راجستھان

خاکی وردی کی شرمناک کرتوت : جنسی زیادتی کی متأثرہ سے جسم بطور رشوت مانگنے والا اے سی پی گرفتار

جے پور ،14مارچ ( آئی این ایس انڈیا ) راجستھان پولیس کی خاکی وردی پر ایک بڑا دھبہ لگ گیاہے۔ جے پور میں ایک پولیس افسر کوجنسی زیادتی کی متأثرہ خاتون سے ’جسم‘ بطور رشوت مانگنے کے معاملہ میں اے سی بی نے گرفتار کرلیاہے۔تفصیلات کے مطابق اتوار کے روز آر پی ایس افسر کیلاش بوہرا کو اے سی بی نے ا س کے دفتر میں قابل اعتراض حالت میں پکڑ لیا۔

عصمت دری کے معاملہ کی تفتیش کے بہانے ملزم افسر نے کئی بار 30 سالہ متاثرہ خاتون کواپنے دفتر بلایا۔ پہلے اس نے تفتیش کے لئے رشوت طلب کی ، بعد ازاں اس نے متاثرہ سے رشوت کے طور پر اس کا جسم مانگ لیا ۔ جس سے پریشان ہوکر متاثرہ خاتون نے پورے معاملہ کی شکایت اے سی بی سے کی۔اے سی بی کے ڈی جی بی ایل سونی نے بتایا کہ گرفتار آر پی ایس افسر کا نام کیلاش بوہرہ ہے۔ وہ جے پور سٹی (مشرقی) ضلع میں خواتین پر زیادتی سے متعلق محکمہ ریسرچ یونٹ کے انچارج اسسٹنٹ کمشنر پولیس کی حیثیت سے تعینات ہے۔ 6 مارچ کومتأثرہ خاتون نے کیلاش بوہرہ کے خلاف شکایت درج کروائی تھی۔ شکایت میں بتایا گیا تھا کہ اس نے جواہر سرکل پولیس اسٹیشن میں 3 نوجوانوں کیخلاف عصمت دری ، ایک نوجوان کے خلاف دھوکہ دہی اور دیگر معاملات کے تحت ایف آئی آر درج کرایا تھا۔جس کی تحقیقات خواتین کیخلاف زیادتی کے متعلقہ محکمہ کے آفیسر اے سی پی کیلاش بوہرہ کررہے ہیں۔

متاثرہ لڑکی نے الزام لگایا کہ تفتیشی افسر کیلاش بوہرہ نے ان تینوں معاملہ میں کارروائی کرنے کے لئے پہلے اس سے رشوت طلب کی، جب اس نے رقم نہیں دی تو اس نے تفتیش کے نام پر دفتر بلانے لگا ۔ آخر کار اس نے جسم کو بطور رشوت طلب کرکے ہراساں کرنا شروع کردیا۔ خاتون نے یہ بھی الزام لگایا کہ اے سی پی کیلاش بوہرہ نے آفس کے وقت کے بعد بھی ان سے ملنے کے لئے دباؤ ڈالتا تھا۔ اتوار کے روز متأثرہ خاتون کو کیلاش بوہرہ نے ا پنے سرکاری دفترمیں طلب کیا۔ کیلاش بوہرہ کو معلوم تھا کہ اتوار کے روز چھٹی کی وجہ سے عملہ آج موجود نہیں ہے، جب لڑکی وہاں پہنچی ،تو کیلاش نے اسے آفس بلایا۔ اندر سے دروازہ لاک کرلیا۔ اس کے بعد اے سی بی کی ٹیم نے خاتون کے ساتھ مذکورہ آفسر کو قابل اعتراض حالت میں گرفتار کرلیا۔اے سی بی کے ایڈیشنل ڈائریکٹر جنرل کی ہدایت پر ملزم کیلاش بوہرہ کی رہائش گاہ اور دیگر مقامات پر تلاشی جاری ہے۔

Urdutimes@123

ہندوستان اردو ٹائمز پر آپ سب کا خیر مقدم کرتے ہیں

Leave a Reply

متعلقہ خبریں

Back to top button
Close
Close