سیرت و شخصیات

پروفیسرعبدالغفور : حیات وخدمات! شاہنوازبدرقاسمی

بہارکی مسلم لیڈرشپ کاایک معتبرچہرہ پروفیسرعبدالغفورصاحب(سابق وزیربہار)آج 28جنوری2020صبح ساڑھےچھ بجےدہلی کےایک پرائیویٹ ہاسپٹل میں زندگی کی آخری سانس لی،نتیش حکومت کےسابق وزیر برائےاقلیتی فلاح وبہبود رہےبہار کی موجودہ قانون ساز اسمبلی کارکن بھی تہےجوسہرسہ ضلع کےمہیشی اسمبلی حلقہ سےچوتھی بار نمانئدگی کر رہے تہے(وہ1995,2000,2010,2015سےلگاتارراجدکی ٹکٹ پرایم ایل اےمنتخب کئےگئے)راشٹریہ جنتا دل کےسینئرلیڈرڈاکٹرعبدالغفورسہرسہ بہارکے ایک پسماندہ گاؤں بوہروا میں5مئی1959 میں پیدا ہوے۔ ان کے والدمحمدجمیل ایک کسان تھے اوراس کی والدہ کا نام بی بی فاطمہ ہےتین بھائیوں میں وہ درمیان کےتہے۔ انہوں نے اپنی ابتدائی تعلیم (میٹرک) اسلامیہ ہائی اسکول سمری بختییار پورسے1974میں مکمل کی۔ 1976 میں اس نے اپنی اعلیٰ سیکنڈری تعلیم مکمل کی۔سال 1979میں اس نےاپنا بی اے گریجویشن سہرسہ کالج سے کیا۔اس کےبعد پٹنہ منتقل ہونے کے بعد1981 میں آرٹ میں ایم اے پٹنہ یونیورسٹی سے کیا۔ انہوں نے پٹنہ یونیورسٹی سے اردو میں پی ایچ ڈی کی ڈگری بھی حاصل کی۔ 1982 میں پاروتی سائنس کالج میں اردو پروفیسر کے طور پرمنتخب کےگئے۔وہ جےپی تحریک سےبہت متاثرتہےاس کے بعد سےہی ان کی سیاست کی طرف دلچسپی گہری ہوتی چلی گئی،لالو یادوسے ان کی وفاداری بہت مشہورہے،بہارکی سیاست میں وہ آخری دم تک ایک ہی پارٹی میں ڈٹےرہےتمام ترحالات کےباوجودبہی بہی پارٹی بدلنےکی نوبت نہیں آئی وہ صرف ایک لیڈرنہیں بلکہ سماجی اورمذہبی کاموں بہی بڑھ چڑھ کرحصہ لیتےامارت شرعیہ سےان گاگہرارشتہ تہا۔گاؤں سےتعلق رکھنےکی وجہ سے وہ ہمیشہ اصل مسائل کی بات کرتےتہے ذاتی طور پر انہوں نے غریب اور پسماندہ لوگوں کی بنیادی ضروریات اور اقلیتی طبقہ کے درپیش مسائل کو محسوس کیا۔ انہوں نے سب سے پہلے مہیشی اسمبلی حلقہ سے الیکشن لڑا اور1995 میں کانگریس کےمشہوررہنما لاٹن چودھری کو شکست دی۔ پروفیسر عبدالغفورایک سنجیدہ اور صاف ستہری شبیہ کےلیڈرتہےجنہوں نےاپنی خاموش سیاست کی وجہ سےکئی نمایاں کامیابی حاصل کی،کوسی پل کی تعمیرمیں بہی ان کاکلیدی کرداررہا،وہ راجدمیں رہنےکےباوجودبہی ہرحلقہ میں پسندکئےجاتےتہےدوماہ کی مختصرعلالت کےبعد وہ اچانک اس دنیاسےرخصت ہوگئےاللہ مرحوم کی مغفرت اورپسماندگان کوصبرجمیل عطافرماے-

مزید پڑھیں

Urdutimes@123

ہندوستان اردو ٹائمز پر آپ سب کا خیر مقدم کرتے ہیں

متعلقہ خبریں

جواب دیجئے

Back to top button
Close
Close