مضامین

سخت سرزنش ہی کافی نہیں،سخت اقدام کی بھی ضرورت : اسلم رحمانی

اسلم رحمانی ، ترجمان:انصاف منچ

انسانی تاریخ میں عدل کو جو اہمیت دی گئی ہے اس کے قیام ونفاذ کے جو بھرپورفائدے انسانوں کوحاصل ہوئے ہیں اس سے روگردانی یااسے نظر انداز کرنے کا جس قدر نقصان اور خسارہ بنی نوع انسان نے بھگتا ہے اس کی نظیر کسی بھی دور میں آسانی سے تلاش کی جاسکتی ہے اور کوئی دوسرا رویہ فائدہ اور نقصان پہنچانے کے حوالے سے اس عدل کے برابر نہیں ہوسکا۔ وہ قومیں جنہوں نے عدل کی اہمیت کوجان لیا پہچان لیا اور مان لیا وہ اقوام عالم میں نمایاں ہوگئیں۔انسانی معاشرہ کو مستحکم بنیادوں پر استواررکھنا اسی وقت ممکن ہے جب عدل وانصاف کے تقاضے پورے ہوں اورمجرمین کوبلا کسی رورعایت قرارواقعی سزاملے اس کے بغیرجرائم سے پاک معاشرہ کا تصورممکن نہیں د ستور کی روشنی میں عاملہ یعنی ائی اے ایس عہدیداران ،مقننہ پارلیمنٹ اورعدلیہ یعنی عدالت العالیہ (سپریم کورٹ)کے ججس کی جانب سے ایک دوسرے پر کنٹرول یہ جمہوریت کے اہم ستون ہیں،ملک کو صحیح سمت میں لیجانے کیلئے ان کا آپسی تال میل نہایت ضروری ہے۔ان میں پھر عدلیہ کاوقاربلندوبالا ہوگا ،دیگرستونوں میں کوئی خرابی پیداہویا وہ جمہوری اقدارکو پامال کرکے بے راہ روی کی سمت قدم بڑھارہے ہوں تو یہی نظام عدل ان کو درست اورصحیح سمت میں لے چلنے کا ذریعہ بن سکتاہے۔ ملک کی عدالت عظمی نے گستاخ رسول صلعم نوپور شرما کو گرفتارنہ کئے جانے کا سخت نوٹس لیا ہے، عدالت نے کہا کہ جب آپ کسی کے خلاف شکایت درج کرتے ہیں تو اس شخص کو گرفتار کر لیا جاتا ہے، لیکن کوئی آپ کو( نوپورشرما ) کو ہاتھ لگانے کی ہمت نہیں کرتا، اس سے آپ کا دبدبہ ظاہر ہوتا ہے، سپریم کورٹ نے کہا کہ ایک شخص کو دہلی پولیس نے اس کی شکایت پر گرفتار کیا گیا ہے، لیکن ان کے خلاف کئی مقدمات درج ہونے کے بعد بھی دہلی پولیس نے انھیں چھوا تک نہیں۔

عدالت میں پیروی کرنے والے نوپور شرما کے وکیل نے دلیل دیتے ہوئے کہا کہ نوپور شرما نے ایسا بیان ٹی وی ڈیبیٹ میں اینکر کے سوال پر دیا تھا جس پر عدالت نے کہا کہ ایسے میں اینکر کے خلاف بھی کارروائی ہونی چاہیے۔ جسٹس سوریہ کانت نے سخت تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ اگر وہ کسی پارٹی کی ترجمان ہیں تو انہیں لگتا ہے کہ ان کے پاس طاقت ہے اور وہ ملک کے قانون کا احترام کیے بغیر کوئی بھی بیان دے سکتے ہیں۔ ان کے بیان نے ان کے "مضبوط اور متعصبانہ کردار” کو ظاہر کیا۔ عدالت نے سختی کا مظاہرہ کرتے ہوئے کہا کہ طاقت کا نشہ دماغ پرحاوی نہیں ہونا چاہیے۔ عدالت نے کہا کہ ہم نے بحث دیکھی نوپور شرما جو کہا وہ انتہائی شرمناک ہے۔ ان کے بیان نے پورے ملک کو آگ لگا دی ہے۔ وہ ادے پور میں پیش آنے والے ناخوشگوار واقعہ کے لیے ذمہ دار ہے۔ اسے پورے ملک سے معافی مانگنی چاہیے۔عدالت نے کہا کہ نوپور شرما کے پیغمبراسلام صلعم کے خلاف ریمارکس سستے پروپیگنڈے، سیاسی ایجنڈے یا کچھ مذموم سرگرمیوں کے لیے کیے گئے تھے۔نوپور شرما کی طرف سے پیش ہونے والے سینئر وکیل منیندر سنگھ نے عدالت کو بتایا کہ نوپورشرما نےریمارکس پر معذرت کی اور تبصرے واپس لے لیے۔ اس پر سپریم کورٹ نے کہا کہ معافی مانگ لی لیکن اس میں تاخیر ہوئی۔ یہ سخت ریمارکس عدالت نے نوپورشرما کے خلاف ملک بھرمیں درج مقدمات کو یکجا کرتے ہوئے دہلی منتقل کرنے سے متعلق درخواست پرسماعت کے دوران کئے۔

یہاں قابل غور بات یہ ہے کہ گستاخ رسول نپور شرما کی گندی اور ذلیل حرکت کے خلاف عدالت عظمی نے اپنا موقف واضح کرنے میں بہت تاخیر کردی، خیر دیر آید درست آید۔ اگر عدالت اول دن ہی اس پورے واقعے کی نوٹس لےلی ہوتی اور ان کے خلاف کارروائی کا حکم دے دی ہوتی تو ملک میں تشدد کے واقعات رونما نہیں ہوتے۔ عدالت عظمی کو چاہئے کہ فقط سخت سرزنش کرنے کے بجائے نپور شرما اور اس جیسے ذہنیت کے خلاف فوری طور پر سخت اقدامات کریں تاکہ ملک کا امن و امان مزید خراب نہ ہوسکے۔ کیوں کہ آج ملک میں فاشسٹ ذہنیت والی بی جے پی کی حکومت تشدد بھڑکانے کے آڑ میں غیر آئینی طریقے سے اعلانیہ مسلمانوں کے گھروں کو زمین دوز کر دے رہی ہے۔مسلمانوں کو جیل میں قید کردینے کے ساتھ انہیں گولی مارکر قتل کردینے کے بعد انہیں پر مقدمہ کردینے جیسے واقعات کا ایک تسلسل ہے جودرندگی وبہیمیت کا روپ دھارے ہوئے ہے،ان کی شیطانیت ایک شریف اورباعزت انسانی معاشرہ کوخون کے آنسورلا رہی ہے، یہ دردوکرب کچھ کم نہیں تھا کہ مزیداس غم واندوہ میں اضافہ اس بات سے ہورہاہے کہ ان بدطینت انسان نمادرندوں کی پشت پناہی اوران کی حمایت میں کچھ سیاسی رہنماء اٹھ کھڑے ہیں ،یہ ملک کی سیاست اورحکومتی اورقانونی سطح کے اداروں کیلئے باعث شرم ہے۔ان جیسے بہیمانہ واقعات کے تدارک کیلئے حکومت ،انصاف اورقانون کے ادارے حرکت میں نہ آئیں اور اپنا فرض منصبی بھول جائیں تو پھرملک کی سالمیت کیلئے شدید خطرہ ہے۔ اس کو ہر منصف مزاج شہری محسوس کررہاہے۔

ہماری یوٹیوب ویڈیوز

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔

Back to top button