فقہ و فتاوی

رشتے داروں کی بدسلوکی ۔ جواب میں مطلوبہ رویّہ : ڈاکٹر محمد رضی الاسلام ندوی

سوال :
میں بہ درجہ مجبوری اپنی درد ناک کہانی لکھ رہی ہوں _ میرے بچپن ہی میں میری ماں کا انتقال ہوگیا تھا _ ابّا نے دوسری شادی کرلی _ میری سوتیلی ماں میرے لیے جلّاد ثابت ہوئیں _ وہ مجھے مارنے پیٹنے سے بھی گریز نہ کرتی تھیں _ انھوں نے مجھے گھر میں نوکرانی بناکر رکھا تھا _ گھر کے سارے کام میرے ذمے تھے ، اوپر سے چھوٹے سوتیلے بھائیوں بہنوں کو سنبھالنا _ امّی میرے خلاف ابّا کے کان بھرا کرتی تھیں اور ابا آنکھ بند کرکے ان پر یقین کرلیتے تھے _ میرے ابّا جماعت اسلامی کے رکن ہیں _ عدل و انصاف کی باتیں کرتے رہتے ہیں ، لیکن میرے معاملے میں انھوں نے کبھی انصاف سے کام نہیں لیا _ انھوں نے میری باتوں پر کبھی توجہ نہیں دی اور میری شکایتوں کی کبھی تحقیق کی کوشش نہیں کی _

میرے ماموں زاد بھائی کے لیے میرا رشتہ آیا تو ابا نے اسے منظور کرلیا اور میری جلد شادی کردی _ مجھے امید تھی کہ اب مجھے جہنم سے نجات مل جائے گی ، لیکن یہ میری خام خیالی تھی _ میرے سسرال کا ماحول میرے میکے سے مختلف نہ تھا _ وہاں سوتیلی اماں تھیں تو یہاں ساس _ انھوں نے بھی میری زندگی اجیرن بنانے میں کوئی کسر نہیں اٹھا رکھی _ بات بات پر طعنے دینا ، میرے کاموں میں خامیاں نکالنا ، مجھے پھوہڑ اور بے سلیقہ کہنا ان کا معمول رہا _ میرے شوہر بہت اچھے ہیں ، میرا بڑا خیال رکھتے ہیں ، لیکن وہ اپنی ماں کے اتنے سعادت مند ہیں کہ ان کے بارے میں میری ایک بات بھی سننے کے روادار نہیں ہوتے _

اس صورت حال سے میں بہت پریشان ہوں _ مجھے زندگی میں کبھی سکون اور خوشی نہیں ملی _ شادی سے پہلے سوتیلی ماں اور شادی کے بعد ساس کا رویّہ میرے لیے سوہانِ روح بنا رہا _ چنانچہ اب میں مستقل بیمار رہنے لگی ہوں _ کیا میرے اس مسئلے کا کوئی حل ہے؟
[ طویل خط کا خلاصہ]

جواب :
آپ کے مفصّل خط کا میں نے ایک ایک لفظ بڑے صبر کے ساتھ پڑھا _ اللہ تعالیٰ سے دعا ہے کہ وہ آپ کی عائلی زندگی کو پُر مسرّت بنائے اور افرادِ خانہ کے باہمی تعلقات میں تلخی کے بجائے خوش گواری پیدا فرمائے _ آپ کے مسئلے کا جواب ایک حدیث میں موجود ہے _
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : ایک شخص نے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ و سلم کی خدمت میں آکر عرض کیا :
يَا رَسُولَ اللَّهِ! إِنَّ لِي قَرَابَةً أَصِلُهُمْ وَيَقْطَعُونِي ، وَأُحْسِنُ إِلَيْهِمْ وَيُسِيئُونَ إلَيَّ ، وَأَحْلُمُ عَنْهُمْ وَيَجْهَلُونَ عَلَيَّ _
( اے اللہ کے رسول ! میرے کچھ رشتے دار ہیں _ میں ان ساتھ صلہ رحمی کرتا ہوں ، وہ میرے ساتھ قطع رحمی کرتے ہیں _میں ان کے ساتھ اچھے معاملات رکھتا ہوں ، وہ میرے ساتھ برا سلوک کرتے ہیں _ میں انہیں در گزر کرتا ہوں ، وہ میرے ساتھ جہالت اور زیادتی کا رویہ اختیار کرتے ہیں _
اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ و سلم نے ارشاد فرمایا :
” لَئِنْ كُنْتَ كَمَا قُلْتَ فَكَأَنَّمَا تُسِفُّهُمُ الْمَلَّ ، وَلَا يَزَالُ مَعَكَ مِنَ اللَّهِ ظَهِيرٌ عَلَيْهِمْ مَا دُمْتَ عَلَى ذَلِكَ ” (مسلم:2558)
( اگر تمھاری بات درست ہے تو گویا تم ان کے منھ میں گرم ریت بھر رہے ہو اور جب تک تم اس پر قائم رہو گے ، اللہ کی طرف سے ان کے خلاف تمھاری مدد کی جاتی رہے گی _”

یہ نسخہ آزمودہ ہے _ میں نے اس پر عمل کیا ہے اور اس کا فائدہ محسوس کیا ہے _ میرے بعض رشتے داروں سے میرے شدید اختلافات ہوئے _ میں نے مکمل خاموشی اختیار کرکے ان سے یک طرفہ تعلقات رکھے ، چنانچہ آہستہ آہستہ تمام اختلافات ختم ہوگئے اور ان کے ساتھ خوش گوار تعلقات استوار ہوگئے _

میرا مشورہ آپ کے لیے بھی یہ ہے کہ ان تمام باتوں کو یکسر فراموش کردیں _ ایسی بن جائیں جیسے کبھی کچھ ہوا ہی نہ ہو _ آئندہ اپنے والد ، سوتیلی ماں ، اپنے سگے بھائیوں بہنوں اور سوتیلے بھائیوں بہنوں ، ساس اور سسرال کے دیگر رشتے داروں سے یک طرفہ تعلقات رکھیں _ جو لوگ دور ہوں ، وقتاً فوقتاً فون پر ان کی خیریت معلوم کریں ، ان سے محبت کی باتیں کریں ، پچھلی کسی بات کا تذکرہ ہرگز نہ کریں _ جب کبھی وطن جائیں تو حسب حیثیت ان کے لیے کچھ نہ کچھ تحائف لے کر جائیں _

آپ کے پورے خط میں کوئی نئی بات نہیں ہے _ سوتیلی ماں کا یہ کردار ہم کتابوں میں بچپن سے پڑھتے آئے ہیں _ سوتیلی ماں نے حقیقی ماں کا کردار نبھایا ہوتا تو یہ قابلِ ذکر ہوتا _ اسی طرح ساس بہو کے جھگڑے کوئی نئے نہیں ہیں _ افسانوں ، ناولوں ، فلموں اور سیریلس میں یہی سب پڑھنے ، دیکھنے اور سننے کو ملتا ہے _

آخری بات یہ کہ جماعت اسلامی کے وابستگان کو اسلامی تعلیمات پر عمل اور افرادِ خاندان سے خوش گوار تعلقات رکھنے کے معاملے میں مثالی نمونہ پیش کرنا چاہیے ، لیکن یہ بھی حقیقت ہے کہ وہ فرشتے نہیں ہیں ، شیطان ان کے ساتھ بھی لگا رہتا ہے _ جماعت سے وابستگی نہ متّقی اور نیک ہونے کا سرٹیفکٹ ہے نہ جنت کا پروانہ _ ہر شخص انفرادی حیثیت میں اللہ کی بارگاہ میں حاضر ہوگا اور اپنے اعمال کی جزا پائے گا _

اوپر میں نے جو کچھ لکھا ہے اس پر عمل بہت مشکل ہے ، لیکن اگر عمل کیا جائے تو تعلقات کی درستگی کی صد فی صد ضمانت ہے _ اللہ تعالیٰ اس کی توفیق دے ، آمین _

Urdutimes@123

ہندوستان اردو ٹائمز پر آپ سب کا خیر مقدم کرتے ہیں

Leave a Reply

متعلقہ خبریں

Back to top button
Close
Close