سیرت و شخصیات

نصرت ظہیر صاحب کی رحلت : قہقہے کا سورج غروب ہوگیا : از قلم : اے ایس عادل ندوی

ندوۃ العلماء کے طلباء اور فضلاء اس بات سے اتفاق کریں گے کہ جب ہم ندوہ کی شاخوں میں پانچ چھ سال کی طویل مدت گزار رہے ہوتے ہیں تو ہر پل ہمیں ندوۃ کی یاد ایسے آتی رہتی ہے جیسے عابدوں کی نظروں میں جنت کی حوریں رقص کر رہی ہوں اور اپنی خوبصورت باہیں پسارے ان کے استقبال میں کھڑی ہوں اور وہ ہر پل اس دنیا سے اس دنیا جانے کے لئے بےقرار ہوں اور جب ہم ندوہ پہنچ جاتے ہیں تو گویا جنت الفردوس کے اعلی اعلیین میں پہنچ گئے ہوں،
ہمارا حال بھی ان عابدوں سے کچھ الگ نہ رہا، ندوہ کیا پہنچے خود کو ایک ہی ساتھ ادیب، شاعر، خطیب نہ جانے کیا کیا سمجھ بیٹھے. کبھی شبلی لائبریری کی عالی شان بلڈنگ میں پطرس بخاری کے مضامین پڑھ کر قہقہے لگا کرلائبریری کے سکوت کو اچانک توڑ رہے ہیں تو کبھی شکشپیر کی ڈرامہ کو پڑھ کر اسے سمجھنے کی کوشش میں سر کے بال کھجا رہے ہیں. اور ہر پل نیا خواب اور نئے امنگ ذہن و دماغ میں اٹھکھیلیاں لیتی رہتی، ہمیشہ کچھ انہونی اور نئی چیز کی تلاش رہتی.

ہاسٹل کے اخبار اسٹینڈ میں روزنامہ سہارا اردو روزانہ اپنی شان و شوکت، پرکشش پرنٹنگ دیدہ زیب سرورق کے ساتھ قارئین کو شوق کی نظر سے گھورتی رہتی تھی اور ہم ہاسٹل سے باہر نکلتے ہوئے سرسری نظر ڈال لیتے تھے مگر وہی پرانی خبریں سڑک حادثے، قتل و غارت گری، لوٹ مار، چوری ڈکیتی جیسے خبروں کو پڑھ پڑھ کر دل گھبرا سا جاتا تھا اور اخباروں کے صرف سرخیاں اور ادبی صفحات، کہانیاں دیکھ لینا ہی کافی سمجھا جاتا تھا.
ایک دن فرصت کی گھڑی میں بڑے دھیان سے اخبار بینی میں مشغول تھا کہ اک مضمون کے ذیلی سرخی میں لکھا تھا "نمی دانم” اور صاحب مضمون کا نام تھا "نصرت ظہیر”. ذیلی سرخی اور مضمون نگار کے نام نے پڑھنے پر مجبور کر دیا. اور جب شروع کیا تو ہنسی روکنا مشکل ہو رہا تھا. مضمون کے اختتام تک ہنستے ہنستے مجھے بھوک لگ چکی تھی. اور مضمون پڑھنے کے بعد پتہ چلا کہ مضمون "لکھنے والی نہیں لکھنے والا ہے”.
(اس نام کے تذکیر و تانیث کو نصرت صاحب نے بڑے اچھے انداز میں اپنے ایک مضمون میں ہی ذکر کیا ہے اور لکھا ہے کہ لوگ ہمیں انجانے میں نصرت صاحبہ کہہ کر خط و کتابت میں مخاطب کرلیتے ہیں). یہ واقعہ تقریباً 15 سال قبل کا ہے مگر آج بھی اگر نصرت ظہیر نام سے کوئی مضمون نظر آجائے تو مجال ہے کہ سامنے رکھی بریانی مضمون سے پہلے کھائی چلی جائے.

نصابی کتابوں کی کثافت میں نصرت صاحب کی تحریر صحرا نوائی کے دوران آب سرد سے کم نے تھی، اول ہی دن سے ایسا چسکا لگا کہ بس اس دن کا انتظار پورے ہفتے کیا جاتا تھا کہ اس بار کس کس عنوان سے ہنسنے کو ملے گا. اور جب ہاسٹل کے اجتماعی اخبار سے کام نہیں چلا تو ہم خود روزنامہ سہارا کے باضابطہ طور پر خریدار بن کر معزز قارئین کرام کی فہرست میں شامل ہوگئے.
ان کی تحریر پڑھتے وقت ایسا محسوس ہوتا تھا کہ جیسے وہ حقیقت میں ہمارے بیچ موجود ہوں اور ظرافت کی محفل لگی ہوئی ہے اور سب متوجہ ہو کر نصرت صاحب کو سن رہے ہوں.
میں بالمشافہ ان سے کبھی ملا نہیں مگر ایسا لگتا ہے ان سے ایک انجانا اور نامعلوم رشتہ ہے اور ہم ای دوسرے کو بہت ہی نزدیک س سے جانتے ہیں.

ایک وقت آیا جب انہوں نے روزنامہ سہارا میں کالم لکھنا ترک کر دیا. اور کچھ دنوں تک ان کی "نمی دانم” سے ملاقات نہیں ہوئی تو ہفتہ بھر یوں لگتا تھا کہ کچھ چھوٹ رہا ہے، دل میں بار بار خیال آتا تھا کہ کچھ بھول گیا ہوں. پھر انہوں نے "روزنامہ انقلاب” میں لکھنا شروع کیا تو یوں محسوس ہوا کہ کوئی بچھڑا یار مل گیا اور سینے سے لگا کر کلیجہ تک فرحت و انبساط س ٹھنڈا کر دیا. بھلے نصرت صاحب اب نہیں رہے مگر وہ ہمیشہ ہمارے بیچ رہیں گے اپنے قہقہوں کے ساتھ اور ان کی تحریریں تاقیامت مردہ دلوں کو تازگی بخشتی رہیں گی.

Urdutimes@123

ہندوستان اردو ٹائمز پر آپ سب کا خیر مقدم کرتے ہیں

متعلقہ خبریں

Leave a Reply

Back to top button
Close
Close