دیوبند

پولیس صحافیوں پر کررہی ہے ظلم، کوریج کرنے پہنچے صحافی کو پولیس اہلکار نے پیٹا

واقعہ سے ناراض صحافیوں نے دیا دھرنا ، کارروائی کے لئے انتظامیہ نے دیا 24گھنٹے کا وقت

دیوبند، 9؍اپریل (رضوان سلمانی) سوشل ڈسٹینسنگ کا مذاق اڑاتے ہوئے بینک کے باہر جمع بھیڑ کی کَوْریج کررہے صحافی کے ساتھ ایک پولیس اہلکار نے مار پیٹ کی واقع سے ناراض صحافیوں نے قصور وار پولیس اہلکار کے خلاف کارروائی کا مطالبہ کرتے ہوئے دھرنے پر بیٹھ گئے تقریباً تین گھنٹے بعد روہانی پیشوا دیپانکر مہاراج نے قصور وار پولیس اہلکار کے خلاف کارروائی کے لئے ضلع انتظامیہ کو 24گھنٹے کا وقت دینے کی اپیل کرتے ہوئے دھرنا ختم کرایا۔ موصولہ اطلاعات کے مطابق جی ٹی روڑ پر واقع اسٹیٹ بینک کے باہر حکومت کی جانب سے جن دھن اکائونٹ میں ڈالی گئی 500روپئے کی رقم نکالنے کے لئے زبردست بھیڑ لگی ہوئی تھی ، لوگ سوشل ڈسٹینسنگ (معاشرتی فاصلہ) کا دھیان رکھے بغیر ایک کے اوپر ایک گرے جارہے تھے جبکہ موقع پر نظم بنائے رکھنے کے لئے تعینات پولیس اہلکار آرام سے اپنی کار میں بیٹھے ہوئے تھے، اسی دوران ایک چینل کے لئے کام کرنے والے علاقائی صحافی موقع پر پہنچے اور اس نے اپنا موبائل نکال کر یہ نظارہ اپنے موبائل میں قید کرنا شروع کردیاجس کو دیکھ کر شیش پال نام کا پولیس اہلکار آگ بگولہ ہوگیا اور نازیبا سلوک کرتے ہوئے صحافی پر ڈنڈا برسانا شروع کردیا، پولیس کی جانب سے صحافی کے ساتھ مارپیٹ کئے جانے کی اطلاع پر علاقائی پولیس افسران اور شہر کے صحافی موقع پر پہنچ گئے واقع سے ناراض صحافی قصور وار پولیس اہلکار کے خلاف معطلی کارروائی کا مطالبہ کرتے ہوئے موقع پر ہی دھرنے پر بیٹھ گئے ۔ صحافیوں کا کہنا تھا کہ کورونا وائرس کے باوجود صحافی طبقہ پوری ایماندای کے ساتھ اپنے فرض کو انجام دے رہاہے جس کی وزیر اعظم نریندر مودی اور وزیر اعلی اترپردیش یوگی ادتیہ ناتھ بھی تعریف کررہے ہیں لیکن کچھ پولیس اہلکار وردی کا روگ دکھانے میںصحافیوں کو بھی نہیں بخش رہے ہیں جسے کسی قیمت پر برداشت نہیں کیا جائے گا۔ تقریباً تین گھنٹے بعد ہندومذہبی پیشوا سوامی دیپانکر مہاراج صحافیوں کے درمیان پہنچے اور دھرنے پر بیٹھے اور اس واقعہ پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے قصور وار پولیس اہلکار کے خلاف کارروائی کے لئے انتظامیہ کو 24گھنٹے کا وقت دینے کی اپیل کرتے ہوئے دھرنا ختم کرنے کی اپیل کی۔ جس پر صحافیوں نے کارروائی نہ ہونے پر دوبارہ دھرنے پر بیٹھنے کا انتباہ دیتے ہوئے دھرنا ختم کردیا۔ اس دوران ایس ڈی ایم دیویندر پانڈے ، سی او چوب سنگھ اور تھانہ انچارج وائی ڈی شرما موجود رہے۔ واضح ہو پولیس کے ظلم کے خلاف دھرنے پر بیٹھے دیوبند کے صحافیوں کا ساتھ دینے کے لئے جہاں ضلع کے درجنوں صحافیوں نے ایس ایس پی دنیش کمار پی اور ڈی ایم اکھلیش سنگھ سے ملاقات کرکے اس واقع پر سخت ناراضگی کا اظہار کیا وہیں بڑگائوں اور ناگل کے سبھی صحافیوں نے دیوبند پہنچ کر دھرنے میں شامل ہوئے۔ جبکہ بی جے پی شہر صدر وپن گرگ سابق شہر صدر گجراج رانا ، نگر اودیوگ ویاپار منڈل کے سابق صدر اجے سنگھل بٹو، میونسپل بورڈ رکن سلیم خواجہ سمیت دیگر لیڈران نے موقع پر پہنچ کر دھرنے کی حمایت کی۔ ادھر کَوْریج کرنے پر پولیس اہلکار کی جانب سے صحافی کے ساتھ مارپیٹ کرنے سے ناراض صحافیوں نے دھرنا دیتے ہوئے بھی سوشل ڈسٹینسنگ کا خاص خیال رکھا، سبھی صحافی منہ پر ماسک لگاکر جسمانی دوری بناکر بیٹھے رہے اتناہی نہیں سینی ٹائزر سے ایک دوسرے کے ہاتھ بھی صاف کراتے رہے۔اس موقع پر پریس ایسو سی ایشن کے صدر منوج سنگھل، نائب صدر اطہر عثمانی، نائب صدر مشرف عثمانی، جنرل سکریٹری دیپک شرما، سکریٹری آباد علی، نائب صدر رضوان سلمانی، خازن ایم افسر، معین صدیقی، فہیم عثمانی، عارف عثمانی، پرشانت تیاگی، تسلیم قریشی، پنٹو شرما، متین خان، سمیر چودھری، فیروز خان،شبھم جین،ماسٹر ممتاز، گرجوت سنگھ سیٹھی،کھلیندر گاندھی،راج کمار جاٹو، فیصل نور شبو، ریاض احمد، شہزاد عثمانی، آصف علی ساگر، مہتاب آزاد سمیت درجنوں صحافی موجود رہے۔

Urdutimes@123

ہندوستان اردو ٹائمز پر آپ سب کا خیر مقدم کرتے ہیں

Leave a Reply

متعلقہ خبریں

Back to top button
Close
Close