دیوبند

ریلوے روڑ پولیس چوکی میں واقع مندر کا گیت سڑک کی جانب کھولے جانے کے معاملہ نے پکڑا طول

دیوبند، 25؍ جون (رضوان سلمانی) ریلوے روڑ پولیس چوکی میں واقع مندر کا گیت سڑک کی جانب کھولے جانے کے معاملہ نے طول پکڑلیاہے۔ جمعرات کے روز سابق ایم پی راگھو لکھن پال شرما دیوبند پہنچے اور انھوں نے افسران سے بات چیت کرکے معاملہ کاحل نکالنے کی کوشش کی۔

تفصیل کے مطابق جمعرات کے روز ریلوے روڑ پر واقع پولیس چوکی پہنچ کر سابق ایم پی راگھو لکھن پال شرما نے مندر کامعائنہ کیا، اس دوران بی جے پی کارکنان نے بتایا کہ میونسپل چیئرمین کے بیٹے کے دبائو میں انتظامیہ نے مندر کا گیٹ بندکرادیا۔

سابق ایم پی نے مندر کامعائنہ کرنے کے بعد ڈاگ بنگلہ پر پہنچ کر سی او رجیش اپادھیائے اور کوتوالی انچارج یگیہ دت شرما سے ملاقات کی۔ سابق ایم پی نے ڈی ایم اکھلیش سنگھ سے فون پر بات چیت کرتے ہوئے گیت کو کھولے جانے کا مطالبہ کیا۔

ڈی ایم نے پورے معاملہ کی جانچ کرانے کے بعد ضروری کارروائی کیے جانے کی یقین دہانی کرائی۔ اس موقع پر بڑی تعداد میں بی جے پی کارکنان موجودرہے۔ واضح ہو کہ ریلوے روڑ پولیس چوکی میں واقع شیو مندر کا گیٹ کئی یوم قبل سڑک کی جانب کھول دیاگیاتھا، جس کی میونسپل بورڈ کے چیئرمین اور میونسپل ممبران نے سخت مخالفت کی تھی، جس کے بعد انتظامیہ نے مذکورہ گیٹ کو بندکرادیاتھا۔

وہیں دوسری جانب شہر کے کچھ ذمہ داران افراد نے پولیس چوکی کے باہر واقع پانی پینے کی ٹنکی کو توڑ کر غائب کیے جانے اور اس کی جگہ بغیر اجازت مندر کاگیٹ بنانے والوں کے خلاف کارروائی کیے جانے کا مطالبہ کیاہے۔

اس سلسلہ میں ریلوے روڑ کے باشندوں نے ایس ایس پی کو ایک تحریر بھیج کر مذکورہ معاملہ میں کارروائی کیے جانے کامطالبہ کیاہے۔ ریلوے روڑ کے باشندہ محمد مظہر ، جاوید، افسر اور لیاقت وغیرہ نے ایس ایس پی کو ایک تحریر بھیج کر کہا ہے کہ پولیس چوکی کے باہر راہگیروں کی پیاس بجھانے کے لیے میونسپل بورڈ دیوبند کی جانب سے کئی سال پہلے پانی پینے کی ایک ٹنکی تعمیر کی گئی تھی اور اس کے برابر میں ہی ایک سرکاری ہینڈ پمپ بھی لگوایاتھا،

لیکن کچھ دنوں قبل راتوں رات ہنڈپمپ کو غائب کرکے اور تعمیر کی گئی ٹنکی کو توڑ کر مذکورہ جگہ کو مندر کاگیٹ بنادیاگیاتھا۔ تحریر میں کہا گیاہے کہ بغیر اجازت کے گیٹ کی تعمیر کرنے اور ہینڈپمپ و پانی پینے کی ٹنکی کو منہدم کرنے والوں کے خلاف کارروائی کئے جانے کامطالبہ کیا ہے۔

Urdutimes@123

ہندوستان اردو ٹائمز پر آپ سب کا خیر مقدم کرتے ہیں

Leave a Reply

Back to top button
Close
Close