یوپی

سپریم کورٹ سے جوہر یونیورسٹی کو راحت، زمین پر قبضے کے ہائی کورٹ کے حکم پرلگائی روک

نئی دہلی، 18 اپریل (ہندوستان اردو ٹائمز) سماج وادی پارٹی کے لیڈر اعظم خان سے جڑے مولانا محمد علی جوہر ٹرسٹ کے لیے سپریم کورٹ سے راحت کی خبر آئی ہے۔ دراصل سپریم کورٹ نے الہ آباد ہائی کورٹ کے اس حکم پر روک لگا دی ہے کہ یونیورسٹی کی تعمیر کے لیے حکومت کو حاصل کی گئی زمین واپس کی جائے۔ اب یہ معاملہ اگست میں سماعت کیلئے آئے گا۔ ہائی کورٹ نے حکومت کو 12.5 ایکڑ چھوڑ کر 450 ایکڑ سے زیادہ پر کنٹرول کرنے کا حکم دیا تھا۔

مولانا جوہر یونیورسٹی کی یہ زمین اتر پردیش کے رام پور میں ہے۔ اعظم اور ان کے خاندان کے افراد اس یونیورسٹی کے ٹرسٹی ہیں۔ستمبر میں الہ آباد ہائی کورٹ نے ریاست میں سابق کابینی وزیر محمد اعظم خان کے مولانا محمد علی جوہر ٹرسٹ رامپور کے ذریعہ حاصل کردہ اضافی 12.50 ایکڑ اراضی کو دینے کے اے ڈی ایم فنانس کے حکم کو برقرار رکھا تھا۔ بتا دیں کہ یونیورسٹی کی تعمیر کیلئے تقریباً 471 ایکڑ زمین حاصل کی گئی تھی لیکن عدالت نے ٹرسٹ کے قبضے میں صرف 12.50 ایکڑ زمین رکھنے کو کہا تھا۔ عدالت نے ایس ڈی ایم کی رپورٹ اور اے ڈی ایم کے حکم کی صداقت کو چیلنج کرنے والی ٹرسٹ کی عرضی کو خارج کر دیا تھا۔

ہائی کورٹ نے کہا تھا کہ درج فہرست ذات کی زمین ضلع مجسٹریٹ کی اجازت کے بغیر غیر قانونی طور پر لی گئی تھی۔ حصول شرائط کی خلاف ورزی کرتے ہوئے تعلیمی کام کیلئے تعمیر کے بجائے مسجد تعمیر کی گئی۔ گرام سبھا کے عوامی استعمال کے لیے چک روڈ کی زمین اور دریا کے کنارے سرکاری اراضی لے لی گئی۔ کسانوں کو زبردستی بانڈ حاصل کرنے کیلئے مجبورکیاگیا، جس میں 26 کسانوں نے سابق وزیر اور ٹرسٹ کے چیئرمین اعظم خان کے خلاف ایف آئی آر درج کرائی ہے۔

عدالت نے کہا کہ یونیورسٹی کو پانچ سال میں بنانا تھا جس کی سالانہ رپورٹ نہیں دی گئی۔ قانونی دفعات اور شرائط کی خلاف ورزی کی بنیاد پر ریاست میں اراضی کو دینے کے حکم میں مداخلت نہیں کر سکتا۔

ہماری یوٹیوب ویڈیوز

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button