سیرت و شخصیات

بطخ میاں انصاری کے کارنامے پر جتنا ناز کیا جائے کم ہے ( یوم ولادت ۲۵؍جون ) ! محمد عارف انصاری

محمد عارف انصاری

رابطہ : 9572908382

ای میل mdarifansari067@gmail.com

بخت میاں انصاری عر ف بطخ میاں ۲۵؍جون ۱۸۶۹ء کو موضع سسواں اجگری موتیہاری (بہار) میں پیدا ہوئے ۔ان کے والدکا نام محمد علی انصاری ہے۔ انہوں نے بابائے قوم مہاتما گاندھی کی جان بچائی تھی جو ہندوستان ہی نہیں بلکہ دنیا کی تاریخ کا ایک اہم باب ہے۔بطخ میاں نے اگر انگریزوں کی بات مان لی ہوتی توان کے پاس اعزازواکرام اوردولت کی کمی نہیں ہوتی۔مگر آج ہندوستان کی تاریخ شاید کچھ دیگرہوتی اور مہاتما گاندھی بابائے قوم نہیں ہوتے۔بطخ میاں غریب تھے، کسب حلال کے لئے نیل کوٹھی کے انگریز مینجراِروِن کے یہاں خانساماں کی ملازمت کرتے تھے۔تعلیم بھی کچھ خاص نہیں تھی لیکن ایمان کے پکے تھے ۔ان کے اندر دینی،سماجی اور قومی شعوربدرجۂ اتم موجود تھا۔ان کے شب و روز انگریزوں کے درمیان گزرتے تھے۔ انہیں یہ اندازہ بخوبی رہا ہوگا کہ انگریزوں کے منصوبے پر پانی پھیر دینا کس مصیبت و پریشانی کا باعث ہوسکتا ہے؟اس کے باوجودانہوں نے اپنے دین و ایمان پہ آنچ نہیں آنے دی اورگاندھی جی کی جان بچا کرقوم و ملت کے وقار بلند رکھا۔

ایک طویل جدو جہد اور قربانیوں کے نتیجے میں ہمارا وطن۱۹۴۷ء میں آزاد ہوا۔مہاتما گاندھی کے فسلسفۂ عدم تشدد اورمدبرانہ قیادت کے اعتراف میں انہیں بابائے قوم کہا جانے لگا لیکن ان کے محسن بطخ میاں انصاری رحمۃ اللہ علیہ کو یکسر فراموش کردیا گیا۔ان کے ساتھ انصاف سے کام نہیں لیا گیا اور تاریخ کے صفحات میں انہیں جو جگہ دی جانی چاہئے تھی وہ نہیں دی گئی۔ارباب اقتدار کے ساتھ ہی ان کے اپنوں نے بھی منھ موڑلئے ۔ان کے اس تاریخ ساز کارنامے کی بدولتمسلمانوں کا سر فخر سے بلند ہوجاتا ہے لیکن ملتنے بھی ان کے ساتھ بے اعتنائی سے ہی کام لیا،ورنہ انہیں ’’بطل جلیل ‘‘ بنا کر پیش کیا جا سکتا تھا۔ان کا رنامہ ہی ایسا ہے جس پر جتنا ناز کیا جائے کم ہے۔ان کے اس کارنامے سے نہ صرف حب الوطنی سرخروہوئی بلکہ اہل بہار کی تاریخ وفاء بھی مستحکم ہوئی اورمسلمانوں کا کردار منور ہوا۔اس سے یہ بھی ثابت ہوتا ہے کہ اس ملک کو آزاد کرانے میں مسلمانوں نے کیسی کیسی قربانیاں دی ہیں۔

یوں تو ہندوستان ایک جمہوری اور سیکولر ملک ہے لیکن المیہ یہ ہے کہ آزادی کے بعد سے ہی ایک خاص ذہنیت کے لوگ حکمراں ٹولے میں شامل رہے ہیں۔ورنہ کوئی وجہ نہیں کہ جس شخص نے کسی انجام کی پرواہ کئے بغیر مہاتما گاندھی کی جان بچائیہو، اس کے اس عظیم کارنامے کا کوئی تذکرہ کسی سرکاری دستاویز میں نہ ملے۔ حد تو یہ ہے کہ مہاتماگاندھی کی کسی تحریر یا سوانح عمری میں کہیں درج نہیںہے اور نہ ڈاکٹر راجیندر پرسادکی کسی تحریر یا کتاب میں ہی موجود ہے جو اس واقعہ کے چشم دید گواہ ہیں۔ صدر جمہوریہ بننے کے بعد 1950ء میں پہلی بارجب وہ موتیہاری گئے تونظر پڑتے ہی ’’بطخ بھائی‘‘کہتے ہوئے اسٹیج پر اپنے قریب بلاکر انہیںگلے لگایااور گاندھی جی کی جان بچانے کی ساری کہانی عوام کے سامنے خودہی بیان کی تھی۔ انہوںنے حکومت وقت کو حکم دیا تھاکہ بطخ میاں کو 50؍ایکڑ زمین الاٹ کی جائے لیکن اس پر کوئی عمل آوری نہیںہوسکی۔محسن فراموشی کی اس سے بدترین مثال اور کیا ہوسکتی ہے؟پتہ نہیں ہماری کیسی جمہوریت ہے جہاںصدر جمہوریہ بھی اتنا مجبور ہو کہ اپنے احکام پر عمل درآمد نہ کراسکے؟ بطح میاں تو طویل دوڑدھوپ اور انتظار کے بعد ۴؍دسمبر ۱۹۵۷ء کو دنیا سے رخصت ہوگئے لیکن صدر جمہوریہ کا حکم آج بھی محتاج تعمیل ہے۔البتہ بعد کے دنوں میں کچھ باضمیر رہنمائوں کی کوششوں کے سبب حکومت بہار نے چند ایکڑ ایسی زمین ان کے ورثاء کو دی جو ندی کے کٹائو کی نذر ہوگئی ۔

قصہ مختصر یوں کہ ہندوستان پر انگریزوں نے مکمل تسلط حاصل کر لیا تھا اور ان کی ظلم و زیادتیاں بڑھ گئی تھیں۔ہتھ کرگھا صنعت کو تباہی سے ہم کنار کرانے کے بعد ان کارخ ملک کی زراعت برباد کرنے کی طرف تھا۔وہ زبردستی نیل کی کھیتیاں کرا رہے تھے اورنیل کی کھیتی کرنے سے گریز کرنے والے کسانوں پران کی زیادتیوںاور ظلم و استبدادکی انتہا ہو رہی تھی۔عوام کے اندر بے چینی اور خوف ہراس کا ماحول تھا۔ہر آدمی کو اپنی جان و مال اور عزت و آبرو کی پڑی ہوئی تھی اور افراتفری کا دور تھا۔انگریزوں کے خلاف جدو جہدجاری تھی جس کی قیادت مہاتما گاندھی کر رہے تھے۔ایسے عالم میں معروف صحافی پیرمحمد مونس انصاری اور راج کمار شکلاو دیگر رہنمائوںنے پیش قدمی کرتے ہوئے مہاتما گاندھی کو چمپارن تشریف آنے کی دعوت دی۔ان کی دعوت پرمہاتماگاندھی ۱۹۱۷ء میںاس ظلم و زیادتی کاجائزہ لینے چمپارن آئے۔ تحریک آزادی کی جدوجہد زور وں پرتھی اورگاندھی جی کی مقبولیت و شہرت پورے ملک میں پھیل چکی تھی۔لوگ ان کے ایک اشارے پر مرمٹنے کوتیار رہتے تھے ۔ گاندھی جی کے اس دورے سے انگریزوں کے درمیان خوف و دہشت پھیل گئی تھی جو ان کے چمپارن آنے سے مزیدبڑھ گئی۔ وہ کسی بھی قیمت پرگاندھی جی سے نجات چاہتے تھے جس کے لئے انہوں نے منصوبہ بنایا کہ انہیں کسی طرح موت کی نیند سلادیا جائے۔اس لئے اِروِن نے گاندھی جی کو بات چیت کے بہانے کھانے پر مدعوء کیا۔ عدم تشدد میںیقین رکھنے والے گاندھی جی نے دعوت قبول کرلی اور ۱۵؍اپریل، ۱۹۱۷ء کوڈاکٹرراجندرپرسادکے ہمراہ اس کے گھر تشریف لے گئے۔

اِروِن کے خرافاتی دماغ نے گاندھی جی کے خاتمہ کے لئے بطخ میاںانصاری کوبہترین وسیلہ سمجھا ۔اس نے اپنے دل میں خیال کیا کہ بطخ میاںہندوستانی ہیں اس لئے کھانا کھلا تے وقت ان پر کسی کوشک بھی نہیں ہوگا اور گاندھی جی کو آسانی سے ختم کیا جا سکتا ہے۔اسی غرض سے بطخ میاںکومجبورکیاگیاکہ وہ گاندھی جی کو زہر آلود دودھ کا گلاس دیں ۔ ایک ملازم ہونے کے ناطے بطخ میاں کوانگریزوں کے حکم کی تعمیل کرنی تھی۔ مگر وہ جذبۂ خودداری، ایمانداری، وفاداری، حب الوطنی اور سرفروشی سے پر تھے ۔ اس لئے اپنی خانمابربادی توقبول کرلی،لیکن اپنے کردار اوراپنی ملت پر ’’غداری‘‘ کاداغ لگنے نہیں دیا۔حالانکہ وہ چاہتے توداد دہش ،اعزاز واکرام اور سرخروئی کی خاطر’’ میرجعفر‘‘اور’’ میرصادق‘‘ کا کردار ادا کرتے ہوئے خاموشی کے ساتھ مہاتماگاندھی کوزہرآلوددودھ پلاسکتے تھے ۔ مگروہ پکے اور سچے مسلمان تھے جو کسی کو نہ تو دھوکہ دے سکتے تھے اور نہ کسی سازش کا حصہ بن سکتے تھے۔حب الوطنی اورجذبۂ حریت کے حامل ہونے کے ناطے گاندھی جی سے پیار کرتے تھے اور ملک کی آزادی کا خواب دیکھ رہے تھے ۔انہوں نے انعام کے عوض اپنے ضمیر کا سودا نہیں کیا۔انگریزوں نے بطخ میاں کو اعزا زواکرام سے نوازانے اوران کی مرضی کے مطابق دولت وثروت عطا کرنے کی لالچ دی تھی۔انہیںدھمکیاں دی گئی تھیں کہ اگر انہوں نے ایسا نہیں کیا تو سخت سزاکے مرحلے سے گزرنا ہوگ اورتباہ و برباد کر کے گھروالوں کی زندگی جہنم بنادی جائے گی۔مگر بطخ میاں پر نہ تو ان دھمکیوں کا کچھ اثر ہوا ،نہ ان کے دل میں دولت و ثروت کی لالچ پیداہوئی بلکہ انہوں نے وطن عزیز کے تئیں دیانت داری سے کام لے کر انگریزوںکے ناپاک عزائم پرپانی پھیر دیا۔

گاندھی جی کو دودھ کا گلاس پیش کرتے ہوئے بطخ میاں نے بتا دیا کہ اس میںزہر ملا ہوا ہے۔ گاندھی جی یہ سن کر دم بخودر ہ گئے اور ان پرتھوڑی دیر کے لئے سکتہ طاری ہوگیا ۔انہو ں نے بطخ میاں کی طرف ایک نظر دیکھا تو ا ن کی آنکھوں سے آنسو جاری تھے ۔دودھ بھراگلاس الٹ دیاگیا اورزمین پر گرا ہوا دودھ وہاں موجودایک بلی نے چاٹ لیا تو چند لمحوں میں ہی مرگئی ۔ بلی کی موت سے اندازہ ہوا کہ دودھ کس قدر زہرآلودہ تھا۔ہنگامہ کے مد نظر اس سنگین جرم کے عوض انگریزوں نے جہاں ایک طرف اس واقعہ کی جانچ کی یقین دہانی کراکر معاملے کو رفعہ دفعہ کرنے کی کامیاب کوشش کی تو دوسری طرف بطخ میاں انصاری کو بدترین انجام سے دوچار ہونا پڑا۔انگریزوں کی یہ ایک شاطرانہ سازش کی تھی کہ بطخ میاں کے ہاتھوں گاندھی جی کا قتل کراکر اس کاالزام مسلمانوںکے سردھر دیاجائے جس کی پاداش میںہندوئوں اور مسلمانوں کے درمیان نفرت و عداوت پھیل جائے تاکہ ان حالات سے فائدہ اٹھاکروہ ہندوستان پر حکومت کرتے رہیں ۔بطخ میاں کایہ عظیم کارنامہ تاریخ کے صفحات پرنہ صرف ثبت ہے بلکہ پورے ملک پر ان کا احسان ہے اور سنہرے حروف سے لکھے جانے کے قابل ہے۔ان کے اس کارنامہ نے تحریک آزادیٔ ہند کو استحکام عطا کیا اور گاندھی جی کے ساتھ بطخ میاں بھی لازم و ملزوم ٹھہرے،جیسے گاندھی جی کی موت کے ساتھ ’’ناتھورام گوڈسے ‘‘ کا نام جڑ گیا ہے۔بطخ میاں انصاری نے جہاںعقیدت وحب الوطنی کی خاطراپنی تباہی کی قیمت پرگاندھی جی کی جان بچائی وہیںناتھورام گوڈسے نے مہاتماگاندھی کے سینے کو اپنی نفرت انگزیز گولیوں سے چھلنی کردیا۔ گوڈسے کی اس مذموم حرکت سے جہاں یہ ثابت ہوتا ہے کہ ملک کے خلاف سازشوں میں مسلمانان ہند کا کبھی کوئی ہاتھ نہیں وہیں بطخ میاں کے اس شاندار عمل نے ثابت کردیا کہ مسلمانوں کو کسی سے حب الوطنی کی سند نہیں چاہئے بلکہ اس کے خون میں شامل ہے۔ جب بھی وقت پڑا ہے مسلمانوںنے جان و مال کی بازی لگا کر ملک و قوم کی حفاظت کی ہے۔

Urdutimes@123

ہندوستان اردو ٹائمز پر آپ سب کا خیر مقدم کرتے ہیں

متعلقہ خبریں

جواب دیجئے

Back to top button
Close
Close