دیوبند

دیوبند : بچوں کے والدین نے انسپکٹر آف اسکول کا پتلا نذر آتش کیا

دیوبند، 9؍ جولائی (رضوان سلمانی) سہارنپور میں آج فیس معافی کو لیکر بچوں کے والدین نے انسپکٹر آف اسکول کا پتلا نذر آتش کیا۔ تقریبا تین ماہ سے بچوں کے والدین کی جانب سے فیس معافی کا مطالبہ کیا جارہا ہے، بچوں کے والدین کا کہنا ہے کہ جب اسکول نہیں کھولے جارہے ہیں تو فیس کا کوئی مطلب نہیں بیٹھتا۔ تفصیل کے مطابق تقریبا تین ماہ سے برابر بچوں کے والدین کی جانب سے اسکول کی فیس معافی کو لیکر مختلف طریقہ سے احتجاجی مظاہرے کئے جارہے ہیں اور تین ماہ کی فیس معاف کرنے کا مطالبہ بھی کیا جارہا ہے ۔

اسی تناظر میں آج بچوں کے والدین نے سہارنپور میں کلکٹریٹ چوراہے پر پہنچ کر انسپکٹر آف اسکول کا پتلا نذر آتش کیا اور فیس معافی کا مطالبہ کیا۔ اس موقع پر بچوں کے والدین کا کہنا تھا کہ کورونا کے دور سے ہی بچے تعلیم حاصل کرنے کے لئے اسکول نہیں جاپارہے ہیں مگر اسکول انتظامیہ روز بروز فیس ادا کرنے کا مطالبہ کر رہے ہیں، ان کا کہنا ہے کہ جب تین ماہ سے اسکول بند ہیں تو بچوں کے والدین فیس کیوں ادا کریں، ان کا یہ بھی کہنا ہے کہ آن لائن تعلیم کے نام پر بھی اضافی فیس طلب کی جارہی ہے، جبکہ آن لائن تعلیم کچھ منٹوں کے لئے ہی کرائی جارہی ہے، جس میں پوری محنت والدین کی ہوتی ہے بچوں کے والدین کا کہنا تھا کہ آن لائن تعلیم میں صرف ہوم ورک دے دیا جاتا ہے۔ ہم اسکول انتظامیہ کو فیس کس بات کی ادا کریں۔

انہوں نے کہا کہ کرونا کے اس دور میں لاک ڈاؤن کی وجہ سے لوگ پریشان ہیں کاروبار بالکل بند ہیں، آمدنی کا فی الحال کوئی نظم نہیں ہے بہت سے بچوں کے والدین کے پاس تو کھانے تک کے لئے پیسے نہیں ہیں اور وہ بڑی مشکل سے اپنے گھر بار کو چلا رہے ہیں۔ بچوں کے والدین کا کہنا تھا کہ فیس معافی کے مطالبہ کو لے کر بچوں کے والدین کافی روز سے مختلف طریقوں سے احتجاج کر رہے ہیں۔ افسران کو میمورنڈم بھی دیئے جاتے رہے ہیں مگر حکومت وانتظامیہ اس طرف کوئی توجہ نہیں دے پا رہا ہے اس لئے آج ہم نے یہ قدم اٹھایا ہے۔ اگر ہمارے مطالبے کو نہیں مانا گیا اور بچوں کی تین ماہ کی فیس معاف نہیں کی گئی تو ہم آگے تحریک چلانے پر مجبور ہوں گے۔

Urdutimes@123

ہندوستان اردو ٹائمز پر آپ سب کا خیر مقدم کرتے ہیں

متعلقہ خبریں

Leave a Reply

Back to top button
Close
Close