دہلی

سپریم کورٹ نے ریاستوں کو زی نیوز کے اینکرروہت رنجن کیخلاف زبردستی کارروائی کرنے سے روک دیا

نئی دہلی،8جولائی (ہندوستان اردو ٹائمز) سپریم کورٹ نے جمعہ کو مختلف ریاستی حکام کو بدنام زمانہ نیوز چینل ’’زی نیوز ‘‘کے بدنام زمانہ پیش کار اور اینکر روہت رنجن کے خلاف زبردستی کارروائی کرنے سے روک دیا ہے۔

خیال رہے کہ کانگریس لیڈر راہل گاندھی کے ویڈیو کو غلط پس منظر میں دکھانے کی وجہ سے کئی ریاستوں میں رنجن کے خلاف ایف آئی آر درج کی گئی ہیں۔اینکر رنجن نے درخواست دائر کی ہے جس میں تمام ایف آئی آر کو ایک ساتھ باندھنے اور زبردستی کارروائی سے بچانے کی درخواست کی گئی ہے۔ اس درخواست پر سپریم کورٹ نے اٹارنی جنرل کے دفتر کے ذریعے مرکز سمیت کئی فریقوں کو نوٹس بھی جاری کیا۔درخواست پر نوٹس جاری کرتے ہوئے،

جسٹس اندرا بنرجی اور جسٹس جے کے مہیشوری کے تعطیلاتی بنچ نے کہا کہ اس دوران، جواب دہندہ اتھارٹی 1 جولائی کو نشر ہونے والے پروگرام کے سلسلے میں درخواست گزار کو حراست میں لینے کے لیے زبردستی کارروائی نہیں کرے گی۔گاندھی کے ویڈیو کو غلط سیاق و سباق میں دکھانے پر رنجن کے خلاف کچھ ریاستوں میں ایف آئی آر درج کی گئی ہیں۔ ویڈیو نشر ہونے کے بعد رنجن نے معافی مانگی تھی ۔

خیال رہے کہ اس بدنام زمانہ نیوز چینل نے اودے پور قتل کے پس منظر میں وائناڈ میں واقع راہل گاندھی کے اُس بیان کوغلط ڈھنگ سے چلا یا ، جو بیان راہل گاندھی نے وائناڈ میں واقع دفتر میں تو ڑ پھوڑ کرنے والے طلبہ کے پس منظر میں دیاتھا ، راہل گاندھی نے دفتر میں توڑ پھوڑ کرنے والے طلبہ کے ضمن میںکہا تھا کہ یہ ہمارے ہی بچے ہیں ، ان پر کوئی سخت کاروائی نہ کی جائے۔

ہماری یوٹیوب ویڈیوز

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button