سیرت و شخصیات

سیرت نبی ِرحمت صلعم کے چند درخشاں پہلو! نثاراحمد حصیر القاسمی

نثاراحمد حصیر القاسمی
شیخ الحدیث معہد البنات بورہ بنڈہ و جامعۃ النور یوسف گوڑہ
سکریٹری جنرل اکیڈمی آف ریسرچ اینڈ اسلامک اسٹیڈیز ۔ حیدرآباد۔
nisarqasmi24@gmail.com
0091-9393128156

سیرت النبی صلعم کا تعلق رسول اللہ صلعم کی صرف سیاسی ، تنظیمی ، عسکری حرکیاتی جہادی ، سماجی وفلاحی اور معاشرتی زندگی ہی سے نہیں بلکہ اس کا ایک اہم اور نہایت عظیم پہلو انسانیت نوازی ہے، جو اپنے دامن میں ہر خیر وخوبی ، حسن وجمال ، مودت ومحبت ، خیرخواہی اور دوسروں کے لئے مر مٹنے کے جذبہ کو اپنے اندر سمیٹے ہوئے ہے۔ اسی لئے آپ صلعم کے بارے میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے کہ آپ کو رحمت بنا کر مبعوث کیا گیا ہے اور یہی آپ صلعم کی بعثت کا اہم عنصر ہے۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے، وما ارسلناک الا رحمۃ للعالمین (الانبیاء: 107)
اور ہم نے آپ کو تمام جہان والوں کے لئے رحمت بنا کر ہی بھیجا ہے۔
خود آپ صلعم نے ارشاد فرمایا ہے۔
انما انا رحمۃ مہداۃ (صحیح الجامع الصغیر:2345)
میں رحمت مجسم بن کر آیا ہوں، جو اللہ کی طرف سے دنیا والوں کے لئے ایک ہدیہ ہے۔
ایک اور حدیث میں آپ صلعم نے فرمایا، انی لم ابعث لعانا وانما بعثت رحمۃ (صحیح مسلم، 2006) میں کسی پر لعنت بھیجنے والا بنا کر نہیں بھیجا کیا بلکہ رحمت بنا کر بھیجا گیا ہوں۔
سنت نبوی یا ہدی نبوی وطریقہ نبوی کو اپنانے کا مفہوم بھی یہی ہے کہ رسول اللہ صلعم کی زندگی اخلاق وکردار اور ہر شعبہ زندگی میں جس طرح کامل واکمل تھی، اسی طرح انسان اپنی زندگی کو بنائے، ہر انسان کو رسول اللہ صلعم کی حیات طیبہ کے اندر ایسا نمونہ مل سکتا ہے جس کی روشنی میں وہ اپنی روز مرہ کی زندگی گذار سکتا اور اسے اپنا آئیڈیل بنا کر اپنی زندگی کو کامیاب ومکمل کرسکتا ہے۔ رسول اللہ صلعم کے اخلاق وکردار ، رافت ورحمت ، معاملات ومعاشرت ہمارے سامنے کھلی کتاب کی طرح ہیں، ہم جہاں سے چاہیں اسے اخذ کرسکتے اور اپنی عملی زندگی میں برت کر کامیابی کا زینہ طے کرسکتا ہے۔
اسی لئے اللہ تعالیٰ نے فرمایاہے ’’ ولکم فی رسول اللہ اسوۃ حسنۃ ، تمہارے لئے رسول اللہ صلعم کے اندر بہترین نمونہ ہے ، اس کا مطلب ہے کہ جو بھی انسانی کمالات متصور ہوسکتے ہیں وہ سارے کے سارے سرکار دوعالم صلعم کے اندر موجود ہیں، اور ان احادیث وسنن اور سیرت کے ساتھ آپ صلعم کی حیات آج بھی ہمارے درمیان موجود ہے۔ آپ صلعم کا وصال اگرچہ ساڑھے چودہ سو سال پہلے ہوگیا، مگر آپ صلعم اپنی سیرت طیبہ کے ساتھ آج بھی ہماری رہنمائی کررہے ہیں، اور یہ حیات قیات تک باقی رہے گی، اور امت مسلمہ کی رہنمائی کرتی رہے گی۔
بلا شبہ سرور کونین صلعم اس انسانیت کے لئے اللہ جل جلالہ کی تخلیق کا ایک ایسا شاہکار بن کر تشریف لائے تھے کہ جس پر کسی بھی حیثیت سے کسی بھی نقطہ نظر سے غور کیجئے تو وہ کمال ہی کماک کا پیکر نظر آئے گا۔
اللہ کے نبی صلعم مدینہ میں ہجرت کے بعد دس سال رہے، اس دس سالہ زندگی میں آپ کو 27 غزوات سے دو چار ہونا پڑا، یعنی اس مدت میں آپ نے 27 جنگی مہمات سر انجام دیئے، ان ستائیس غزوات کی تیاری ، سفر، اور جنگ میں اگر حساب لگا کر ہر جنگی مہم کے لئے 20 دن لگنے کا اندازہ کریں تو اس میں آپ صلعم کے 540 دن صرف ہوئے، یعنی تقریبا ایک سال پانچ ماہ ، گویا آپ صلعم نے اشاعت اسلام کیلئے جنگی مہمات پر دیڑھ سال سے بھی کم وقت صرف کیا، باقی ساڑھے آٹھ سال کہاں صرف کیا؟ ، سیرت کا مطالعہ کرنے سے اندازہ ہوتا ہے کہ آپ صلعم نے اسے روئے زمین کو آباد کرنے، انسانیت کی تعمیر کرنے ، امت کو زیور علم سے آراستہ کرنے، پروڈکٹ تیار کرنے، عمل کرنے اور ایسی قوم تیار کرنے پر صرف کیا جو اس روئے زمین کو فساد وبگاڑ اور تباہی وبربادی سے بچا سکے۔ اسے امن کا گہوارہ بنا سکے، اس زمین پر امن وامان قائم کرسکے۔ انسان کو انسانیت کا درس دے سکے، لوگوں میں اخوت وبھائی چارگی عام کرسکے، ایک دوسرے کے کام آسکے، اور ہر کوئی دوسرے کا خیر خواہ وبہی خواہ بن سکے۔
انسانی زندگی کو بے فکری سے رواں دواں رکھنے کے لئے پانچ چیزوں کی ضرورت ہوتی ہے۔
(۱) رزق کا بہتر انتظام ہو ، اسے معاشی پریشانی کا سامنا نہ کرنا پڑے۔ (۲) دوسروں کے ساتھ اس کے تعلقات وروابط عمدہ ہوں۔ (۳) اگر مشکل پیش آجائے تو بحرانی کیفیت پیدا ہوجائے تو اس کے حل کی تدبیر اس کے پاس ہو۔ (۴) اس کا مستقبل کس طرح تابناک ہو سکتا ہے، (۵) اور پانچویں چیز ہوتی ہے روحانی ضروریات کی تکمیل اور تسکین واطمینان قلبی، اگر ہم رسول اللہ صلعم کی سیرت کا ان پہلوئوں سے مطالعہ کریں اور اس میں اپنے لئے اسوہ تلاش کریں تو ہمیں اس میں بخوبی رہنمائی مل جائے گی، ہمارے نوجوانوں کو انسانی ضروریات کی ان پانچوںچیزوں میں رسول اللہ صلعم کی زندگی سے روشنی حاصل کرنے کی کوشش کرنی چاہیے۔
رزق کے پہلو سے اگر سیرت پر نگاہ ڈالیں تو ہمیں اندازہ ہوگا کہ رسول اللہ صلعم نے بچپن سے اس پرتوجہ دی اور کسی پر بوجھ بننا گوارہ نہیں کیا، آپ آٹھ سال کی عمر سے 12 سال کی عمر تک بکریاں چرا کر آنے والی نسل اور نوجوانوں کو کام کرنے کا سبق دیا اور بتایا کہ کوئی سا بھی کام معیوب نہیں، پھر 12 سال کی عمر سے ہجرت تک آپ نے تجارت وکاروبار کیا، خرید وفروخت کیا، اس کے لئے اسفار کئے، آپ نے شراکت بھی کیا، مضاربت بھی‘ اور وکالہ بھی کیا، آپ نے امپورٹ بھی کئے اور بیرون شہر مال بھی بھجوائے، اس طرح آپ صلعم نے نوجوانوں کو سبق دیا کہ وہ محنت وجدوجہد اور کاوش کریں، آپ نے مالی اعتبار سے خوش حال ہو کر بھی فقر کی زندگی اختیار کی، جو اختیار کی تھی، تاکہ غرباء ومساکین کے احساسات کو مجروح نہ ہونے دیں اور اس دنیوی زندگی سے بے رغبتی کا رجحان پروان چڑھے اور غرباء اپنے فقر وافلاس پر بے زاری و مایوسی کا شکار نہ ہوں۔
تعلقات کے بارے میں آپ صلعم نے وطن سے محبت کو ایمان کا حصہ قرار دیا، خود آپ نے وطن سے محبت کا اعلان کیا اور لوگوں کو وطن سے محبت کرنے پر ابھارااور سمجھایا کہ وطن ہی دین وایمان کی حفاظت کا ذریعہ ہے۔ آپ اس کی جدائی پر آبدیدہ ہوئے، مکہ میں داخل ہوتے ہوئے ایک قطرہ خون بھی بہانا گوارہ نہیں کیا، آپ نے مکہ والوں سے ٹکرائو نہ لینے کے مقصد سے وہاں کوئی مسجد نہیں بنوائی بلکہ سب سے پہلی مسجد مدینہ آکر بنوائی، آپ نے لوگوں کے تعلقات کو رافت ورحمت ، الفت ومحبت اور انسانیت کی بنیاد پر جوڑا، جبکہ انسانیت مردہ ہوچکی اور حیوانت ودرندگی انسان کے رگ وریشہ میں پیوست ہوچکی تھی، آپ صلعم کے تعلقات کی بنیاد رحمت وانسانیت اور نصح وخیر خواہی اور خدمت خلق تھی۔
بحران کے اندر رسول اللہ صلعم کا طریقہ کیا تھا؟ آپ اسے کس زاویے سے حل کرنے کی کوشش کرتے تھے؟تاریخ شاہد اور آپ کی سیرت ناطق ہے کہ آپ صلعم نے اس کے لئے ہمیشہ سماجی امن وامان اور بھائی چارگی کو پیش نظر رکھا، یہاں تک کہ جنگ کے اندر بھی آپ صلعم نے سالوں سال جاری رہنے والی جنگ کی حکمت عملی کو تبدیل کرکے اسے غزوات میں بدل دیا، یعنی مختصر مدت کے اندر گھنٹوں اور چند دنوں میں فتح وشکست کا فیصلہ ہوجائے ، زیادہ دنوں تک جاری نہ رہے تاکہ جانیں کم سے کم ضائع ہوں، آپ صلعم جنگ میں داخل ہوتے اور جلد سے جلد اس سے نکل آنے کی کوشش کرتے تھے، آپ مخالفین پر سخت دبائو بناتے تاکہ وہ بات چیف پر اور امن کا راستہ اختیار کرنے پر آمادہ ہوجائیں، اسی لئے اللہ تعالیٰ نے آپ صلعم کا تذکرہ کرتے ہوئے اپنی کتاب میں فرمایاہے:
لقد جاء کم رسول من انفسکم عزیز علیہ (التوبہ:128)
تمہارے پاس ایک ایسے پیغمبر تشریف لائے ہیں جو تمہاری جنس سے ہیںجن کو تمہاری مضرت کی بات نہایت گراں گذرتی ہے، جو تمہاری منفعت کے بڑے خواہش مند رہتے ہیں، ایمانداروں کے ساتھ بڑے ہی شفیق اور مہربان ہیں۔
رسول اللہ صلعم کے یہی اعلیٰ اوصاف واخلاق اور بلند کردار تھے کہ دشمنان اسلام بھی آپ کی عظمت وبلندی کا اعتراف کرنے پر مجبور ہوئے، اور ہر دور کے بلند پایہ لوگوں اور مفکرین نے آپ کو انسانیت کا مسیحا اور روئے زمین کا عظیم رہنما تسلیم کیا ہے، ان لوگوں کے اقوال کو اگر جمع کرنا چاہیں تو ایک ضخیم کتاب بھی ناکافی ہوگی، البتہ اٹھارہویں صدی اور اسکے بعد کے چند مشاہیر کے قول بطور نمونہ اس جگہ ذکر کرنے پر اکتفا کرتے ہیں۔
جورج فیلھم فریڈریشن ہیگل (1831۔ 1770) کہتا ہے کہ محمد نبی ہیں اور انسان ہیں، اور یہی آپ کی خاص صفت ہے ، محمد نے تعلیم دی ہے کہ ان کی قدر قیمت اس وجہ سے نہیں کہ وہ کس قبیلہ سے تعلق رکھتے ہیں یا ان کا کیا سیاسی مقام ہے، یہ قدر وقیمت پیدائش کی وجہ سے نہیں ، اقتدار وحکمرانی کی وجہ سے نہیں بلکہ اس وجہ سے ہے کہ وہ ایک انسانیت نواز انسان اور اللہ پر ایمان رکھنے والے، اس کے بندے ہیں، اور وہ ایک معبود سے مربوط ہیں اور اسی سے دوسروں کو جوڑتے ہیں۔
تھومس کارلیل (1975۔1881) کا کہنا ہے کہ محمد رسول کی صورت میں ایک ہیرو ہیں، آپ شہوت پرست ہیں نہ نفس کی خواہشات کے پیرو ہیں، بلکہ نفس پر حکمرانے کرنے والے ہیں، آپ کا گھر نہایت معمولی وسادہ تھا، آپ کا عام کھانا جو کی روٹی اور پانی تھا، کئی کئی دن گذر جاتے اور کھانا پکانے کے لیے آپ کے گھر میں چولہا تک نہیں جلتا تھا، وہ اپنے جوتے بھی خود سی لیتے اور کپڑے پر پیوند بھی خود لگالیتے تھے، آپ اختیاری ‘فقیر اور محنت ومشقت کرنے والے انسان تھے، اپنی ملکیت میں کچھ نہیں رکھتے تھے، آپ ایسی چیزوں پر بالکل توجہ نہیں دیتے اور قطعی اہتمام نہیں کرتے جو عام طور پر اکثر لوگوں کی توجہ کا مرکز اور سرگرمیوں کا محور ہوتا ہے۔
آرنست رینن (1823۔1892) کا کہنا ہے کہ اسلام کا ظہور تاریخ کے مکمل نور کے زیر سایہ ہوا، اس کی جڑیں ظاہر وباہر ہیں، اس کے بانی محمد صلعم کی سیرت ہمارے نزدیک اسی طرح معروف ومشہورو درخشاں ہیں جس طرح سولہویں صدی کے بڑے بڑے مصلحین کی سوانح اور حالات زندگی مشہور ہیں۔
ویلیم موئر (1819۔ 1905 ) کا کہنا ہے کہ محمد صلعم نے اپنے اوقات تین حصوں میں تقسیم کررکھے تھے، ایک حصہ اپنے رب کے لئے تھا، دوسرا حصہ اپنے گھر والوں اور دوسرے عام انسانوں کے لئے تھا اور تیسرا حصہ خود اپنی ذات کے لئے تھا، جب آپ کے کام بڑھ گئے اور ذمہ داریوں کا انبار ہوگیا تو آپ نے اپنے لئے مختص کئے ہوئے اوقات سے بھی دستبرداری اختیار کرلی اور اسے بھی عوام الناس کیلئے وقف کردیا اور دوسروںکی خدمت میں اسے لگا دیا۔ محمد اگر اپنے انجام دیئے ہوئے کام کی طرف اشارہ کرنا چاہیں تو اس کی طرف اشارہ پورے ہاتھ اور پورے ہتھیلی سے کرسکتے ہیں صرف انگلیوں سے نہیں ، اکثر ان پر مسکراہٹ بکھرتی رہتی ، کبھی ہنستے بھی تھے ، اور جب ہنستے تو آپ کے دانت اولے کے مانند سفید چمکنے لگتے تھے جبکہ اکثر آپ سوچ میں ڈوبے بھی رہتے تھے، انسانیت کی بھلائی و کامیابی کیلئے۔
ڈاکٹر مارکوس دودس (1834۔ 1909) اپنی کتاب میں کہتے ہیں کہ محمد انبیاء بنی اسرائیل سے زیادہ بہادر وجانباز تھے، انہوں نے اللہ کے پیغام کو عام انسانوں تک پہنچانے کیلئے اپنی زندگی کو دائو پر لگا دیا، سالوں سال ہر روز آپ پر مظالم کے پہاڑ ڈھائے گئے، یہاں تک کہ وطن سے بے وطن کردیا گیا، اپنے مال ومتاع کو کھودیا ، خود آپ کی قوم آپ سے دست کش ہوگئی، خلاصہ یہ ہے کہ انہوں نے اپنی زندگی میں اتنی تکلیفیں جھیلیں کہ دوسروں نے نہیں جھیلا، پھر ہجرت کے بعد اس سے نجات تو ملی مگر دشمنوں کے شر سے نجات نہیں ملی، ان ساری باتوں کے باوجود انہوںنے پوری جرأت وبہادری سے اپنا پیغام پہنچایا، رشوت ، دھمکیاں ، لالچ اور ترغیبات آپ کو خاموش نہیں کرسکیں، انہوں نے ہی تو کہا تھا کہ اگر میرے دہنے ہاتھ میں سورج اور بائیں ہاتھ میں چاند بھی رکھ دیا جائے کہ میں اس معاملہ کو ترک کردوں تو میں اسے ترک نہیں کرسکتا ہوں، یہاں تک کہ اللہ یا تو اسے غالب کردے یا میں اس راہ میں ہلاک کردیا جائوں، یہ ثابت قدمی اور تنہا اللہ کی طرف بلانے کی دعوت ہی اسلام ہے۔
بوسورتھ اسمتھ (1784۔ 1884) کا کہنا ہے کہ محمد کے پاس نہ لشکر جرار تھا ‘ کوئی سیکوریٹی گارڈ تھا ،نہ اونچے محلات تھے اور نہ کوئی اجرت یا تنخواہ ، اگر کسی کو یہ کہنے کا حق ہے کہ وہ حق الٰہی کی اتھاریٹی سے حکومت کرنے والے تھے تو وہ محمد ہیں، کیونکہ وہ قوت واقتدار اور زبردست اتھارٹی کے مالک بغیر ہتھیار اور کسی مادی مدد کے بغیر ہوئے۔
اسی طرح کی باتیں روبرٹ ڈوریبی اوسپورن (1835۔ 1889) نے فیلیپ ھیٹی (1886۔ 1978) نے کارل یا سپرس (1883۔ 1969نے ( ویلورڈ کانٹویل اسمتھ نے(1916۔2000) برناڈلویس نے (1916)نے کاربن آرمسٹرونگ ، آرناماردی شیمل (1922۔2003) اور یوھان وولونگانگ وون گوٹہ (1749۔ 1832) نے اپنی کتابوں میں کی ہے ، ان سارے مغربی مفکرین نے سیرت نبوی پر کتابیں تالیف کیں اور نعتیہ کلام بھی اپنی کتابوں میں پیش کئے ہیں۔
اب ذرا ہم اپنے گرد وپیش پر نظر ڈالیں اور دیکھیں کہ کیا ہمیں اپنے آقاسے کوئی مناسبت ہے، اوپر جس پاک زندگی کے چند اوصاف بیان ہوئے اس کا کوئی پر تو ہم اپنی زندگی میں پاتے ہیں، کیا ہماری شفقت ورحمت ضرب المثل ہے؟ کیا ہم بھی غریبوں کی خدمت کرنا پسند کرتے ہیں؟ کیا ہم بھی غیروں کے دکھ درد میں شریک رہتے ہیں، کیا ہم بھی اپنوں اور غیروں کی غم خواری میں لگے رہتے ہیں، کیا ہماری ذات بھی غریبوں، ضعیفوں ،یتیموں اور بے کسوں کے لئے مرجع امید ہے ، کیا ہمارے اندر بھی عفو ودرگذر کی عادت ہے، کیا ہم نے بھی اپنے حسن اخلاق سے کبھی دشمن کو دوست بنایا ہے؟ کیا ہم نے کبھی کسی بدی کی بیخ کنی کی ہے، کیا ہم نے کبھی بچھڑے ہوئے دلوں کو ملا دینے کی کوشش کی ہے۔
غیر مسلم قوموں کو آقا کی سیرت کا پتا لگانے کیلئے کتابوں کے مطالعہ کی فرصت نہیں بلکہ وہ ہماری زندگی کوپڑھ کر آقا کے اخلاق وکردار کا اندازہ کرنا چاہتی ہیں، ذرا غور کریں کہ ہم اپنے اخلاق وکردار سے اپنے آقا کو بدنام کررہے یا نیک نام۔
ہمارے آقا غریبوں کے ساتھ گھل مل کر رہنا پسند کرتے تھے، کیا ہمیں غریبوں سے ملنے جلنے میں تامل تو نہیں ہوتا، وہ نسب پر فخر کرنے کے بجائے حسن عمل اور نیک کردار پر زور دیتے تھے، کیا ہمارے اندر بھی یہ جذبہ وولولہ ہے، روپئے پیسے کی فکر ان کے قریب بھی نہیں پھٹکتی تھی، کیا ہم بھی اس فکر سے اسی طرح آزاد ہیں، ان کا پورا وقت دوسرے انسانوں کی خیر خواہی وخبر گیری میں گذرتا تھا، کیا ہم نے اپنا کچھ بھی حصہ اپنی ذات کے علاوہ کسی دوسرے کے کام میں لگا رکھا ہے، اگر ہم نے ان میں سے کسی چیز پر توجہ نہیں دی ہے تو ہمارے لئے ربیع الاول کا آنا اور نہ آنا برابر ہے، ہمارے لئے سرکار دو عالم صلعم کا ظہور بے کار ہے۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ ہم رسول اللہ صلعم کی سیرت کو اپنی عملی زندگی میں اپنائیں، اور اپنی زندگی کو اسلام کا نمونہ بنائیں، اور اپنے کردارو انسانیت نوازی کے ذریعہ دوسری قوموں کو اسلام سے قریب کریں، ہم امت دعوت ہیں، ہمارا فریضہ ہے کہ ہماری عملی زندگی بھی دوسروں کے لئے دعوت بنے۔ ایسا نہ ہو کہ
محشر میں جو شیخ آئے تو اعمال ندارد
جس مال کے تاجر تھے وہی مال ندارد

٭٭٭

Urdutimes@123

ہندوستان اردو ٹائمز پر آپ سب کا خیر مقدم کرتے ہیں

Leave a Reply

متعلقہ خبریں

Back to top button
Close
Close