دیوبند

دیوبند : کانپور میں پولیس اہلکاروں کی شہادت ریاستی حکومت کی بڑی ناکامی : نسیم انصاری ایڈوکیٹ

دیوبند، 3؍ جولائی (رضوان سلمانی) آج علی الصبح کانپور میں بدمعاشوں کے ذریعہ پولیس افسران سمیت 8پولیس اہلکاروں کو بڑی بے رحمی سے قتل کئے جانے سے لوگوں میں زبردست ناراضـگی ہے ۔ حکومت اترپردیش سے مطالبہ کیا جارہا ہے کہ بدمعاشوں سے جلد سے جلد بدلہ لیا جائے ۔ اس سلسلے میں مومن کانفرنس کے شہر صدر نسیم انصاری ایڈوکیٹ نے اپنے ایک بیان میں کہا ہے کہ کانپور میں سی او سمیت 8پولیس اہلکاروں کی شہادت کا ریاستی حکومت کو فوراً بدلہ لینا چاہئے او راس واقعہ کے لئے ذمہ دار سبھی ملزمان کو فوراً گرفتار کرنے کی پولیس کو کھلی چھوٹ دینی چاہئے ۔ انہوں نے کہا کہ اس واردات سے یہ بھی ثابت ہوگیا ہے کہ بدمعاش کا کسی کا بھی سگا نہیں ہوتا ہے او راس سے سماج کو ہمیشہ خطرہ ہی رہتا ہے ۔ اس لئے ہندوستان کی سب سے بڑی عدالت سپریم کورٹ سیاست میں سے جرائم پیشہ افراد کو باہر کرنے کے حق میں ہے اس لئے اس مسئلے پر سبھی سیاسی جماعتوں کو ایک رائے ہوکر صاف ستھری سیاست کا راستہ آسان کرنا چاہئے اور مذکورہ واقعہ میں شہید ہوئے سبھی پولیس اہلکاروں کے اہل خانہ کو ایک ایک کروڑ روپے نقد اور شہید ہونے والے پولیس اہلکاروں کے اہل خانہ کے ایک فرد کو سرکاری ملازمت دی جانی چاہئے۔

[ads1]

انہوں نے یہ بھی کہا کہ حکومت کو اس بات کا بھی پتہ لگاناچاہئے کہ مذکورہ بدمعاش کو کہیں سیاسی سرپرستی تو حاصل نہیں ہے۔ اُدھر سماج وادی پارٹی کے ضلع نائب صدر سکندرعلی نے اترپردیش میں قانون کے نظم و نسق کی پامالی کاحوالہ دیتے ہوئے گزشتہ رات کانپور میں پولیس اہلکاروں پر ہونے والے جان لیوا حملہ پر سخت برہمی کااظہارکیاہے اور ریاستی حکومت کی ناکامی کونشانہ بناتے ہوئے شہید ہونے والے پولیس اہلکاروں کے خاندانوں کو ایک ایک کروڑ روپے بطور معاوضہ دیئے جانے کامطالبہ کیا۔ جمعہ کے روز جاری بیان میں سکندرعلی نے کہا کہ اس وقت اترپردیش میں قانون نام کی کوئی چیز باقی نہیں بچی ہے۔ انھوں نے کہا کہ جرائم پیشہ افراد کے حوصلے اتنے بلند ہیں کہ وہ پولیس اہلکاروں کو بلاخوف اپنا نشانہ بنارہے ہیں۔ سکندرعلی نے گزشتہ رات کانپور میں ہسٹری شیٹر وکاس دوبے اور اس کے ساتھیوں کی جانب سے آٹھ پولیس اہلکاروں کو موت کے گھاٹ اتاردیے جانے کے واقعہ کوریاستی نظم و نسق کے قطعی طورپر ناکام ہوجانے سے تعبیر کیاہے۔ انھوں نے کہا کہ اترپردیش کی موجودہ صورتحال پر اب سوالیہ نشان لگ چکاہے، کیونکہ اس وقت پورے صوبے میں جنگل راج کاماحول ہے۔

[ads5]

انھوں نے کہا کہ کانپور جیسے واقعات رونماہونے سے پولیس کاوقار اوردبدبہ ختم ہوتاجارہاہے، جس کی وجہ سے صوبہ کی عوام بھی کشمکش کی حالت میں ہے۔ سماج وادی پارٹ کے ضلع نائب صدر نے صوبائی حکومت سے مذکورہ واقعہ کی اعلیٰ سطحی جانچ کرائے جانے کامطالبہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ حملہ آوروںاور قاتلوں کے خلاف سخت سے سخت قانونی کارروائی کی جائے اور شہید ہوجانے والے پولیس اہلکاروں کے خاندانوں کو ایک ایک کروڑ روپے کی رقم بطور معاوضہ دی جائے اور ہرمتأثر خاندان کے ایک فرد کو سرکاری ملازمت دی جائے۔ وہیں دیوبند کی دیگر سماجی وسیاسی تنظیموں نے بھی کانپور کے واقعہ کی سخت مذمت کی ہے۔ بی جے پی کے شہر صدر کی رہائش گاہ پر ایک تعزیتی میٹنگ منعقد کرکے کانپور میں شہید ہوجانے والے پولیس اہلکاروں کو خراج عقیدت پیش کیاگیا۔ وپن گرگ نے کہا کہ شہید ہوجانے والے پولیس اہلکاروں کے خاندانوںکے دکھ میں ریاستی حکومت برابر کی شریک ہے۔ اس کے علاوہ یوامورچہ کے ضلع جنرل سکریٹری ابھیشیک تیاگی نے مطالبہ کیا کہ اترپردیش سے غنڈہ راج کو مکمل طورسے ختم کیاجاناچاہیے۔ انھوں نے بھی شہید پولیس اہلکاروں کے خاندانوں کو معاوضہ دیئے جانے اور ایک فرد کو ملازمت دیئے جانے کا مطالبہ کیا۔

Urdutimes@123

ہندوستان اردو ٹائمز پر آپ سب کا خیر مقدم کرتے ہیں

متعلقہ خبریں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
Close
Close