہدین آزادی کی ہر طرح سے مددکیا کرتے تھے۔
پٹنہ یونیورسٹی کے سابق وائس چانسلر پروفیسر کےکے دتّا،بہار یونیورسٹی شعبہ تاریخ کے سابق صدر ڈاکٹر سیتا رام سنگھ و معروف تاریخ داں رام چندر رہبر نے اپنے کئی تحقیقی خطوط میں ترہت گجٹیئر کے مطابق وارث علی کی شہادت اور ان کے تحریک آزادی میں متحرک وفعال تعاون کو واضح کیا ہے ۔
تحریک آزادی میں وارث علی کے کردار پر تواریخ کی کتابوں میں ان کی عدیم المثال قربانیوں کا تذکرہ موجود ہے۔ کی ترہت پر قابض انگریز جو یہاں نیل کی کاشتکاری کرواتے تھے اور انگریزی حکومت کے اشارے پر  عام عوام پر ظالمانہ طریقے سے حکومت کرتے تھے۔1857 میں جب پورے ملک میں انگریزوں کے خلاف بغاوت کا طوفان شروع ہواتو۔ ترہت کے متعلق وارث علی پٹنہ کے عظیم مجاہد آزادی مولوی علی کریم کو خط لکھ کر یہاں کے حالات سے روبرو کراتے تھے۔واضح ہو کہ بہار میں یہ بغاوت مولوی علی کریم کی قیادت میں ہواتھا ۔وہ پٹنہ ضلع کے ڈمری موضع کے زمیندار تھے۔
تاریخ داں اشوک انشومن اور شری کانت نے اپنی کتاب "غدر ان ترہت ” میں وارث علی سے متعلق خطوط جو انہوں نے علی کریم کو لکھا تھا اور اس وقت پٹنہ کے کمشنر ولیم ٹیلر نے حکومت بنگال کے سکریٹری اے آر ینگ ،لیفٹنٹ گورنر آف بنگال ،فریڈ جیس ہیلیڈ کو ارسال کیے گئے خطوط کے مطابق وارث علی کو 06 جولائی 1857 کو(داناپور چھاؤنی میں) پھانسی دینے کی تصدیق کی ہے۔
وارث علی کے تعلق سے "شاد عظیم آبادی ” نے اپنی کتاب "پیر علی” میں اس طرح وضاحت کیاہےکہ پیر علی 1857 کے جنگ آزادی میں پٹنہ کے مجاہدین آزادی کے سربراہ تھے۔ ان کے سب سے قریبی دوست وارث علی ترہت پولیس میں جمعدار تھے۔جو دہلی کے رہنے والے تھے۔انہیں بغاوت کے الزام میں (مظفرپور ضلع اس وقت کے پارو تھانہ حلقہ کے بڑوراج پولیس چوکی)سے 23جون 1857 کو گرفتار کرکے داناپور چھاؤنی میں قید کردیاگیا۔وارث علی کی گرفتاری کی خبر پیر علی کو سردار ہزاراسنگھ نام کے ایک فوجی سپاہی سے ملی۔ہزارا سنگھ دہلی کے رہنے والے تھے۔اس وقت وہ میجر ریٹر کی سکھ فوج کی ٹکڑی میں ملازم تھے۔اور افیم گودام کی نگرانی کے لیے گلزار باغ میں ڈاکتر لائل کےساتھ رہتےتھے۔ہزارا سنگھ وارث علی کے دوست تھے۔ہزارا سنگھ سے پیر علی کا تعارف وارث علی نے پہلے ہی کرا دیاتھا۔مظفرپور میں وارث علی کو گرفتاری کےبعد 25/جون کو داناپور چھاؤنی لایاگیا تب پیرعلی تجارت کا بہاناکرکے ہزارا سنگھ کے معرفت داناپور چھاؤنی پہنچے ۔وہاں ہند نژاد سپاہیوں کو تحریک آزادی میں شامل ہونے کے لیے متاثر کیا۔وہاں معلوم ہواکہ وارث علی ایمانداری اور حب الوطنی کے تئیں بہت متشدد ہیں اور بڑے جذباتی انسان ہیں۔اس وقت پٹنہ سمیت پورے بہار میں بغاوت کا ماحول تھا ۔02/جولائی 1857کو ہزارا سنگھ نے پیرعلی کو ان کے کتاب کی دکان پر آکر بتایاکی پورے شہر میں انگریز بھاگ کر کمشنر کے چھجوباغ کوٹھی (جہاں آج پٹنہ ریڈیو اسٹیشن ہے) میں پناہ لیےنے آگئے ہیں صرف ایک رومن کیتھولک پادری ،پادری کی ہویلی میں رہ رہاہے۔اور افیم کے گودام میں ڈاکٹر لائل اپنی بیوی بچوں کے ساتھ رہ رہاہے ۔اس کے علاوہ ایک دو یوروپین ملازم سکھ فوجیوں کےساتھ گلزار باغ فیکٹری میں رہ رہاہے ۔03جولائی سے پیر علی کی قیادت میں سبز پرچم لیے قریب دوسو لوگوں نے چرچ پر حملہ بول دیا۔ پیرعلی نے ڈاکٹر لائل کو گولی مارکر قتل کردیا۔اسی جرم میں پیر علی کی گرفتاری ہوئی اور انہیں پھانسی دے دیاگیا۔
وارث علی کی گمنام تاریخ کو زندہ کرنے کے لیے آفاق اعظم نے اپنے ہم خیال احباب کے ساتھ ملکر عزم نامی تنظیم کے ذریعے 2005 میں تحقیق شروع کی جس کے تحت بڑوراج تھانہ صدر آر کے شرما نے شہید وارث علی کی شہادت کی تاریخ سے واقف ہونے کےبعد وارث علی کی یاد میں2011 میں بڑوراج تھانہ کے سامنے ایک چبوترا تعمیر کرایا۔اسی طرح شہید وارث علی کی یوم شہادت پر 2012 میں ڈاکٹر سید علی مرتضی کیمپس بھگوان پور میں عزم کے زیر اہتمام منعقد تقریب سے خطاب کرتے ہوئے اس وقت مظفرپور کے آئی جی،سابق ڈی جی پی بہار گوپتیشور پانڈے نےشہید وارث علی کی شہادت کو خراج عقیدت پیش کرتے ہوئے کہا تھاکہ میں کوشش کروں گاکہ پولیس محکمہ میں شہید وارث علی کے نام سے موسوم میڈل کا ایجاد کیاجائے۔ جس سمت پہل ہونی چاہیے۔و ہیں وارڈ نمبر دس کی وارڈ ممبر رضوانہ خاتون کے رہائش گاہ ماڑی پور میں منعقد تقریب میں  مظفرپور کی میئر ورشا سنگھ نے یہ وعدہ کی تھی کہ اس عظیم مجاہد آزادی شہید وارث علی کے نام پر مال گودام چوک سے موتی جھیل تک سڑک کے نام کا کتبہ لگایا جائےگا اس وقت نگرنگم کی اسٹینڈنگ کمیٹی سے یہ تجویز پاس بھی ہوگیا واضح ہو کہ 1965 کی رشید آج بھی موجود ہے جس میں مظفرپور اشٹیشن روڈ کانام”شہید وارث علی ہے۔ نیز آج بھی اسٹیشن کے صدر گیٹ کے سامنے شمال کی جانب جمیل اختر صاحب کے مسلم ہوٹل کے بورڈ پر شہید وارث علی روڈ نام درج ہے۔لیکن عام عوام اس سے ناواقف ہے اور سرکاری انتظامیہ کی غفلت سے عظیم مجاہد آزادی کا نام رجسٹر تک ہی محدود ہے۔ وارث علی کے یوم شہادت پر بہار یونیورسٹی کے احاطہ ایل ایس کالج کے کانفرنس ہال میں منعقد تقریب میں بہار یونیورسٹی کے سابق وائس چانسلر امیریندر یادو، بہار یونیورسٹی شعبہ تاریخ کے سابق صدر ڈاکٹر اشوک انشومن نے بھی حکومت سے مطالبہ کیاتھاکہ وارث علی کو شہادت کادرجہ دیاجائے۔ 
صحافی آفاق اعظم نے خوشی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ شہید وارث علی کو شہادت کادرجہ دلانے اور انہیں شناخت دلانے کی عزم کی تحریک کو انصاف منچ اور سی پی آئی ایم ایل نے اول دنوں سے نمایاں طور پر تعاون کیاہے۔ انہوں نے کہا کہ جس وقت دنیا کورونا وباء سے متاثر تھا۔ لوگ خوف و ہراس میں مبتلا تھے ایسے نازک ترین دور میں انصاف منچ کے ریاستی صدر سورج کمار سنگھ، ضلعی صدر فہد زماں، ریاستی ترجمان اسلم رحمانی، اکبر اعظم صدیقی، محمد اعجاز عرف ببلو، ریاض خان،محمد احتشام رحمانی، کامران رحمانی وغیرہ کی کاوش سے انصاف منچ بہار کے ریاستی نائب صدر ظفر اعظم کے رہائش گاہ برہمپورہ،نزد قلعہ چوک واقع قلعہ میدان میں 6/جولائی 2020کو حکومتی ہداہات پر عمل کرتے ہوئے۔ وارث علی کا یوم شہادت منایاگیا۔ اس قبل بھی بہار کے عظیم مجاہد آزادی مولانا شفیع داؤدی صاحب کے رہائش گاہ شفیع منزل موتی جھیل میں بھی شہید وارث علی کی یوم شہادت پر تقریبا کا انعقاد ہوتا رہاہے۔ ذرائع کے مطابق 2017 میں مرکزی حکومت نے شہید وارث علی کا مجسمہ لگانے کے لیے خطیر رقم جاری کیا تھاکہ جس کا استعمال اب تک نہیں ہوسکا ہے۔ اب وقت کا تقاضا ہے کہ اس عظیم مجاہد آزادی کی قربانی  سے دنیا کو روبرو کرانے کے لیے حکومت کی جانب سے عملی اقدام کیے جائیں تاکہ نئی نسل ان کی عظیم شہادت سے سبق حاصل کر ایک نئی تاریخ رقم کر سکیں ۔

Urdutimes@123

ہندوستان اردو ٹائمز پر آپ سب کا خیر مقدم کرتے ہیں

Leave a Reply

متعلقہ خبریں

Back to top button
Close
Close