دیوبند

دیوبند: آل انڈیا متحد محاذ کی جانب سے وزیر اعظم کو ارسال کیا میمورنڈم

جے این یو میں شرپسند عناصر کا طلبہ پر حملہ ایک سوچی سازش کا حصہ : مفتی ارشد فاروقی

دیوبند، 6؍ جنوری (رضوان سلمانی) آل انڈیا متحدہ محاذ مظفرنگر کے صدر شاہنواز آفتاب کی قیادت میں محاذ کے عہدیداران اور ممبران نے متفقہ طور پر احاطہ عدالت میں اپنا احتجاج درج کرایا اور مختلف مسائل کو لے کر ایک میمورنڈم ضلع مجسٹریٹ مظفرنگر کے توسط سے وزیر اعظم ہند کو ارسال کیا گیا۔ میمورنڈم میں گزشتہ رات دہلی کے جے این یو یونیورسٹی میں کچھ نقاب پوش شرپسند عناصر نے گھس کر طلبہ پر حملہ کیا جس میں متعدد طلبہ واساتذہ زخمی ہوئے ۔ متحدہ محاذ اس کی مذمت کرتا ہے اور آپ سے مطالبہ کرتا ہے کہ وہ اس معاملے کی منصفانہ طریقے پر تحقیق کرائے اور قصورواروں کو سخت سے سخت سزا دلائی جائے۔ میمورنڈم میں پاکستان میں سکھوں کے ننکانہ صاحب گوردوارے پر کچھ شرارتی عناصر نے حملہ کرتے ہوئے پتھر بازی کی ہے ،متحدہ محاذ اس کی بھی مذمت کرتا ہے اور یہ حملہ مذہب اور انسانیت کو شرمسار کرنے والا ہے۔ کسی بھی مذہب میں دوسرے مذہب کا احترام نہ کرنا نہیں سکھا گیا ہے ۔ میمورنڈم میں مطالبہ کیا گیا ہے کہ دونوں مقامات پر حملہ کرنے والوں کی شناخت کرکے سخت سے سخت سزا دلائی جائے تاکہ پاکستان اور جے این یو میں مستقبل میں کبھی بھی اس طرح کی حرکت نہ ہوسکے اور پاکستان میں سکھ برادری کے لئے حفاظتی انتظامات کا بندوبست کیا جائے۔ میمورنڈم دینے والوں میں شاہواز آفتاب،ڈاکٹر مرتضیٰ سلمانی، محبوب عالم ایڈوکیٹ ، منور حسن ایڈوکیٹ، فیض یاب عالم ایڈوکیٹ، برہان ایڈوکیٹ، فراز ایڈوکیٹ، قاضی نعیم ایڈوکیٹ ، دائود چودھری ایڈوکیٹ ، شہزاد چودھری ایڈوکیٹ ، مرغوب چودھری ایڈوکیٹ ، حاجی شمشاد علی، محمد صابر، فرقان ادریسی، سلیمان، تنویر احمد، مراد علی، ساجد، حاجی وسیم، مظفراحمد، دلنواز، مولانا سعید قاسمی وغیرہ موجود رہے۔ دوسری جانب فتویٰ آن لائن سروس کے چیئرمین مفتی ارشد فاروقی نے جے این یو میں گزشتہ رات ہوئے واقعہ کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ جے این یو میں طلبہ احتجاج کررہے تھے ، اپنے حقوق کی مانگ کررہے تھے ان پر آرایس ایس کے طلبہ ونگ کے نوجوانوں نے وحشیانہ ، دردناک، المناک، انسانیت سوز اور دستور کو توڑنے والا جو حملہ کیا ہے وہ قابل مذمت ہی نہیں بلکہ انسانیت اور ملک کو شرمندہ کرنے والا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ انسانی حقوق کی تنظیمیں اس طرف متوجہ ہیں۔ انہوں نے افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ جس وقت شرپسند عناصر یونیورسٹی میں طلبہ پر حملہ کررہے تھے ایسے وقت میں پولیس کو اندر جانے نہیں دیا گیا اور پولیس باہر کھڑی رہی ، بجائے اس کے جیسے پولیس جامعہ اور علی گڑھ کے اندر گھسی تھی ، جے این یو میں گھس کر ان کو گرفتار کرتی ۔ مولانا نے کہا کہ یہ ایسا ظلم ہے کہ ہندوستان کے تمام شہریوں کو انسانیت اور ملک کو زندہ رکھنے کے لئے کھڑا ہوجانا چاہئے۔ انہوں نے کہا کہ دستور کو بچانے کے لئے ضروری ہے کہ اس پر سخت کارروائی ہونی چاہئے اور اس کے خلاف کھڑے ہوجانا چاہئے۔ یقینا یہ کوئی بڑا منصوبہ اور بڑی سازش ہے۔

Urdutimes@123

ہندوستان اردو ٹائمز پر آپ سب کا خیر مقدم کرتے ہیں

Leave a Reply

متعلقہ خبریں

Back to top button
Close
Close