سیرت و شخصیات

مدارس اسلامیہ اورحضرت علی میاں : ہمایوں اقبال ندوی،ارریہ

ملک میں مدراس اسلامیہ کانظام چوپٹ ہوکر رہ گیا ہے،لاک ڈاون میں سب سے زیادہ متاثر مدارس ہی ہوئے ہیں، حکومت وقت کی مدارس دشمنی بھی طشت از بام ہوچکی ہے،آسام کی ریاستی حکومت باضابطہ ایک بل لیکر آئی ہے،اسمیں امداد یافتہ مدارس کو بند کرنے جارہی ہے۔بقیہ وہ مدارس جو نظامیہ ہیں، اپنے نظم وانتظام میں خود مختاراورآزاد ہیں، انہیں بھی پابند سلاسل کرنے کی کوشش اس قانون کے ذریعے کی گئی ہے،اس موقع پر اہل مدارس کی ذمہ داری دوگنی ہوجاتی ہے،ایک مدارس اسلامیہ کی بقاوتحفظ کی،تو دوسری مذہب اسلام کی حفاظت واشاعت کی ہے،مدارس کو کسی قسم کا نقصان پہونچنا،اس کاصاف مطلب اسلام اور تبلیغ اسلام پر کاری ضرب ہے،حضرت علی میاں رح نے ۱۲/اگست ۱۹۷۲ءکی شب کو دارالعلوم دیوبند کے دارالحدیث میں خطاب کرتے ہوئے یہی کہا تھا کہ دارلعلوم کا سب سے بڑاطرہ امتیاز وہ دین کی حمیت،اور اسلام کی حفاظت کا جذبہ ہے”مولانا کا یہ کہنا سوفیصد صحیح اور درست ہے،اسمیں قیل وقال کی گنجائش نہیں ہے،یقینا مدارس اسی لئے قائم کئے گئے ہیں ،یہی مقاصد تمام مدارس اسلامیہ کی بنیاد اور اساس ہیں،حضرت علی میاں رح کی نظر میں مدرسہ اسی کا نام ہے جس کا شجرہ نسب صفہ نبوی پر جاکر ختم ہو،اور مسجد جو صحیح النسب وہی کہلائی جا سکتی ہے جس کا شجرہ نسب کعبہ ابراہیمی پر جاکر تمام ہو،اس کے برعکس وہ مسجد مسجد ضرار ہے،اور وہ مدرسہ نہیں بلکہ انسانیت کی قتل گاہ ہےجس کا نسب صفہ نبوی پر جاکر ختم نہیں ہوتا ہے،اس سے یہ بات صاف ہوجاتی ہے کہ اشاعت دین اور حفاظت دین ہی مدارس کی بنیاد اور اساس ہے،اس راہ سے جو بھی بچل جاتا ہے وہ مدرسہ نہیں کہلاتاہے،وطن عزیز کی تاریخ میں مدارس اسلامیہ نے یہ دو کارہائے نمایاں بحسن وخوبی انجام دئیے ہیں،یہی وجہ ہے کہ اسلام ومسلمان مخالف طاقتیں مدارس اور اہل مدارس کے خلاف برسرپیکار رہی ہیں اور اس عنوان پر کوئی بھی موقع ضائع ہونے نہیں دیتی ہیں،اس کی زندہ مثال مذکورہ واقعہ یے اس کے ذریعہ مدارس کی کمر توڑنے کی کوشش کی گئی ہے،ایسے موقع پر ہمیں کیا لائحہ عمل اختیار کرنا چاہئے اس پر غوروفکر کی ضرورت ہے،حضرت علی میاں رح نےیہ نہایت اہم ذمہ داری بھی ایک عالم پر ڈال دی ہے،وہ ایک عالم کو قبلہ نما قرار دیتے ہیں اور کہتے ہیں کہ: ایک عالم جو باضمیر باعقیدہ،با ایمان اور باحوصلہ اور باہمت ہوا کرتا ہے،جو اس ضمیر فروشی،اصول فروشی اور اخلاق فروشی کے دور میں روشنی کا مینار کی طرح قائم رہتا ہے،وہ کہیں نہیں جاتا اپنی جگہ کھڑا ہے،راستہ بتاتا ہے،جیسے قبلہ نما کہ آپ کہیں ہوں وہ آپ کو قبلہ بتادے گا،ہندوستان میں بتائے گا،دوسرے ملک میں بتائے گا،پہاڑ پر رکھیں تو بتائے گا،پل پر رکھیں تو بتائے گا،یہ عالم کا کام ہے کہ ہر زمانے میں ہر جگہ قبلہ نمایے۔
گویا پوری ذمہ داری حضرت کے بقول ایک عالم کی بنتی ہے جو مشکل ترین حالات میں صراط مستقیم کی نشاندہی اور رہبری کرنے کا اہل ہے،اسطور پر موجودہ حالات میں علماء کرام کے لئے بڑی مسئولئت سے بھری اور نازک گھڑی ہے،اور مولانا مرحوم کی یہ بات حرف بہ صادق آتی ہے،علماء طلباء سے فرماتے ہیں:”آپ یہاں سے مدرس بن کر نکلیں،مبارک،آپ علمی متون کے شارح ہوں،مبارک،آپ واعظ وخطیب ہوں،مبارک،آپ کتابوں کے مصنف ہوں،مبارک،میں بھی اس کا گنہگار ہوں،لیکن اس وقت زمانہ کواس سے زیادہ کسی اور چیز کی ضرورت ہے،اس وقت زمانہ کو ان مردان کار کی ضرورت ہے،جو اس نئے دور کو ایک نئی فکری قیادت،ایک نیا دینی اعتماد،ایک نئی روحانی واخلاقی قوت عطا کرسکیں،اگر ایسا نہ ہوا تو ہندوستانی مسلمانوں کے لئے بڑا خطرہ ہے،اور اس ملک کے لئے بھی،آج زمین ہمارے پاوں تلے نکلتی جارہی ہے،آج ہم جس زمین پر کھڑے ہوئے ہیں،اور جس پر دینی وعلمی مرکزوں کے قلعے تعمیر کررہے ہیں،وہ کوئی پتھر کی چٹان یا مسطح میدان نہیں ہے،وہ ریت کا ایک تودہ ہے،جس کے ذروں کو ہواوں کے طوفان اڑارہے ہیں،اورجو برابر ہمارے نیچے سے کھسک رہی ہے،یہ وہی زمین ہے جس کو قرآن نے "كثيبا مهيلا”کہا جاتا ہے”آج کی تاریخ میں بابری مسجد ہم سے چھین لی گئی ہے،علاوہ ازیں دیگر مساجد بھی زد پر ہیں،اب مدارس کی طرف منظم کوشش کے ذریعے قانون کا سہارا لے کر پیش رفت شروع ہے،ان دینی قلعوں کو ہم سے چھین لینے اور انہیں بے اثر کردینے کی باضابطہ سرکاری کوشش ہے۔انہیں حالات
کی سنگینی کا ادراک واحساس مولانا نے قبل از پیشتر کیا ہے ، اور طالبان وعلوم نبوت کو خبردا کیاہے کہ زمانہ بہت نازک ہے،اور زمانہ بہت تیزی کے ساتھ بدل رہا ہے،بلکہ بدل گیا یے،اور اس کے بعد بھی وہ ایک جگہ رکا ہوا نہیں ہے،بلکہ بدلتا جارہا ہے،اس لئے ٹھنڈے دماغ سے اور بہت صبر وسکون اور سنجیدگی کے ساتھ غور وفکر کرنا چاہئے کہ ان کا مستقبل کیا ہے”۔وطن عزیز میں مدارس اسلامیہ کے حوالے سے جن حملوں کاہمیں آج سامنا ہوا ہے
حضرت علی میاں رح نے ان فتنوں سے ہمیں پہلے ہی خبردار کردیا ہے، وہ کہتے ہیں کہ:حضرات!اس زمانہ کا فتنہ اور چیلنج کیا ہے؟اسلام کو اس کی جدا گانہ تہذیب،اس کی مخصوص معاشرت،اس کے عائلی قانون،اس کے نظام تعلیم،اس کے زبان وادب اور رسم الخط،اور اس کے پورے ورثہ سے الگ کردیا جائے،اور اسلام چند عبادات،اور چند رسوم وتقریبات کا مجموعہ بن کر رہ جائے،میں نہیں جانتا کہ کل کیا ہو،لیکن پھر بھی اندازہ ہےکہ شایدابھی یہ مرحلہ دور ہے کہ مسلمانوں سے کہا جائے کہ آپ کو نماز پڑھنے کی اجازت نہیں ،آپ کو کوئی خاص عقیدہ اختیار کرنے کی اجازت نہیں،آپ روزہ نہیں رکھ سکتے،آپ زکوة نہیں دے سکتے،ہر چیز سے بے تعلقی اختیار کرلیں جو ان میں ایک الگ ملت اور ایک مستقل تہذیب کا وارث ہونے کا احساس پیدا کرتی ہے "۔
آج ون نیشن ون الیکشن کی بات سنکر ہمارے کان کھڑے نہیں ہورہے ہیں،جبکہ اس کے پس پردہ ارایس ایس کی تھیوری بولتی ہے،بات کہیں سے نکلتی ہے اور کہیں پہونچ رہی ہے،آپ کا مطالعہ وسیع ہے اس کا ہمیں انکار نہیں ہے،مگر اقتدار کی بڑی سے بڑی اور اونچی سے اونچی کرسی پر بیٹھنے والا صرف اور صرف ار ایس کے کتابچہ کا مطالعہ کرتا ہے اور اسی سے ملک کو چلانے جارہا ہے اور چلا بھی رہا ہے،اس کتابچہ میں اسلامی تشخص کو پامال کرنے کا واحد حل مدارس اسلامیہ کو ختم کرنا ہے، اس کے بغیر انہیں اپنے ناپاک عزائم میں ناکامی ہی ناکامی نظر آتی ہے ۔
ہمارے بہت سے بھائی ان سرکاری اعدادوشمار اورکھوکھلے دعووں میں بہ جاتے ہیں کہ،اب ملک میں فسادات کم ہوگئے ہیں،ماضی کی طرح مسلمانوں کا یک طرفہ قتل عام نہیں ہورہا ہے،اسے موجودہ وقت کی حصولیابی کہتے ہیں،اس معاملے میں حضرت علی میاں کی پیشن گوئی ملاحظہ کرلیجئے:”یہ فرقہ وارانہ فسادات تو ایک مریض کی ہذنانی کیفیت،اور ہسٹریا کا ایک دورہ ہے،جو ہمیشہ نہیں ریے گا،آپ دیکھ رہے ہیں کہ وہ بہت کم ہو گئے ہیں،اور میں پیشن گوئی کرتا ہوں کہ وہ اور بھی کم ہوجائیں گے،میرے نزدیک یہ اصل خطرہ نہیں ،اصل خطرہ نسل کشی کا نہیں،معنوی ارتداد کا ہے،ذہنی وتہذیبی ارتداد،یہ دیوار کا نوشتہ ہے،جس کو ہر ایک پڑھ سکتا ہے،آج علی گڑھ کا معاملہ ہے،کل دارالعلوم دیوبند اور ندوہ العلماء کی باری آسکتی ہے” ۔
مولانا مرحوم کی مذکورہ تحریر علماء کرام سے یہ تقاضا کرتی ہےکہ مدارس سے اس امت کا رابطہ کسی بھی حال میں کمزورنہ ہونے دیں،ورنہ خطرہ معنوی ارتداد کا ہے،ابھی کوروناوائرس کی وجہ کر تقریباسال بھر سے مدارس بند ہیں،یہ یقینا تشویش کی بات ہے،اہل مدارس کو اس پر بھی غور وفکر اور لائحہ عمل کی شدید ضرورت ہے،اقبال علیہ الرحمہ نے ایمان والے کی یہ پہچان قرآن وحدیث کی تعلیم کشید کرتے ہوئے اپنے شعر میں یوں بیان کی ہے،ع:
جہاں میں اہل ایماں صورت خورشید جیتے ہیں
ادھر ڈوبے ادھر نکلے ادھر ڈوبے ادھر نکلے
اپنی افادیت کو ہرحال میں جاری وساری رکھنا ہی ایمان ہے،اور مدارس اسلامیہ کے اس چشمہ کو جاری رکھنا اس کی سب سے بڑی افادیت ہے،اللہ جزائے خیر دے دارالعلوم ندوہ العلماء کے منتظمین واساتذہ کرام کو جنہوں نے اس نازک گھڑی میں بھی اپنے نونہالان کی مکمل دستگیری کی ہے،اور اپنا فیض جاری وساری اور عام وتام رکھا ہے،میری معلومات کے مطابق ششماہی کا نصاب پورا ہوچکا ہے،آن لائن تعلیم کے ذریعے ملک اور بیرون ملک اپنے مستفیدین کا وقت ضائع ہونے سے بچالیا ہے،اس پر ان جملہ حضرات کو مبارکباد ہے،اور اس تحریر کے ذریعے بقیہ دیگر ذمہ دارن مدارس سے گذارش ہے کہ اس پر غور کرنے کا وقت نہیں رہا ہے عمل کرنے کی ضرورت ہے ۔

ہمایوں اقبال ندوی،ارریہ
رابطہ،9973722710

Urdutimes@123

ہندوستان اردو ٹائمز پر آپ سب کا خیر مقدم کرتے ہیں

Leave a Reply

Back to top button
Close
Close