دیوبند

قرآن پاک کو رمضان سے اور رمضان کو قرآنِ پاک سے خصوصی مناسبت اور گہرا تعلق ہے:مولانا نسیم اختر شاہ

دیوبند، 27؍ اپریل (رضوان سلمانی) پوری دنیا اس وقت کورونا وائرس کی زد میں ہے جس کی وجہ سے تمام متأثرہ ممالک میں لاک ڈائون ہے ایسے میں عوام الناس کو بے شمار دشواریوں اور پریشانیوں کا مقابلہ کرنا پڑرہاہے۔ سماج کے مختلف طبقات کی پریشانیاں الگ الگ ہیں لیکن ان مشکلات اور پریشانیوں کے باوجود رمضان المبارک جب عظیم الشان مہینہ اپنی تمام تررعنائیوں، رحمتوں اور برکتوں کے ساتھ پرسایہ فگن ہوچکاہے۔ دارالعلوم وقف دیوبند کے استاذ ، معروف قلمکارمولانا نسیم اختر شاہ قصر نے مذکورہ خیالات کا اظہار کرتے ہوئے رمضان المبارک کے مقاصد اور قرآن کریم کے حوالہ سے اس کی عظمت بیان کرتے ہوئے کہا کہ کلام اللہ میں اس مہینے کی عظمت بیان کرتے ہوئے کہا گیا ہے کہ ماہ رمضان وہ عظمت والا مہینہ ہے جس میں باری تعالیٰ نے قرآن مجید نازل کیا۔ اس کو وصف یہ ہے کہ یہ لوگوں کے سراپا ہدایت ہے اورواضح دلیل بھی ہے۔ سورہ بقرہ کی آیات سے ثابت ہے کہ رمضان المبارک کا قرآن کریم سے ایک خاص رفت وتعلق ہے اور روزہ اس ماہ کی خصوصی عبادت ہے، جو اللہ تبارک وتعالیٰ کے قرب کا اہم ترین اور بہترین ذریعہ ہے، جس کے لئے پوری امت مسلمہ کو شکر گزاری کرنی چاہئے۔ مولانا نسیم اختر شاہ نے کہا کہ یہ خیال ہرگز نہیںکرناچاہئے کہ روزہ رکھنے کا حکم بندگان خدا کو مشقت اور تکلیف میں ڈالنے کے لئے ہے ، کیونکہ روزہ رکھنے کے حکم کے ساتھ ساتھ یہ بھی واضح کردیاگیا کہ اگر کوئی شخص سفر میں ہو یا بیمار ہو تو ایسے شخص کے سردست روزہ رکھنا ضروری اور لازم نہیں، بلکہ دوسرے وقت میں جب آسانی ہو اپنی سہولت کے مطابق اس فریضہ سے سبکدوش ہونے کی گنجائش موجود ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ اس بات کی علامت ہے کہ اللہ تعالیٰ کا مقصد اپنے بندوںکو تنگی اورمصیبت میں مبتلا کرنا نہیں ہے، بلکہ آسانی اور سہولت پیداکرنا ہے۔ مولانا نے کہا کہ جب اللہ تعالیٰ کامعاملہ اپنے بندوں کے ساتھ اس قدر شفقت اوررحم والا ہے تو بجاطور پر بندوں پر بھی یہ فرض عائد ہوتا ہے کہ اس کی تعظیم بجالائیں اور اس کی عطاکردہ نعمتوں کی شکرگزاری میں بھی کوئی کمی نہ آنے دیں۔ مولانا نسیم شاہ نے رمضان المبارک کی عظمت اور روزہ کے مقاصد تذکرہ کرتے ہوئے کہا کہ قرآن مجید سے واضح ہوتا ہے کہ روزہ کے تین بنیادی مقاصد ہیں، اول تقوی یعنی خوف خدا، دوم اللہ تعالیٰ کی ہدایات اور احکامات پر عمل نیز اس کی عظمت کا اظہار، تیسری اورآخری یہ کہ اللہ تعالیٰ کی عنایت کردہ بے شمار نعمتوں کا شکر اداکرنا۔ قرآن کریم میں اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے کہ اے ایمان والوں تم پر روزے فرض کئے گئے ہیں، جس طرح تم سے پہلے انبیاء کی امتوں پر فرض کئے گئے تھے، تاکہ تم پرہیز گار بن جائو۔ روزہ کے دوسرے مقصد کو قرآن کریم میں بیان کرتے ہوئے کہا گیا ہے کہ قرآن پاک کو رمضان سے اور رمضان کو قرآنِ پاک سے خصوصی مناسبت اور گہرا تعلق ہے، قرآن کا نزول چونکہ اسی بابرکت ماہ میں ہوا اور انسان کی رہنمائی کے لئے اس میں فیصلہ کن روشن باتیں ہیں، یہی وجہ ہے کہ حضور اکرم ؐ رمضان میں تلاوت کا خصوصی اہتما م فرماتے، اس کے علاوہ روزہ کا تیسرا مقصد یہ ہے کہ بندہ اللہ کے حضور گڑگڑاکر اپنی خطائوں کی معافی طلب کرے، خوف خدا اس کے دل میں بس جائے ۔انہوں نے کہا کہ ماہ رمضان قبولیت دعاکا حسین وقت ہے۔ مولانا نسیم اختر شاہ نے کہا کہ اس ماہ میں کثرت کے ساتھ استغفار اور دعائیں کرنی چاہئیں، کیونکہ رمضان المبارک میں خدا عرش اٹھانے والے فرشتوں کو حکم دیتا ہے کہ اپنی عبادتیں چھوڑ دو اور روزہ داروں کے جواب میں آمین کہو۔ انہوں نے کہا کہ خداکی رحمت بہت وسیع ہے، کوئی بندہ کتنا ہی گناہ گار ہو لیکن جب وہ اللہ کی بارگاہ میںشرمسار ہوکر گناہوں سے توبہ کرتے ہوئے رحمت طلب کرتا ہے تو مولائے رحیم اس بندہ کو اپنے دامن عفو میں چھپالیتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اللہ تعالیٰ کا فضل وکرم جس بندہ پر جس قدر ہوتاہے وہ اسی قدر اس ماہ کی سعادتوں سے بہرمند ہوتا ہے۔ اللہ تعالیٰ تمام مسلمانوں کو اپنی مرضیات پر چلنے کی توفیق عطافرمائے۔ آمین۔

Urdutimes@123

ہندوستان اردو ٹائمز پر آپ سب کا خیر مقدم کرتے ہیں

متعلقہ خبریں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
Close
Close