سیرت و شخصیات

آہ مرتضٰی ساحل تسلیمی۔ جو صرف ایک انسان نہیں تھا! خرّم ملک کیتھوی، پٹنہ، بہار،

کچھ انسان صرف عام انسان ہوتے ہیں، کچھ صرف عام لوگ ہوتے ہیں، اور کچھ ہوتی ہیں شخصیتیں، اور جب کوئی انسان شخصیت میں ڈھل جاتی ہیں اور وہ اس دنیا سے رخصت ہو جاتے ہیں تو پھر وہ لوگوں کے دلوں میں ایک امٹ نقش چھوڑ جاتے ہیں، اور ایسی ہی ایک شخصیت کا نام ہے مرتضٰی ساحل تسلیمی، جو صرف ایک نام نہیں تھا بلکہ ایک زمانہ تھا، ایک کتب خانہ تھا،
اور جب ان کے انتقال کی خبر سنی تو ذہن خود بہ خود ماضی کے سمندر میں غوطے کھانے لگا،
مجھے آج بھی اچھی طرح یاد ہے جب مولانا سلمان حسینی ندوی صاحب کے مدرسہ جامعہ سید احمد شہید، کٹولی میں عالمت کی تعلیم حاصل کر رہا تھا تب کتب خانے میں اکثر ادارہ الحسنات کا نام سنتا تھا، اور وہاں سے کچھ کتابیں شائع ہوتی تھیں جن میں خاص طور سے ماہنامہ بتول، نور، الہلال، اُمنگ پابندی سے ہمارے مدرسے میں آتی تھی، اور اُمنگ تو خاص طور سے میں پڑھا کرتا تھا کیوں کہ میں خود بھی بچہ تھا، اور رسالہ بھی خاص طور سے بچوں کے لئے ہی شائع کیا گیا تھا تو بہت مزا آتا تھا پڑھنے میں، خاص کر ایک سیکشن کامکس کا ہوتا تھا، جسے سب سے پہلے پڑھتا تھا، پھر نور اور بتول بھی بہت بہترین رسالہ تھا،میں کتب خانہ جاتا ہی اس لیے تھا کے یہ رسالیں پڑھ سکوں، ان رسالوں کے مضامین نہایت ہی عمدہ ہوتے تھے، اور قاری کو مدّ نظر رکھتے ہوئے ان کے مضامین نہایت عمدہ اور اہمیت کے حامل ہوتے تھے،
چوں کہ بچپن سے ہی اردو ادب میں گہری دلچسپی ہونے کے باعث یہ رسالے پہلی نظر میں ہی دل کو چھو گئے، اور جب تک پورا رسالہ پڑھ کر مکمل نا کر لیں چین نہیں ملتا تھا، ایک بات اور تھی کہ جب بھی یہ کتابیں پڑھتا تھا تو رامپور جا کر لائبریری دیکھنے کی بڑی خواہش ہوتی تھی،
اگر میں کہوں کے میرے اردو ادب کے فروغ میں ان رسالوں کا بڑا ہاتھ ہے تو غلط نا ہوگا، مجھے اردو ادب میں دلچسپی ہی ان رسالوں کو پڑھنے کے بعد آئی اور ایسی آئی کے آج بھی اس ادب کو سینے سے لگائے ہوئے ہوں جیسے کوئی ماں اپنے شیر خوار بچے کو سینے سے لگا کر رکھتی ہے کے کہیں یہ بچھڑ نا جائے، میں جب بھی اسے پڑھتا تھا تو انجانی سی خوشی ہوتی تھی، بچوں کے لئے مضامین مرتّب کرنا خود میں ایک چیلنج ہے، اور اس چیلنج کو تسلیمی صاحب نے قبول کرتے ہوئے بخوبی سرانجام دیا،

اللّٰہ مرحوم کی مغفرت کرے، حضرت نے میرے جیسے بچوں کی ان رسالوں کے ذریعہ جو ذہن سازی کی ہے اس کی نظیر ملنا مشکل ہے۔ ایسی شخصیت صدیوں میں پیدا ہوتی ہیں، ان کا بدل مشکل سے ملتا ہے،
ایسے ہی عہد ساز شخصیتوں کے لئے علامہ اقبال نے کہا ہے کہ۔۔۔۔
ہزاروں سال نرگس اپنی بے نوری پے روتی ہے
بڑی مشکل سے ہوتا ہے چمن میں دیدہ ور پیدا

خرّم ملک کیتھوی، پٹنہ، بہار،

Urdutimes@123

ہندوستان اردو ٹائمز پر آپ سب کا خیر مقدم کرتے ہیں

Leave a Reply

متعلقہ خبریں

Back to top button
Close
Close