دیوبند

محکمہ بجلی نے خاموشی سے بجلی کی شرح میں کیا اضافہ ، لوگوں میں ناراضگی

دیوبند، 3؍ جنوری (رضوان سلمانی) نئے سال میں عوام کو بڑا جھٹکا دیتے ہوئے پاور کارپوریشن نے پورے صوبے کی بجلی شرحوں میں 66پیسے فی یونٹ تک نہایت خاموشی کے ساتھ اضافہ کردیا ہے۔ اس سلسلے میں پاورکارپوریشن نے اجازت لینے کی بھی ضرورت نہیں سمجھی ۔ اس حکم نامے کے خلاف اترپردیش صوبائی بجلی صارفین بورڈ متعلقہ محکمہ میں پہنچ گیا اور اس نے اضافہ شدہ شرحوں پر اپنی شدید ناراضگی کا اظہار کیا۔ اس کے بعد کارپوریشن نے بھی صارفین کو راحت دیتے ہوئے مذکورہ حکم نامے پر پابندی عائد کردی ۔ کوئلے اور تیل کی قیمتوں میں اضافے کی بات کا بہانہ بناکر پاور کارپوریشن نے انکری مینٹل کاسٹ کے نام پر اسی ماہ سے تمام کٹیگری کے بجلی صارفین کے بلوں میں خاموشی کے ساتھ اضافہ کردیا۔ کارپوریشن نے بجلی کے بلوں میں 4سے 66پیسے تک فی یونٹ کے اضافے کے احکامات جاری کردیئے تھے اور بلنگ سوفٹ ویئر میں بھی ترمیم کرنی شروع کردی تھی ۔ اس بات کی اطلاع ملتے ہی صارفین بورڈ کے صدر اودھیش کمار ورما نے پاورکارپوریشن کے ذمہ داران اور افسران سے ملاقات کرکے مذکورہ اضافے کی سخت مخالفت کی جس کے بعد بورڈ نے اضافہ شدہ شرحوں کو غلط بتاتے ہوئے کوئی فیصلہ لئے جانے پر اس پر پابندی عائد کردی ۔ بورڈ کے صدر نے پاورکارپوریشن کو بتایا کہ صارفین کے بجلی بلوں میں تقریباً 26پیسے فی یونٹ کے اوسط سے اضافہ کیا گیا ہے ۔ بورڈ کے صدر آرپی سنگھ کے مطابق پاورکارپوریشن نے اس مسئلے پر متعلقہ افسران سے گزشتہ 13دسمبر کو جواب مانگا تھا ، جس کے بعد 20دسمبر کو اس کا جواب کارپوریشن کو بھیجا گیا ہے لیکن اسی دن بجلی کی شرحوں میں بھی اضافہ کردیا گیا ۔ جب کہ شرحوں میں اضافے کا معاملہ ابھی متعلقہ محکمے کے زیر غور تھا ۔ پاورکارپوریشن کے تجزیئے کو بھی غلط بتاتے ہوئے بورڈ نے کہا کہ صحیح تجزیہ کرنے پر یہ بات سامنے آئی ہے کہ صارفین کی بجلی کمپنیوںپر بقایا رقم نکل رہی ہے ۔ بورڈ کے صدر نے اس پورے معاملے کی شکایت بجلی محکمے کے وزیر شری کانت شرما سے کرنے کی تیاری کرلی ہے ۔

Urdutimes@123

ہندوستان اردو ٹائمز پر آپ سب کا خیر مقدم کرتے ہیں

جواب دیجئے

Back to top button
Close
Close