شوبزعجیب و غریب

سونالی فوگاٹ موت معاملہ : پوسٹ مارٹم رپورٹ نے کھولا قتل کا راز

پنجی: گوا پولیس نے اسپیشل میڈیا انفلواینسر اور بی جے پی لیڈر سونالی فوگاٹ کی موت کے معاملے میں گرفتار دو ملزمین کو مبینہ طور پر ڈرگس کی فراہمی کرنے والے ایک مشتبہ اسمگلر کو ہفتہ کے روز حراست میں لیا تھا۔ گوا پولیس کے ایک سینئر افسر نے نیوز ایجنسی پی ٹی آئی بھاشا کو یہ جانکاری دی۔

پولیس افسر نے کہا کہ دونوں ملزمین نے اپنے بیان میں گرفتار کئے گئے مشتبہ شخص سے نشیلی اشیا خریدنے کی بات کو قبول کرنے کی تھی، جس کے بعد دتّا پرساد گاونکر کو انجنا سے حراست میں لے لیا گیا۔ افسر کے مطابق، حراست میں لئے ایک دیگر شخص کی پہچان کرلیز ریستواں کے مالک ایڈون نونس کے طور پر ہوئی ہے، جہاں سونالی فوگاٹ موت سے پہلے 22 اگست کی دیر رات پارٹی کر رہی تھیں۔

اس سے قبل گوا پولیس نے ہریانہ کی مقبول ٹک ٹاک اسٹار سونالی فوگاٹ  کے ساتھ گوا آئے سانگوان اور سکھوندر سنگھ کو گرفتار کیا تھا۔ سونالی فوگاٹ کو 23 اگست کی صبح شمالی گوا ضلع کے انجنا کے سینٹ اینتھونی اسپتال میں ان کے ہوٹل سے مردہ حالت میں لایا گیا تھا۔

پولیس نے جمعہ کے روز کہا کہ سدھیر سانگوان اور سکھوندر سنگھ نے مبینہ طور پر پانی میں نشیلی اشیا تھی اور 22 اور 23 اگست کی رات کو کرلیز میں پارٹی کے دوران انہوں نے سونالی فوگاٹ کو اسے جبراً پینے کے لئے مجبور کیا۔ پولیس نے کہا کہ دونوں پر قتل کرنے کا الزام لگایا گیا ہے۔ ایک سینئر پولیس افسر نے کہا تھا کہ سونالی فوگاٹ کے مبینہ قتل کے لئے اقتصادی مفاد ذمہ دار ہوسکتا ہے۔

سونالی فوگاٹ کی لاش کی پوسٹ مارٹم رپورٹ نے کھولا قتل کا راز

شروع میں سونالی فوگاٹ کی موت کی وجہ سے ہارٹک اٹیک بتایا گیا، لیکن پوسٹ مارٹم رپورٹ آنے کے بعد ان کا قتل کئے جانے کا شک بڑھ گیا۔ پی ایم رپورٹ میں سونالی فوگاٹ کے جسم پر چوٹ کے نشان پائے گئے، وہیں انہیں جبراً ڈرگس دینے کا معاملہ بھی پتہ چلا۔ ڈرگس اوور ڈوز کے سبب ہی ان کی موت ہوئی۔ پولیس لے سی سی ٹی وی فوٹیج کی بنیاد پر سونالی فوگاٹ کے دو اتحادیوں سدھیر سانگوان اور سکھوندر سنگھ کو گرفتار کیا۔ پوچھ گچھ میں دونوں نے قبول کیا کہ انہوں نے سونالی فوگاٹ کو زبردستی پانی میں گھول کر ڈرگس پلائی تھی۔ سی سی ٹی وی فوٹیج سے بھی اس کی تصدیق ہوتی ہے۔

ہماری یوٹیوب ویڈیوز

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button