دیوبند

کرونا ماہ ماری کے چلتے معصوم بچوں کو چھوڑ کر کرونا کے مریضوں کی خدمت میں لگے ڈاکٹر فردین

دیوبند، 4؍ مئی (رضوان سلمانی) کہا جاتا ہے کہ ڈاکٹر کو خدا کا دوسرا روپ بتایا گیا ہے اور ہو بھی کیوں نہ کیوں کہ وہ اپنے اہل خانہ کو چھوڑ کر اس ماہ ماری کے دور میں گھربار ، بیوی بچے چھوڑ کر جو ڈاکٹر دن رات کرونا کے مریضوں کی خدمت میں لگے ہوئے ہیں اور ان کو صحت یاب کرکے ان کے گھر بھیجنا ہی جن کی زندگی کا مقصد ہو ان سے اچھا انسان دنیا میں کوئی نہیں ہوسکتا۔ سہارنپور کے اسپتال چوک پر پرائیویٹ کلینک چلانے والے اور آئی ٹی سی میں فزیشین ڈاکٹر فردین خان نے خود اپنی مرضی سے فتح پور کووڈ اسپتال میں اپنی ڈیوٹی لگواکر کرونا کے مریضوں کی خدمت کرنے کا فیصلہ لیا اور رمضان المبارک کے مہینے میں روزہ رکھنے اور پانچ وقت کی نماز کے ساتھ ساتھ دن رات اپنے مریضوں کی خدمت کرنے کا بیڑہ اٹھایا ہے ،

گزشتہ دو روز کے اندر مذکورہ سینٹر سے 7مریض صحت یاب ہوکر اپنے گھروں کو واپس ہوئے تو فردین کو اپنی محنت پر خوشی ہوئی اور اللہ تبارک وتعالیٰ کا شکریہ ادا کیا۔ فردین کا کہنا ہے کہ اللہ تبارک وتعالیٰ نے رمضان کے مہینے میں مجھے خدمت کے لئے منتخب کیا ہے ۔ روزے اور نماز کی حالت میں اپنے مریضوں کی صحت کے لئے دعا بھی کرتا ہوں اور اکثر وقت اپنے مریضوں کو دے رہا ہوں ۔ کرونا کے مریضوں کے آس پاس رہنے سے ڈر نہیں لگنے کے سوال پر فردین کا کہنا ہے کہ اللہ تبارک و تعالیٰ نے موت کا وقت متعین کردیا ہے اور وہ اسی وقت پر آئے گی ۔

انہوں نے کہا کہ اس سے ڈرنے کی ضرورت نہیں ہے ، مریضوں کو صحت یاب ہوکر گھر جاتے دیکھ کر ان کا سب دکھ درد دور ہوجاتا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ مریضوں کے اہل خانہ اور ملک کے عوام کی دعائیں ڈاکٹر اور جو اس کام میں لگے ہوئے ہیں ہر وقت ان کے ساتھ ہیں ، خطرہ رہتا ہے مگر احتیاط برتنی پڑتی ہے لیکن ہمارا پیشہ ہی ایسا ہے کہ خود کو خطرے میں ڈال کر بھی اپنے مریضوں کی جان بچانی پڑتی ہے۔

انہوں نے کہا کہ انسان کی خدمت کرنے میں جو خوشی ملتی ہے وہ کسی دوسری چیز میں نہیں ملتی ہے۔ انہوں نے عوام سے بھی اپیل کی کہ وہ اس مہلک مرض سے بچنے کے لئے حکومت اور محکمہ صحت کی جانب سے دی جارہی گائڈ لائن پر عمل کریں اور لاک ڈائون کا پورا خیال رکھیں ، اس میں لاپرواہی بالکل نہ کریں یہ سب آپ کے لئے ہے ، ذراسی غفلت بڑا نقصان کرسکتی ہے۔

Urdutimes@123

ہندوستان اردو ٹائمز پر آپ سب کا خیر مقدم کرتے ہیں

Leave a Reply

Back to top button
Close
Close