دیوبند

اشفاق اللہ خان ہیلپ کیئر ٹرسٹ اینڈ چیری ٹیبل ہاسپٹل نے ایس ڈی ایم کو سونپا میمورنڈم

اقتدار کے نشے میں مست بی جے پی لیڈران نے سرکاری اسپتال کے انچارج کے ساتھ جو بداخلاقی کا مظاہرہ کیا وہ قابل مذمت ہے

دیوبند، 30؍ جون (رضوا ن سلمانی) اشفاق اللہ خان ہیلپ کیئر ٹرسٹ اینڈ چیری ٹیبل ہاسپٹل نے دیوبند کے سرکاری اسپتال میں سی ایچ سی انچارج اور اسٹاف کے ساتھ بی جے پی کے کارکنان کی جانب سے کی جانے والی بدسلوکی پر سخت ناراضگی کااظہار کیاہے اور ریاستی وزیراعلیٰ سے کورونا مجاہدین کے ساتھ نہایت برا سلوک کرنے والوں کے خلاف کارروائی کیے جانے کا مطالبہ کیاہے۔ ٹرسٹ کے منیجر ضرار خان نے کہا کہ اقتدار کے نشے میں مست بی جے پی لیڈران نے گزشتہ دن دیوبند کے سرکاری اسپتال میں سی ایچ سی انچارج اور اسٹاف کے ساتھ جس طرح بدتہذیبی اور بداخلاقی کامظاہرہ کیاہے وہ نہایت قابل مذمت ہے۔

انھوں نے کہا کہ کورونا کی جان لیوا مہلک وبا کے دوران ڈاکٹروں نے اپنی جانوں کی پرواہ نہ کرتے ہوئے عوام کی بے لوث خدمت کی ہے، بلکہ یہ کہنا چاہئے کہ کورونا سے ٹکر لینے والے حقیقی مجاہدین صرف ڈاکٹر ہی ہیں۔ انھوں نے ریاستی وزیراعلیٰ یوگی آدتیہ ناتھ سے اقتدار کے نشے میں مست ہوکر ڈاکٹروں سے بدسلوکی کرنے والوں کے خلاف کارروائی کیے جانے کا مطالبہ کیاہے۔ واضح ہو کہ پیر کے روز دیوبند کے سرکاری اسپتال کے زچہ بچہ وارڈ میں پینے کے پانی کا نظم نہ ہونے اور وہاں پھیلی گندگی سے متعلق احتجا ج کرتے ہوئے بی جے پی کارکنان نے زبردست ہنگامہ آرائی کی تھی، جس کے بعد اسپتال کے اسٹاف نے بھی اپنی ناراضگی کااظہارکرتے ہوئے ہڑتال کرنے کااعلان کردیاتھا، لیکن اِسی دوران دیوبند اسمبلی حلقہ کے ایم ایل اے نے موقع پر پہنچ کر دونوں فریقوں کو سمجھا بجھاکر معاملہ کو رفع دفع کردیاتھا۔

مذکورہ واقعہ سے ناراض اشفاق اللہ خاں ٹرسٹ کے عہدیداران منگل کے روزایس ڈی ایم دفتر پہنچ گئے اور وہاں انھوں نے ایس ڈی ایم کی غیر موجودگی میں اسٹینو کو ریاستی وزیر اعلی کے نام ایک میمورنڈ دیا۔ دیے گئے میمورنڈم میں تنظیم کی جانب سے ڈاکٹروں کے ساتھ کی جانے والی بدتمیزی اوربدسلوکی نیز پورے واقعہ کی جانچ کرائے جانے کامطالبہ کیا۔ میمورنڈم دینے والوں میں ضرار خان ، اکرام بیگ، فرح، صبا، اکرم، ریشما انصاری، مقیم عباسی، سلطانہ، ادیبہ، ثانیہ اور صنور خان وغیرہ موجودرہے۔

Urdutimes@123

ہندوستان اردو ٹائمز پر آپ سب کا خیر مقدم کرتے ہیں

متعلقہ خبریں

جواب دیجئے

Back to top button
Close
Close