مضامین

زندگی انمول ہے،اسے گذاریں نہیں،سنواریں! مفتی محمداطہرالقاسمی، نائب صدر جمعیت علماء بہار

تحریر:محمداطہرالقاسمی
نائب صدر جمعیت علماء بہار
15/جولائی 2022
__________
زندگی بابندگی، تابندگی
زندگی بےبندگی، شرمندگی
زندگی اس دنیا میں قدرت کا سب سے عظیم اور انمول تحفہ ہے۔یہ زندگی دنیا کے ہر جاندار کو عطا کی جاتی ہے لیکن انسان کو احسن طریقے سے زندگی گذارنے کے لئے شعور و وجدان کی دولت بھی عطاء ہوتی ہے اسی لئے اسے اشرف المخلوقات کہا جاتا ہے۔لہذا وہ مخلوق جنہیں زندگی کا شعور و وجدان نہیں ہے وہ صرف زندگی گذارنے کے مکلف ہیں جبکہ شعور و وجدان سے مالامال اشرف المخلوقات کو صرف زندگی گذارنے کا حکم نہیں بلکہ اسے بنا اور سنوارکر رب کے حضور پیش ہونے کی ہدایت ہے۔
اس لئے زندگی صرف جینے،سانس لینے،کھانے پینے،پہننے اوڑھنے،خواہشات پوری کرنے اور ضروریات کی تکمیل کرنے کا نام نہیں ہے بلکہ حقیقت میں زندگی زندہ دلی کے ساتھ سلیقے،قرینے اور طریقے کے مطابق اسے معیاری،مثالی،کارآمد،مفید،موثر اور قابل رشک بنانے کا نام ہے۔اگر آپ ایسی زندگی گذار لیتے ہیں تو یہی زندگی آپ کے لئے عطاء ربانی میں سے سب سے قیمتی سرمایہ اور انمول تحفہ ثابت ہوگی کیونکہ یہی زندگی گذرتے گذرتے ایک دن بن جائے گی اور آپ کو فرش سے اٹھاکر عرش پر پہونچا دے دےگی۔
صاحبو!
ساٹھ یا ستر سالہ گنے چنے چند ماہ و سال اور شب وروز کے گول چکر پر گھومتی پھرتی یہ زندگی آخر کار ایک روز اپنی آخری منزل پر پہنچ ہی جائے گی لیکن جس روز بلکہ جس لمحہ اس زندگی کی شام ہوگی بعینہٖ اسی لمحہ ایک دوسری نئی زندگی کی صبح ہوگی اور اس طمطراق اور آن بان شان کے ساتھ اس کا آغاز ہوگا کہ پھر کبھی اس کا اختتام نہیں ہوگا یعنی ایسی صبح ہوگی جس کی کبھی شام نہیں ہوگی۔تب پتہ چلے گا کہ حقیر سے ناپاک نطفہ سے نو مہینے ماں کی پیٹ میں رہ کر باہر کی دنیا میں آنے کے بعد بچپن جوانی اور بڑھاپے پر ختم ہوجانے والی یہ زندگی،در اصل زندگی نہیں بلکہ مختصر سی زندگی کے دو چار پڑاؤ اور ٹھہراؤ تھے جس نے زندگی کے سفر کو الگ الگ سمت دے کر اسے اپنے انجام تک پہونچا دیا۔گویا موت کے دن قبر کی تنہائی والی کالی کوٹھری سے جس لامتناہی و ابدی زندگی کا آغاز ہوگا دراصل وہی اصل زندگی ہوگی جس کے آغاز کی بنیاد اس عارضی زندگی کے اچھے یا برے انجام پر منحصر ہوگی۔اب ہمیں یہ سوچنا ہے کہ ہماری زندگی بن رہی ہے یا صرف گذر رہی ہے؟
اگر ہماری زندگی میں ےفکری،بےحسی،بےتوجہی،بےاعتنائی اور بے وقعتی ہے تو سمجھ لیجئے کہ اس زندگی کا محور و مرکز مادہ پرستی ہے۔جس کی طویل ترین فہرست میں بےجا طلب جاہ و مال،حرص و طمع،کینہ و کدرورت،ظلم و تشدد،نفرت و عداوت،عدم رواداری،خود فریبی اور خود غرضی جیسی رذیل ترین خصلتیں ہیں جن کے ساتھ زندگی گذر تو سکتی ہے بن نہیں سکتی۔اب آپ اپنی آنکھوں سے مشاہدہ کریں گے تو دیکھیں گے کہ ہماری زندگی کا بیشتر میدان خواہ وہ خاندانی ہو یا سماجی و سیاسی ہر جگہ مفاد پرستی،خانہ جنگی اور بدترین نفرتوں اور عداوتوں کا بول بالا ہے اور احساس،انسانیت،اخوت،محبت،پیار،خلوص،اپنائیت اور رواداری سے ہماری یہ زندگی بالکل عاری ہے۔اب آپ کو طے کرنا ہے کہ آپ کو زندگی گذارنی ہے یا سنوارنی اور بنانی ہے؟
صاحبو!
ہم نے مضمون کے شروع میں ہی لکھا تھا کہ ہماری یہ زندگی رب العالمین کی جانب سے عطاء کردہ ایک انمول تحفہ ہے۔اس لئے آپ اس کا استعمال اپنی ذات کی تعمیر وترقی اور عروج و بلندی کے ساتھ انسانیت کی خدمت اور اس کی تعمیر وترقی کے لئے کیجئے۔اسے فکر صالح کے ساتھ عزم و حوصلے،شوق و لگن،ہمت و شجاعت اور زندہ دلی کے ساتھ زندہ اور باشعور انسانوں کی طرح بسر کیجئے۔رب کی طرف سے عطاء کردہ اس قیمتی تحفے کو محنتوں،مجاہدوں،کوششوں اور بڑی سے بڑی قربانیوں سے آباد کیجئے۔اپنی زندگی کا احترام کیجئے۔اسے بامقصد بنائیے۔اس کے ایک ایک لمحہ کو گن گن کر اور پکڑ پکڑ کر مثبت اور خیر کے کاموں میں صرف کیجئے۔اس کے ایک لمحہ کو بھی ہرگز ہرگز ضائع ہونے مت دیجئے۔جہاں رہئے،جس شعبہ حیات میں رہئے،جب تک رہئے؛پوری ایمانداری،وقت کی پابندی،نظم و ضبط اور مکمل ڈسپلن کے ساتھ رہئے،امانت و دیانت داری کا مکمل پاس و لحاظ کیجئے،متعلقہ شعبوں کے سربراہوں کی نگرانی کے خوف کے بجائے خالق حقیقی کی نگرانی اور روز حشر اس کے سخت ترین باز پرس سے ڈرئیے،کام کیجئے،جم کر کیجئے،کرتے رہئے،کرتے کرتے تھک جائیے،تھکتے تھکتے کرتے رہئے،جب وسعت و ہمت جواب دے دے تو تھوڑا سا آرام کرلیجئے،لیکن یاد رہے کہ تھکے ہارے مسافر کی طرح جوں ہی آنکھ کھلے اپنے سفر پر رواں دواں ہوجائیے،ہر دن کا کام سونے سے پہلے نمٹانے کی پوری کوشش کیجئے،سوتے وقت ذہن و دماغ کو آئینہ کی طرح صاف و شفاف کرلیجئے،صبح سویرے بیدار ہوئیے،نئی صبح کا آغاز نئے عزم کے ساتھ کیجئے،روازانہ چوبیس گھنٹے میں کم از کم کوئی ایک کام اس خلوص کے ساتھ ضرور کیجئے جو روز حشر بخشش کا سامان بن سکے،اپنی ذات کو دوسروں کے لئے رحمت ثابت کیجئے،دوسروں کا احترام کیجئے،ان کی قدر کیجئے،ان کے کام آئیے،طعن و تشنیع اور لعن طعن سے محفوظ رہئے،فضول گوئی اور بلا ضرورت بحث ومباحثہ سے کلی اجتناب کیجئے،صبر و تحمل کا مزاج بنائیے،برداشت کرنے کی عادت ڈالئے،ہر عمل میں اعتدال توازن اور انصاف کو جگہ دیجئے،خود کو عاجزوں و مسکینوں میں شمار کیجئے،تکبر انا اور غرور سے دور رہئے،حق واضح ہوجائے تو بلا تکلف اسے قبول کرلیجئے،اپنی غلطی کا بغیر قیل وقال فوراً اعتراف کرلیجئے،اہل خانہ کے ساتھ نرمی کا سلوک کیجئے،آل واولاد کے لئے سختی و نرمی کے سنگم کا رول ادا کیجئے،زبان و دل میں یکسانیت رکھئے،خوشامد و تملق سے کوسوں دور رہئے،رضا و ناراضگی کا معیار سنت و شریعت کو بنائیے،استغنا و توکل کو ہر لمحہ پیش نظر رکھئے،اظہار حق کے لئے کسی کی ملامت کی پرواہ مت کیجئے،گفتگو اور بات چیت میں شیرینی و ملائمت رکھئے،عفو و درگزر سے کام لیجئے،ظالموں کا ہرگز ساتھ مت دیجئے،مظلوموں کی کھلم کھلا حمایت کیجئے،نقصان دہ دوستی کے بالمقابل تنہائی کو ترجیح دیجئے،حلال ذریعہ معاش کے لئے ہمت بھر کوشش کیجئے،اپنے ساتھ اہل و عیال کے منہ میں بھی کوئی لقمہ رزق حرام مت ڈالئے،حقوق اللہ کے ساتھ حقوق العباد بھی ادا کرتے رہئے،والدین کی دعائیں لیتے رہیے،بعد وفات انہیں یاد کرتے رہئے،اپنے بزرگوں اور اساتذہ کو فراموش مت کیجئے،احسان مندوں کا شکر گزار رہئے،اپنی ضروریات انسانوں کے بجائے اپنے کریم رب کے حضور پیش کیجئے،دوسروں کی ضرورت کی تکمیل کا خود کو عنوان بنالیجئے اور چھوٹے بڑے ہر انسان کو اللہ کی مخلوق کا درجہ دیجئے اور کسی بھی حال میں اس کی توہین تذلیل یا تضحیک مت کیجئے۔
رب کعبہ کی قسم اگر آپ نے ایسا کرلیا تو اللہ رب العزت کی ذات سے قوی امید ہے کہ آپ اپنی زندگی گذارتے گذارتے ایک روز زندگی بناکر اس دنیا سے خوب رو ہوکر اپنے رب کے حضور پیش ہوں گے انشاءاللہ۔
یاد رکھئے!
یہ زندگی جسے آپ بنانے آئے ہیں بڑی مختصر و ناپائدار ہے۔اس کو پل بھر بھی قرار و ثبات نہیں۔یہ پانی کے حقیر ترین بلبلے کی مانند ہے جو بڑی خوبصورت ہے لیکن مکڑی کے جالے سے زیادہ نازک بھی ہے۔اس کا حال یہ ہے کہ یہ ابھی ہے اور ابھی نہیں ہے۔سچی بات تو یہ کہ بچپن جوانی اور بڑھاپے پر مشتمل یہ زندگی ایک خالی نقشے پر محیط ہے جسے ہمیں اپنے اعمال و کردار کے خوبصورت و جاذب نظر رنگوں سے مزین کرکے اتنا حسین و دل کش بنالینا ہے کہ بوقت دم واپسی رب العالمین کی جانب سے ہمارا بلاوا آئے تو قرآن مقدس کے ان لاثانی الفاظ کے ساتھ آئے:
یآایتہا النفس المطمئنہ۔ارجعی الی ربک راضیۃ مرضیۃ ۔فادخلی فی عبادی۔وادخلی جنتی۔(الفجر/27/28/29/30) ترجمہ: اے اطمنان والی جان!اپنے رب کی طرف اس حال میں واپس آ کہ تو اس سے راضی ہو اور وہ تجھ سے،پھر میرے خاص بندوں میں داخل ہوجا اور میری رحمت میں آجا۔۔۔

ہماری یوٹیوب ویڈیوز

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button