دیوبند

صدقہ فطر ہرآنگن میں خوشی کے پھول کھلاتا ہے: مفتی ارشد فاروقی

دیوبند، 22؍ مئی (رضوان سلمانی) اللہ تعالی نے رمضان المبارک کے روزوں کی تکمیل اور ان میں ہونے والی کوتاہیوں کے ازالے اور غریبوں کو عید کی خوشیوں میں شریک کرنے کے لیے صدقہ فطر واجب کیا ہے،صدقہ فطر کی حکمت فقیروں محتاجوں غریبوں پریشان حال لوگوں کی خبر گیری اوران کی داد رسی ہے اور انہیں عید کیدن دست سوال سے بچا نا ہے تاکہ یہ لوگ بھی لوگوں کے ساتھ عید کی خوشیوں میں شریک ہوسکیں،اور یہ عید ہر آنگن میں خوشی کے پھول کھلائے،اور صدقہ دینے والا احسان و کرم غمخواری کی اعلی صفات سے متصف ہوتا ہے صدقہ فطر سے روزہ دار کے روزوں میں رہ جانے والی کمیاں، لغزشیں دور ہوجاتی ہیں،

صدقہ فطر روزوں کی تکمیل ہو جانے کے موقع پر ذریعہ اظہار مسرت ہے نعمت کا نذرانہ ہے،حضرت عبداللہ ابن عباس رضی اللہ تعالی عنہما نے فرمایا رسول اللہ صلی وسلم نے صدقہ فطر واجب کیا تاکہ روزہ دار کا روزہ لگغو، بے ھودہ چیزوں سے پاک ہو سکے اور مسکینوں کی خوراک کا سامان ہوسکے جس نے نماز سے پہلے ادا کیا تو وہ قبول ہوگا اور جس نے نماز کے بعد ادا کیا تو اس کا شمار عام صدقے میں ہوگا(ابو داؤد ابن ماجہ)حضرت عکرمہ کہتے ہیں عید کے دن پہلے صدقہ ادا کیا جائے جو کہ اللہ تعالی کا فرمان ہے قد افلح من تزکی وذکر اسم ربہ فصلی جس نے صدقہ فطر ادا کیا وہ کامیاب ہوا ایک تفسیر یہ بھی ہے اور جمہور نے تزکیہ نفس مراد لیا ہے حقیقت یہ ہے کہ صدقہ فطر بھی تزکیہ کا حصہ ہے اسی لیے عید الفطر کی نماز کچھ تاخیر سے ادا کرنی چاہیے تاکہ لوگ صدقہ فطر ادا کرسکیں صدقہ فطر نماز عید سے پہلے ادا کیا جائے کہ کوئی عذر پیش آجائے تو نماز کے بعد فورا ادا کردے اور بہتر تو یہ ہے کہ عید سے کئی دن پہلے ہی صدقہ فطر ادا کردیا جائے تاکہ ضرورت مند تنکہ تنکہ جمع کرکے عید کی خوشی میں بسہولت شریک ہو سکے ان کے بچوں کے لبوں پہ مسکراہٹ دینے والوں کے دلوں کو گدگدا سکے،صدقہ فطر ہر صاحب نصاب پر واجب ہے البتہ مال پر سال گزرنا شرط نہیں ہے اپنی طرف سے چھوٹے بچوں کی طرف سے اور جن لوگوں کی کفالت کرتا ہو ان کی طرف سے صدقہ فطر ادا کرے صدقہ فطر کی اہمیت کے پیش نظر بعض فقہاء کا مسلک ہے کہ جس شخص کے پاس عید کی شب و روز کے صرفہ سے بھی کچھ زائد ہو تو صدقہ فطر ادا کرے یہ مسلک شان زھد وتو کل سے میل کھاتا ہے

صدقہ فطر کی مقدار حنفیہ کے نزدیک پونے دو کلو گندم ہے دیگر ائمہ کے نزدیک ایک صاحب ہے تو اگر قیمت ادا کردے تو صدقہ فطر ادا ہوجائے گا اور یہ محتاجوں کی مصلحت کے زیادہ قرین قیاس ہے کہ نقد روپے سے وہ اپنی ہر ضرورت کی تکمیل کر سکتا ہے،صدقہ فطر ہر اس شخص کو دیا جا سکتا ہے جسے زکوۃ دی جاسکتی ہے فقیر مسکین وغیرہ مستحق ہیں دینی مدارس میں پڑھنے والے نادار طلبہ بھی ان اس کے مستحق ہیں البتہ مدارس کے ذمہ داروں کی ذمہ داری ہے کہ صدقہ فطر کی مد میں جو رقم یا جنس ملے اسے عید کے دن کی ضروریات میں طلبہ پر خرچ کر دے تاکہ مقصد پورا ہو سکے اس وقت جب کہ پورا ملک لوگ ڈاؤن کی تباہی سے تباہ ہے ایسی صورتحال میں زیادہ سے زیادہ غریبوں کی جو اپنے آس پاس بستے ہو ں مدد کرنا ضروری ہے

صدقہ فطر کی مقدار ایک ہی مستحق فرد کو بھی دے سکتے ہیں اور چند میں تقسیم بھی کر سکتے ہیں اور ایک ہی فرد کو کئی صدقہ فطر بھی دے سکتے ہیں صدقہ فطر رمضان مکمل ہونے کے بعد عید کے آنے کی خوشی کا صدقہ ہے عید کا دن اللہ کی طرف سے تمام مسلمانوں کی مہمان نوازی کا دن ہے ہر شخص اللہ کا مہمان ہے مالدار تو اللہ کے دئیے ہوئے رزق سے انتظام دسترخوان کرتا ہے اور ہر مال دار پر صدقہ فطر واجب قرار دے کر ہر غریب و محتاج مسلمان کی میزبانی کا انتظام منجانب اللہ کرایا جاتا ہے تاکہ عید کی خوشی میں امیر غریب سب شریک ہوں مالداروں کو چاہیے کہ وہ اپنے رشتہ داروں اور پڑوسیوں کو عید کی خوشی میں شریک کریں اپنی سعادت سمجھی صدقہ فطر کی ادائیگی کے بعد بھی ان لوگوں کی ضرورت پوری نہ ہو تو رشتہ دار ی اور پڑوسی کے حقوق کی ادائیگی کے لیے نفلی صدقات سے پوری کرلے تاکہ اللہ کے اجر کے مستحق ہو اور عید کی خوشبو ہر گھر سے مہکے۔

Urdutimes@123

ہندوستان اردو ٹائمز پر آپ سب کا خیر مقدم کرتے ہیں

جواب دیجئے

Back to top button
Close
Close