دیوبند

تین سال بعد ایک شخص کے اچانک زندہ ہونے کی اطلاع پر اہل خانہ میں خوشی کا ماحول

دیوبند، 27؍ مئی (رضوان سلمانی) دیوبند سے 20 کلو میٹر دور گاؤں راجوپور میں اس وقت سبھی لوگ حیرت زدہ رہ گئے جب گاؤں کے باشندوں کو معلوم ہوا کی گاؤں سے دو تین سال قبل کرما عرف کرم سنگھ جسکی دماغی حالت ٹھیک نہیں تھی وہ گھر سے سھارنپور کے پاس رشتہ داری میں گیا تھا، اور وہاں سے گھر واپس نہی آیا، کچھ روز بعد اہل خانہ نے رشتہ داری میں رابطہ کیا تو وہاں سے معلوم ہوا کہ کرما وہاں سے کچھ روز قبل جا چکا ہے،

اہل خانہ نے بہت تلاش کیا مگر اس کا کچھ پتہ نہیں چلا، تو اس کی گم شدگی کی رپورٹ تھانہ میں درج کراء، کچھ روز قبل ہی کرما کے چھوٹے بیٹے پرمود کو فون کے ذریعہ اطلاع ملی تھی کہ اس کے والد بنگلور میں ھے، اور اسکی ذہنی حالت بلکل ٹھیک ہے،

یہ معلوم ہوتے ہی ایل خانہ میں خوشی کی لہر دوڑ گئی، اور پورے گاؤں میں یہ بات پھیل گئی، جب آج اخباری نمائندے راجوپور پہنچے اور گاؤں کے باشندوں سے بات کی تو معلوم ہوا کہ سبھی لوگ بڑی بے صبری سے کرما کا انتظار کر رہے ہیں، لوگوں کو یہ امید نہیں تھی کہ کرما اب زندہ ہے، اور وہ با حفاظت گاؤں واپس آجائے گا،

جب اخباری نمائندے کرما کے گھر پہنچے تو وہاں پر لوگ جمع ہوگئے۔ جب ہم نے کرما کے چھوٹے بیٹے پرمود سے بات کی تو انہوں نے بتایا کہ ہم نے اپنے والد کے آنے کی امید چھوڑ دی تھی۔ واضح ہو کہ کرما کے گھر میں بڑا بیٹا سنجے اور چھوٹا بیٹا پرمود اور اسکی تین بیٹیاں ہیں، کرما کے دونوں بیٹے شادی شدہ ہیں، اور کرما کی بیوی کا بہت سال قبل انتقال ہو چکا ہے،

کرما کا دلت سماج سے تعلق ہے اور غریب خاندان سے تعلق رکھتا ہے، کرما کے پاس کھیتی کی زمین بھی بہت کم ہے، گاؤں کے باشندوں کا کہنا ہے کہ کرما کی دماغی حالت کچھ ٹھیک نہیں تھی ۔جس وجہ سے وہ گھر چھوڑ کر کہیں چلا گیا تھا، اس کے اہل خانہ نے بہت تلاش کیا مگر اس وقت اس کا کوئی پتہ نہیں چل پایا تھا۔ جیسے ہی اس کے زندہ رہنے کی خبر موصول ہوئی تو پورے گائوں میں خوشی کی لہر دوڑ گئی او رہم اب اس کے آنے کا انتظار کررہے ہیں۔

Urdutimes@123

ہندوستان اردو ٹائمز پر آپ سب کا خیر مقدم کرتے ہیں

متعلقہ خبریں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
Close
Close