بین الاقوامی

سعودی ولی عہد اور جو بائیڈن کے درمیان جمال خاشقجی پر کیا بات ہوئی؟

سعودی ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان نے کہا ہے کہ سعودی شہری جمال خاشقجی کے ساتھ جو کچھ ہوا، ’افسوسناک‘ ہے۔ اس سلسلے میں تمام قانونی اقدامات کیے گئے ہیں۔

انہوں نے یہ بات امریکی صدر جو بائیڈن سے ملاقات میں کے دوران کہی ہے۔ اہم سعودی سرکاری حکام کے ذرائع سے علم ہوا ہے کہ امریکی صدر اور ولی عہد کے درمیان ملاقات کو طے شدہ دورانیہ ڈیڑھ گھنٹہ تھا مگر یہ ملاقات تین گھنٹوں پر محیط ہو گئی۔ اس دوران بہت سارے ایشوز پر تفصیلی بات چیت ہوئی۔

ولی عہد نے کہا ‘سعودی عرب نے خاشقجی کیس میں تمام قانونی تقاضے پورے کیے ہیں۔ خاشقجی کیس میں انویسٹی گیشنز سے لے کر، ٹرائل، سزا اور اس سزا پر عمل درآمد تک کے سب مراحل کو قانون کے مطابق دیکھا ہے۔ نہ صرف یہ بلکہ مملکت نے وہ اقدامات بھی کیے ہیں جن کے بعد اس طرح کے واقعے کا دوبارہ ہونا ممکن نہ رہے گا۔’

اس ملاقات کے دوران ولی عہد نے صدر جو بائیڈن سے کہا ‘اس طرح کے واقعات دنیا کے کسی بھی حصے میں ہو سکتے ہیں۔ کہ جس سال خاشقجی کے قتل کا واقعہ پیش آیا اسی سال دیگر کئی صحافی بھی مختلف جگہوں پر قتل ہوئے۔’ امریکا کی طرف سے ایسی بے رحمانہ وارداتوں کا ذکر کرتے ہوئے ولی عہد نے کہا ‘عراق کی ابو غریب جیل کی مثال سب کے سامنے ہے۔’

ولی عہد کا کہنا تھا ‘اس لیے ملکوں کے لیے ضروری یہ ہے کہ ان غلطیوں کے ازالے کے لیے تمام قانونی اور لوازمات کا خیال رکھا جائے اور ایسے واقعات کو بار بار ہونے سے روکا جائے۔’

ولی عہد نے اس دوران فلسطینی امریکی صحافی شیریں ابو عاقلہ کے قتل کا ذکر کرتے ہوئے امریکی صدر سے پوچھا کہ امریکا اور دوسرے ملکوں نے اس مقتولہ صحافی ابو عاقلہ کے قتل کے بعد اب تک کیا کیا؟’ واضح رہے امریکی صدر نے مقتولہ کے اہل خانہ سے دو روز قبل اسرائیلی دورے کے دوران ملاقات سے بھی انکار کیا۔

مشترکہ اقدار
سعودی سرکاری اہلکار کے مطابق اس موضوع پر اظہار خیال کرتے ہوئے ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان نے کہا ‘تمام ملک خصوصا سعودی عرب اور امریکہ ایسی اقدار بھی رکھتے ہیں جو مشترک ہیں اور ایسی بھی جو باہم مشترک اقدار کے زمرے میں نہیں آتی ہیں۔ تاہم یہ حقیقت ہے کہ اچھے اصول اور اقدار دوسرے ملکوں کو بھی متاثر کرنے والی ہوتی ہیں۔ جیسا کہ ہم دیکھتے ہیں کہ دنیا کے لوگوں کے درمیان ایک دوسرے پر مختلف امور میں انحصار کرنا ہے۔’

مزید یہ کہا اس کے باوجود یہ حقیقت ہے کہ دوسروں پر جو اقدار زبردستی مسلط کی جاتی ہیں وہ رد عمل اور الٹے نتائج کا سبب بنتی ہیں۔ جیسا کہ امریکہ نے عراق اور افغانستان میں کوشش کی مگر کامیاب نہیں ہو سکا۔ سینئیر سعودی اہلکار نے صدر جو بائیڈن کے ساتھ ہونے والی بات چیت کے بارے میں یہ بھی بتایا کہ ولی عہد نے 2021 میں افغانستان میں ایک پورے خاندان کا ڈرون حملے میں مارا جانا لیکن ابھی تک اس خاندان کو انصاف نہیں مل سکا ہے۔’

سعودی ولی عہد نے باور کرانے کی کوشش کی کہ ہر ملک کی الگ اقدار ہو سکتی ہیں۔ ان کا لازما احترام کیا جانا چاہیے۔ انہوں نے کہا اگر یہ تصور کر لیا جائے کہ امریکہ صرف ان ممالک کے ساتھ چلے گا جو سو فیصد امریکی اقدار رکھتے ہوں۔ اس ناطے نیٹو ممالک کے علاوہ شاید کوئی ملک نہ ہو گا۔ دوطرفہ تعلقات میں ایک دوسرے کے ساتھ اختلاف کے باوجود چلنا پڑتا ہے۔’

ہماری یوٹیوب ویڈیوز

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button