قومی

سپریم کورٹ پہنچامعاملہ : شاہ جہاں کے تاج محل بنوانے کا ثبوت نہیں

نئی دہلی، 30ستمبر (ہندوستان اردو ٹائمز) تاج محل، مغل بادشاہ شاہ جہاں نے بنوایا تھا، ایسا کوئی ثبوت دستیاب نہیں،سپریم کورٹ میں تاج محل کی اصل تاریخ کا مطالعہ کرنے،سے متعلق ایک پٹیشن دائر کی گئی ہے جس میں ٹریکنگ کمیٹی بنانے کا مطالبہ کیا گیا ہے۔

پٹیشنر ڈاکٹر رجنیش سنگھ کا کہنا ہے کہ اگرچہ یہ کہا جاتا ہے کہ تاج محل مغل بادشاہ شاہ جہاں نے اپنی اہلیہ ممتاز محل کے لیے 1631 سے 1653 تک 22 سال کے عرصے میں بنوایا تھا لیکن اس حقیقت کو ثابت کرنے کے لیے کوئی سائنسی ثبوت موجود نہیں ہے۔

اس لیے مختلف لوگ مختلف باتیں کرتے ہیں، اس سے تنازعہ پیدا ہوتا ہے، اس لیے فیکٹ فائنڈنگ کمیٹی بنانے کی ضرورت ہے۔ درخواست گزار کا کہنا ہے کہ وہ تاج محل پر کوئی دعویٰ کر کے کوئی تنازعہ بھی نہیں کھڑا کر رہے، صرف تاج محل کی اصل تاریخ کو سامنے لانا چاہتے ہیں، کیونکہ مغل بادشاہ کی تعمیر کی کوئی سائنسی یا ٹھوس بنیاد نہیں ہے۔

الہ آباد ہائی کورٹ کے حکم کے خلاف سپریم کورٹ سے رجوع ہوئے ہیں۔ ان کی درخواست کو اس بنیاد پر خارج کر دیا گیا کہ یہ معاملہ عدالتی طور پر سماعت کے لیے موزوں نہیں ہے۔ درخواست گزار ایڈوکیٹ سمیر سریواستو ہیں۔ان کا کہنا ہے کہ این سی ای آر ٹی نے انہیں ایک آر ٹی آئی جواب دیا کہ شاہ جہاں کے تاج محل کی تعمیر سے متعلق کوئی بنیادی ذریعہ دستیاب نہیں ہے۔

عرضی گزار نے آرکیالوجیکل سروے آف انڈیا میں ایک اور آر ٹی آئی دائر کی لیکن اسے کوئی تسلی بخش جواب نہیں ملا۔ اس لیے ہائی کورٹ میں پٹیشن دائر کی گئی۔اب معاملہ سپریم کورٹ پہنچ گیا ہے۔

ہماری یوٹیوب ویڈیوز

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button