دیوبند

نجم الاسلام قدوسی کی صاحبزادی ہانیہ قدسی نے قرآن کریم مکمل کیا

دیوبند، 22؍ مئی (رضوان سلمانی) قرآن کریم اللہ کا کلام ہے۔ اس کا پڑھنا اور پڑھانا سعادت دارین کا سبب ہے۔ یہ اللہ کا آخری کلام ہے اور ہمیشہ کے لئے ہے۔ یہ کلام ضائع نہیں ہوگا اور نہ اسے ختم کیا جاسکے گا۔ یہ دیگر آسمانی کتابوں کی طرح نہیں کہ ایک وقتِ خاص کے لئے تھیں، وہ وقت گزرا اور یہ کتابیں تحریفاتِ انسانی کا شکار ہوگئیں۔ قرآن اول روز سے اسی حالت میں ہے اور تاقیامت ایسا ہی رہے گا۔ اس کے فضائل، اس کی عظمتیں اور اس کی برکات جن کا اظہار قرآن کریم نے خود اور رسالت مآب صلی اللہ علیہ وسلم سے ہوا، اسی طرح باقی رہیں گی۔

ہر مسلمان ماں باپ کا فرض ہے کہ وہ قرآن کریم کی تعلیم کا اہتمام کریں اور اپنے بچوں کے لئے خصوصی نظم کو لازمی جانیں۔ اس سعادت کو اللہ رب العزت نے نجم الاسلام قدوسی کی صاحبزادی ہانیہ قدوسی کے لئے مقرر فرمایا اور انگریزی تعلیم کے ساتھ ناظرہ قرآن کریم پڑھنے کی سعادت حاصل ہوئی۔ نیک بختی کی یہ بات بھی ہے کہ اللہ تعالیٰ نے رمضان المبارک کے آخری عشرے اور جمعۃ الوداع کے موقع پر بچی کو قرآن کریم کی تکمیل کا موقع عنایت فرمایا۔

ہانیہ قدوسی کے قرآن کریم کی تکمیل کے موقع پر اہل خانہ، عزیزوں ، رشتہ داروں اور متعلقین نے مبارکباد پیش کی۔ اس موقع پر مولانا قاری عفان منصورپوری نے ٹیلی فون پر مبارک باد دیتے ہوئے بچی کو دعائوں سے نوازا اور کہا کہ اللہ تعالیٰ بچی کی خوش نصیبیوں میں اضافہ فرمائے، مزید دین کی راہوں پر چلنے کی توفیق اور والدین میں اس کے اہتمام کا جذبہ پیدا فرمائے۔ میری دلی دعائیں بچی اور اہل خانہ کے لئے ہیں۔

دارالعلوم وقف دیوبند کے استاذ مولانا نسیم اختر شاہ قیصر نے مبارکباد دیتے ہوئے کہا کہ ہمارے گھروں میں اگر قرآن کریم کی تعلیم کا اہتمام باقی رہا تو انشاء اللہ عالَم میں ہم سرخرو ہوں گے۔ ہمار ا قرآن کریم سے رشتہ اور تعلق منقطع ہوا تو یہیں سے ہماری ہلاکت کا آغاز ہوگا۔ قرآن کو پڑھنے اور اس کی تعلیمات پر عمل کرنے کی ہمیں کوشش کرنی چاہئے کہ اس کے بغیر کسی بھی فلاح کا امکان نہیں۔ رب کائنات قرآن کریم مکمل کرنے والی اس بچی پر، اہل خانہ پر اپنی رحمتیں نازل فرمائے۔ اس موقع پر زعیم عابد، ذکی عثمانی، رضی عثمانی، عبدالباسط اور عمرا لٰہی محمد باسم، عمیر الٰہی نے بھی ہانیہ قدوسی کو مبارک باد پیش کی۔

Urdutimes@123

ہندوستان اردو ٹائمز پر آپ سب کا خیر مقدم کرتے ہیں

جواب دیجئے

Back to top button
Close
Close