سیرت و شخصیات

وہ کیا گئے کہ زمانہ اداس ہے !محمد روح اللہ 

وہ کیا گئے کہ زمانہ اداس ہے !محمد روح اللہ
کل من علیھا فان
   موت اسکی ہے کرے جس پہ زمانہ افسوس
یوں تو دنیامیں سب آئے مرنے کے لیے
    یہ دینا انقلابات و تغیرات کا گہوارہ ہے،یہاں کی ہر چیز پابند اور مجبور ، شمس وقمر رفتار پر مجبور ہیں ،سمندر طغیانی پر مجبور ہے، پہاڑ استقلال پر مجبور ہے، بلکل اسی طرح ہر جاندار کھانے پینے اور موت و حیات پر مجبور ہے۔
یہاں جو بھی آیا ہے اسے ایک نہ ایک دن رخت سفر باندھنا ہے اور اس دار فانی سے دار بقاء کو خیرا آباد کہنا ہے ،یہ ایک ایسی مجبوری ہے جس سے کسی بھی شخص کو چھٹکارا اور رستگاری نہیں ۔
ع
   موت سے کس کو رستگاری ہے
   آج وہ کل ہماری باری ہے
راقم الحروف ان چند سطروں کو قلم بند کرتے ہوئے حزب و ملال کی کیفیت سے دوچار ہے ۔
ان کے انتقال کی خبر سنتے ہی قلب و جگر کی حالت متغیر ہورہی ہے اور کلیجہ منہ کو آتاہے ۔قلب کا سکون اور آنکھ کانور اشکوں کی شکل اختیار کرلیتا ہے ۔
  بہرحال :اس دنیا کی ہر شخصیت خواہ وہ کتنے دل کش کتنے ہی عزیز اور دلنواز کیوں نہ ہو ،بالآخراسے بھی ایک نہ ایک دن رخصت ہونا ہے ۔ کیونکہ ہر ایک جانے کے لیے آیا ہے ، فرق صرف اتنا ہے کہ کوئی جاتا ہے تو صرف ایک گھر یا ایک خاندان اور قبیلہ روتا ہے اور کوئی جاتا ہے تو پورا ملک پوری ملت اس کے جانے سے لرزہ براندام اور آہ و بکاہ میی مشغول نظر آتی ہے اور یہ بات اس شخصیت کے لیے ہوتی ہے جس کے دل میی ملت کادرد رہا ہو ، خدمت دینی کا جزبہ رہا ہو ، جس نے اپنی زندگی میی دوسروں کی تکلیف کو اپنی تکلیف سمجھا ہو اور اس راہ میی اس نے اپنی تمام طاقتیں صرف کی ہوں ۔
ایسی مقدس ہستی کے فراق پر جس کے ذرہ ذرہ کی الفت ہمارے قلب و جگر میی پیوست ہے۔ اور اس مقدس پاک باز عبقری شخصیت اور ملک و صفات کے حامل جناب حضرت الاستاذ الحاج ماسٹر عبد الجبار صاحب کے فیوض و برکات سے محرومی پر آج ہم دل اور جان سے آنسو بہارہے ہیں ۔آج وہ ہم سے علم کا کوہ گراں جو شفقت و محبت کا پیکر و مجسم تھا ،اور سراپا رحمت الہی کا عکس جمیل تھا ۔یہی وجہ ہے کہ آپ کے انتقال پر پورا علاق سوپول ، دنبندی ، تروینی گنج اور دیگر علاقہ جات بھی آپ کے غم میی سو گوار ہے اور ہر شخص آپ کے غم میی نڈھال ہے اور آپ کی تعریف میی رطب اللسان ہے۔
آپ کی رحلت ملت اسلامیہ کا ایک ایسا نقصان ہے جسکی تلافی دور دور تک نظر نہیں آتی
  جس دن سے چلا ہوں میری منزل پہ نظر ہے
آنکھوں نے کبھی میل کا پتھر نہیں دیکھا
 ابھی چند سال قبل سرکاری نوکری سے ریٹائرمنٹ ہونے کے بعد حج بیت اللہ سے مشرف ہوئے ۔
تقریباً ایک ماہ سے مسلسل زندگی اور موت کی کشمکش میی مبتلا ہو ہو
4دسمبر 12مہنہ 2019
۶ربیع الثانی ۱۴۴۱ھجری بروز بدھ بوقت 6چھے بجکر 15منٹ میی میڈاز ہاسپٹل پٹنہ اپنے مالک حقیقی سے دار بقاء سے دار آخرت کی طرح طرف چل بسے
      انا للہ و انا الیہ راجعون
سن کر یقین نہیں ہوا مگر اطلاعات مسلسل آتی گئ اور ذہن یقین کرنے پر مجبور ہوا اللہ رب العزت حضرت والا کو بے پناہ خصوصیات اور امتیازات سے نوازا تھا ،خوش اخلاق ،ملنسار، تواضع ان کے اندر کوٹ کر بھرا ہوا تھا ،انکساری انکی ذات کا ایک حصہ،سرشت کا جزء لاینفک تھیں جہاں بھی تھے اطمینان اور سکون سے رہتے تھے ،احقر زمانہ طالب علمی میی ہمشہ حضرت والا سے ملاقات بھی کرتا رہتا تھا اور میی ہمشہ دعاء کیلے بھی کہتا تا تھا۔
حق تعالیٰ حضرت والا کو جوار رحمت میی جگہ عطاء فرمائے اور ان کی مخلصانہ دینی خدمات کا بہتر سے بہتر بدل عطاء فرمائے ، باری تعالی ان کو اعلی علیین میی مقام کریم عطاء فرمائے
حضرت والا کے شاگردوں اور اولادوں اور خاندانوں اعزہ اقراء سب کو صبرجمیل عطاء فرمائے
  آسماں تیری لحد پر شبنم افشانی کرے
سبزہ نورستہ اس گھر کی نگہبانی کرے
  آمین یارب العالمین
محمد روح اللہ
سابق امام
جامع مسجد تروینی گنج
ضلع سوپول
۷ربیع الاوّل ۱۴۴۱ھجری
بروز جمعرات

Urdutimes@123

ہندوستان اردو ٹائمز پر آپ سب کا خیر مقدم کرتے ہیں

متعلقہ خبریں

جواب دیجئے

Back to top button
Close
Close