سیرت و شخصیات

یو م ولادت حضرت شیخ الاسلام بانی جامعہ نظامیہ: از: محمد عابد حسین نظامی

محمد عابد حسین نظامی
کامل الفقہ جا معہ نظامیہ،ایم اے اسلامیات مولانا آزاد ،ناظم تحریک فیضان انوار اللہؒ

اللہ تبارک وتعالیٰ کا شکر احسان عظیم کہ اُس نے ہمیں اپنے نبی مکرم ﷺ کی اُمت بابرکت میں پیدا فرماکر حضرت شیخ الاسلام انواراللہ فاروقی رحمۃ اللہ علیہ کے مشرب سے وابستہ فرمایا۔
حضرت شیخ الاسلام والمسلمین شہزادہ فاروق اعظم عارف باللہ نورنگاہ امداداللہ استاذاعلی حضرت غفران مکان ومحدث دکن مجدددین وملت معلم سنیت الحاج الحافظ الامام الشاہ ابوالبرکات محمد انوار اللہ انورؔ چشتی قادری جمیع السلاسل بانی جامعہ نظامیہ علیہ الرحمۃ والرضوان کی178 ویں یوم ولادت۔
ولادت باسعادت کا واقعہ:۔
بانی جامعہ نظامیہ کے مرید وخلیفہ جامعہ نظامیہ کے مفتی اول حضرت العلامہ مولیٰنا محمد مفتی رکن الدین صاحب قبلہ رحمۃ اللہ علیہ نے اپنی تصنیف لطیف
’’ مطلع الانوار‘‘ میں بانی جامعہ کے احوال تحریر فرماتے ہوئے رقم طراز ہیں کہ آپ کی ولادت ۴ ربیع الثانی ۱۲۶۴؁ھ بمقام ناندیڑ(مہاراشٹرا)میں ہوئی ،آپ کی والدہ مرحومہ ولادت سے پہلے کا واقعہ بیان فرمائی ہیں کہ جب شادی کے بعد ایک عرصہ تک مجھے کوئی اولاد نہیں ہوئی تو میں نے یتیم شاہ صاحب نامی ایک مجذوب کی خدمت میں کچھ میوہ بھیج کر دریافت کروایا کہ آیا مجھے اولاد ہوگی یا نہیں۔شاہ صاحب نے کہلا بھیجا کہ’’لڑکا ہوگا اور عالم وفاضل ہوگا‘‘اُس کے بعد جب آثار حمل دکھائی دیے تو میں نے خواب میں حضرت سرداردوعالم ﷺ کو تلاوت کلام مجید فرماتے ہوئے دیکھا۔
ابتدائی تعلیم:۔
مولانا کے والد ماجد نے معمولی تعلیم کے بعد سات(۷)سال کی عمر میں حفظ قرآن مجید کے لیے آپ کو حافظ امجد علی صاحب نابینا کے تفویض کیا آپ نے گیارہ(۱۱)سال کی عمر میں حفظ کلام پاک سے فراغت حاصل کرکے ابتدائی تعلیم اپنے والد ماجد سے پائی۔فقہ کی کچھ کتابیں مولوی فیاض الدین صاحب اورنگ آبادی سے بھی پڑھی ہیں۔مولانا عبد الحکیم صاحب فرنگی محلی(صدردارالعلوم)اورمولاناعبد الحئی صاحب فرنگی محلی(علہیما الرحمہ)سے فقہ اورمعقول کی تکمیل کی۔فن تفسیر شیخ عبداللہ یمنی سے حاصل کیااورحدیث کی سند بھی ان ہی بزرگ سے لی۔
معززقارئین محترم رب کعبہ جب بھی اپنے مقرب نفوس قدسیہ کو اِس روئے زمین پر جلوہ گر فرماتا ہے تو اُس کی علامتیں یعنی نشانیاں بھی ظاہر فرماتا ہے تاکہ خواص کے علاوہ عوام الناس کو بھی پتہ چلے کہ اللہ پاک کا خاص فضل وکرم ہم پر سایہ فگن ہو رہا ہے چاہے وہ کسی کی شکل میں ہو
(یعنی اؤلیا،اتقیاء،صحابہ،شھدا،انبیاء ) بانی جامعہ نظامیہ علیہ الرحمۃ والرضوان کا عشق ایسا کہ جس کی دلیل کوئی دے ہی نہیں سکتا۔اللہ رب العزت کے وہ مقرب بندے سامنے تو سامنے بلکہ جس کا وجود ابھی دنیا میں ہوا ہی نہیں اُن چھپی باتوں کو بھی جان لیتے ہیں اِس لئے ہم اہلسنت وجماعت کے ماننے والے اللہ کے اِن مقرب وانعام یافتگان سے محبت کرتے ہیں اور اُن کو وسیلہ بناتے تا کہ اِن کے صدقہ اللہ پاک ہماری دعاؤں کو سن لے ۔ورنہ ہمارے اعمال اُس قابل نہیں ہے ۔تو بانی جامعہ نظامیہ کے عشق رسول کی دلیل خود اللہ کے مجذوب بندے نے بتائی اور آپ کے نام کا بھی انتخاب فرمایا ۔پیارے آقا ﷺ اور اللہ جل مجدہ کے درمیان آپ کا اسم مبارک رکھاگیا،یعنی ’’محمد انواراللہ‘‘اللہ تبارک وتعالیٰ اپنے بندوں کی بات سن لیتا ہے اُس کو رد نہیں فرماتا بلکہ یہ بھی واضح رہے کہ یہ بزرگان دین بھی اپنی جانب سے کچھ نہیں بولتے جو خدا کا حکم ہوتا ہے وہی کہتے ہیں۔جیسے حضرت یتیم شاہ ولی مجذوب نے حضرت بانی جامعہ کے لئے جو پیشن گوئی فرمائی وہ مکمل طور پر ثابت ہوئی ،آج بھی وہ مشن جاری وساری ہے ،تو حضرت بانی جامعہ نظامیہ علیہ الرحمہ نے اللہ اور اُس کے رسول مکرم ﷺ سے والہانہ محبت کرتے ،اُسی محبت کاجذبہ ایثار ہے کہ آپ نے جو جو ادارے قائم فرمائے سب توکل علی اللہ کی بنیاد پر کام کئیے کررہے ہیں اورکرتے رہینگے۔یہ اللہ والے اپنی اور اپنے گھربار کی فکر کئیے بغیر صرف اللہ ،نبی اللہ،انعام یافتگان کی راہ میں اپنے آپ کوقربان کیا اِس لئے آپ کو وصال کے بعد بھی یاد کیاجاتاہے ،زمین بھی ایسے نیک صالح بندہ گان خدا کا انتظار کرتی ہے کہ وہ تو زمین پر اپنا فیض تقسیم کررہے ہیں جب وہ اللہ کے پیارے ہوکریعنی فانی دنیا کوخیرآباد کہہ کر میری آغوش میں آئینگے تو میں بھی اُن کے فیض کو حاصل کرسکوں۔تو یہ اللہ والے اپنے گھربارکے لئے کچھ نہ رکھا مگر ایسا نمونہ اپنے متروکہ میں چھوڑ جاتے ہیں چاہے زمانہ کیسا بھی کروٹ کیوں نہ لے مگر یہ متروکہ ساری امت مسلمہ کو یعنی خواص ہو کہ عوام ہو سب کو سیراب کرتے ہیں اور علم کی پیاس بجھاتے ہیں ،جس سے ہماری دائمی زندگی سنوارنے کے لئے راستے ہموارہوتے ہیں ۔بانی جامعہ نظامیہ علیہ الرحمہ کو اگر کبھی کوئی مسئلہ درپیش ہوتا تو آپ کسی سے رجوع نہیں ہوتے بلکہ نبی مکرم ﷺ کے توسط سے اللہ جل جلالہ کی بارگاہ اقدس میں رجوع ہوتے عرض گذار ہوتے،جس کی وجہ سے آپ کے سارے مسائل حل ہوجاتے۔جس کی جیتی جاگتی مثال آپ کے سامنے ہے ۔
بانی جامعہ نظامیہ ؒ کے کارنامے:۔
معززقارئین محترم وہ ’’جامعہ نظامیہ‘‘جو آج150 سال مکمل کررہاہے ۔تو اندازہ کیجئے کہ آج سے150 سال پہلے کیا حالات تھے اُس وقت آپؒ نے یہ بیڑا اٹھایا کہ نہ آپ کے پاس دولت تھی نہ کچھ تھا ،اگر کچھ تھا تو وہ عشق رسول ﷺ اللہ رب العالمین کا خاص فضل وکرم ،بس اِسی توکل کی اساس پر آپ نے جامعہ نظامیہ قائم فرمایا علاوہ اِس کے کئی اک ادارے ہیں ۔اُس دور مسلم حکمرانی میں دینی تعلیم وترویج کی اشاعت کے لئے آپ نے وہ خدمات انجام دیں جس کو آج ہم یاد کرنے سے بھی قاصر ہیں،جس طرح کہاجاتاہے کہ اؤلیاء اللہ کے آستانوں پر بلامذہب وملت لوگ حاضری دیا کرتے ہیں تو اُسی طرح بانی جامعہ نظامیہ علیہ الرحمہ بھی حضور اکرم نور مجسم ﷺ اور آپ کے جد اعلیٰ عمر فاروق ؓ کے نقش قدم پر چلتے ہوئے اُسی اعتدال کو اپناتے ہوئے خدا کی دی ہو ئی نعمتوں کا استمال کرتے ہوئے کئی اک اداروں کو وظیفہ جاری فرمایا جس کے لئے تاریخ گواہ ہے دیکھئے دورمسلم حکمرانی کی تاریخ مطالعہ کریں تو پتہ چلے گا کہ اللہ والے کیسے کیسے نقوش ہمارے درمیان چھوڑ کر گئے ہیں ہمیں چاہیے کہ اُن اعمال کو اپنی زندگی کا ایڈیل بنالیں تو پھر کوئی افراتفری کیا بلکہ اعتراض کا ہی موقع نہیں ملتا۔بہر حال اُس وقت ایسے نازک حالات میں بھی آپؒ نے ایسے بے شمار کارنامے انجام دیئے ،الحمدللہ وہ سارے ادارے خدمت خلق میں ہمہ تن مصروف ہیں ۔اللہ رب العزت کی ذات مقدسہ سے اور ہمارے پیارے آقا محمد الرسول اللہ ﷺ کی ذات گرامی سے قوی امید ہے کہ آپؒ کے یہ سارے کارنامے ہم جیسے لوگوں تک عام فرمایاوہ تا دمِ زیست جاری وساری رہینگے اور ہمیں راہ راست پر لاتے رہینگے چاہے زمانہ کچھ بھی کہے مگر تاریخ گواہ ہے۔
بانی جامعہ کے اوصاف:۔
حضرت شیخ الاسلام کی وہ ذات مقدسہ جن کے کردار میں ابا واجداد کااثرپیوست ہے،جن پر اؤلیاء عظام کا سایہ ہے،جن پر سلطان الہند حضرت خواجہ معین الدین چشتی رحمۃ اللہ علیہ کی خاص نظرہے،جن پر پیران پیر روشن ضمیر قندیل نورانی حضرت شیخ عبد القادر جیلانی رحمۃ اللہ علیہ کا خاص فیضان ہے،جن میںائمہ مجتہدین کا کردارنظرآتاہے،جن میں سراج الائمہ حضرت نعمان بن ثابت امام اعظم ابو حنیفہ رحمہ اللہ کا جوہر نظرآتاہے،جن میں تبع تابعین تابعین کی جھلکیاں نظرآتی ہیں،جن میں اہلبیت اطہار کا صبر واستقلال نمایاہوتاہے،جن میں حضرات حسنین کریمن کے اوصاف نظرآتے ہیں،جن میں حضرت علی ؓشیرخدا کی شجاعت،حضرت عثمانؓ کی سخاوت،جد اعلیٰ حضرت عمرؓ کاعدل،حضرت ابوبکرؓ کی صداقت پائی جاتی ہے،جنکے جذبہ خدمت کو اگر دیکھیںتو حضوراکرم نورمجسم ﷺ
کے اخلاق حسنہ کا وہ مکمل آئینہ نظر آتا ہے اِن سب صفات کے پائے جانے کے بعد وہ کمال آپؒ کو حاصل ہے کہ آپؒ کو دیکھنے والوں یوں محسوس کیا بلکہ کہنے والوں نے برجستہ کہہ دیا کہ ایسے عاشقان نبی کو دیکھو تو خدا کو یاد کرو
وصال کے وقت تاجدار مدینہ ﷺ کی آمد:۔
حضرت سید یحییٰ پاشاہ صاحب قبلہ علیہ الرحمہ بھی بانی جامعہ کے معاصرین میں سے ہیں ۔اُسی خانوادہ کے ایک چشم وچراغ بنام سید محمود صفی اللہ حسینی المعروف وقارپاشاہ صاحب نے بتلایا کہ حضرت یحییٰ پاشاہ سرکار فجر کے بعد نوافل ادا کرتے پھر کچھ دیر مراقبہ فرماتے تو اُس دن جس وقت بانی جامعہ نظامیہ علیہ الرحمہ کی طبیعت علیل تھی تو حضرت یحییٰ پاشاہ قبلہ نے اپنے حجرہ خاص کا دروازہ کھولا اپنے بڑے فرزند ارجمند وجانشین حضرت سید محی الدین حسینی صاحب قبلہ رحمہ اللہ سے فرمایا کہ بیٹا جاکر مولانا انوار اللہ صاحب کی کیفیت تو معلوم کرکے اؤ تو اُس وقت کسی نے پوچھا کہ سرکار کیا بات ہے اتنے بے چین ہو آخر بات کیا ہے ؟تو یحییٰ پاشاہ سرکار رحمہ اللہ نے کہا کہ میں نے ابھی ابھی ہمارے آقا ومولیٰ محمد مصطفی احمد مجتبیٰ ﷺ کو دیکھا کہ وہ یہاں تشریف لا ئے ہو ئے ہیں تو میں عرض کیا یا رسول اللہ ﷺ آپ کی آمد؟ تو نبی کون ومکاں ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ میں انوار اللہ کو لینے کے لئے ایا ہوں۔اُسی اثنا میں آپ کے فرزند ارجمند نے اطلاع دی کہ بانی جامعہ نظا میہ اب اِس دنیا میں نہیں رہے وہ وصال کرچکے ہیں۔اناللہ وانا الیہ راجعون
معزز قارئین محترم دیکھا آپ نے کہ حضور اکرم ﷺ کی بارگاہ میں بانی جامعہ نظامیہ علیہ الرحمۃ والرضوان کا کیا مقام ہے۔
٭٭٭٭٭

Urdutimes@123

ہندوستان اردو ٹائمز پر آپ سب کا خیر مقدم کرتے ہیں

متعلقہ خبریں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
Close
Close