دیوبند

دیوبند میں سوشل ڈسٹینسنگ کا اڑرہاہے مذاق، راشن کی دوکانوں اور بینکوں کے باہر نہیں رکھا جارہاہے جسم کی دوری کا خیال

دیوبند،6؍اپریل (رضوان سلمانی) انتظامیہ ایک طرف جہاں لاک ڈائون اور سوشل ڈسٹینسنگ پر عمل کرانے میں دن رات لگی ہوئی ہے وہیں راشن کی دوکانوں اور بینکوں کے باہر سوشل ڈسٹینسنگ کامذاق اڑتا نظر آرہاہے۔ لاک ڈائون کے درمیان یکم اپریل سے راشن کی تقسیم کا کام جاری ہے جس کی وجہ سے شہر سے لے کر دیہی علاقوں تک لوگوں میں راشن حاصل کرنے کے لئے افراتفری مچی ہوئی ہے، لوگ سوشل ڈسٹینسنگ کا دھیان نہ رکھتے ہوئے ایک دوسرے کے اندر گھس کر سامان حاصل کرنے کی کوشش میں لگے ہوئے ہیں۔ حالانکہ زیادہ تر ڈپو ہولڈروں کی جانب سے معقول دوری پر گول گھیرے بنادئیے گئے ہیں لیکن ان گول گھیروں کابھی لوگ دھیان نہیں رکھ رہے ہیں، یہی حالت بینکوں کے باہر بھی نظر آرہی ہے جس کے سبب بینکوں کے باہر لمبی قطاریں دیکھی جاسکتی ہیں، بینکوں کے باہر تعینات پولیس اہلکاروں کو سوشل ڈسٹینسنگ پر عمل کرانے میں کافی مشقت کا سامنا کرنا پڑرہاہے۔ وہیں حکومت کی جانب سے مزدوروں کے کے اکائونٹ میں رقم بھیجے جانے کی وجہ سے بینکوں میں اب زیادہ بھیڑ ہونے لگی ہے، آج بینکوں اور دوسرے مراکز کے باہر اپنی رقم نکالنے کے لئے لوگوں ہجوم رہا، علاقے میں زیادہ تر راشن فروخت کرنے والوں نے جہاں اپنی دوکانوںکے باہر گول گھیرے بنا دئیے ہیں ، تو کئی علاقے ایسے بھی ہیں جہاں ڈپو ہولڈروں کی جانب سے سوشل ڈسٹینسنگ کا کوئی نظم نہیں کیا گیا ہے۔ بینکوں کی بھی یہی حالت ہے بہت بینکوں کے باہر کچھ فاصلہ پر گولے بنے ہوئے ہیں تو بہت سے بینکوں میں اس پر عمل نظر نہیں آرہاہے۔ دوسری جانب جن دھن اسکیم کے تحت صفر بیلنس والے کھاتوں میں آنے والی رقومات نکالنے کو لیکر پیر کے روز شہر کے اکثر بینکوں کے باہر صبح سے ہی لمبی لمبی قطاریں لگی ہوئی نظر آئی۔عالم یہ تھاکہ کئی جگہ سوشل ڈسٹینسنگ ختم ہونے کی اطلاع ملنے پر موقع پر پہنچی پولیس نے نظام کو درست کرانے کی کوشش کی۔ آ ج صبح سے ہائیو سمیت شہر کے ریلوے روڈ،منگلور چوکی اور دارالعلوم علاقہ میں روپیہ نکالنے والے مردو خواتین کی لمبی لمبی قطاریں لگی رہی۔ لمبی لمبی لائنوںکے سبب پیشن لینے پہنچے بزرگوں اور دیگر کاموں کے لئے بینک پہنچے لوگوں کو بینکوں سے خالی ہاتھ لوٹنا پڑا۔ اُدھر کورونا وائرس کے سبب ملک بھر میں لگائے گئے لاک ڈاؤن کے سبب پیر دھندے شاہ کا سالانہ عرس اس سال انکے مزار پر نہیں منایا جائے گا۔ مذکورہ معلومات دیتے ہوئے مزار کے متولی نصیر احمد نے بتایاکہ اس بار نہ تو چڑھاوا چڑھایا جائے گا اور نہ ہی تبرکات کی زیارت ہوگی،کورونا کے سبب مزار کو مکمل طورپر بند کردیاگیاہے اسلئے زائرین اور عقیدت مند مزار پر نہ آئیں۔

Urdutimes@123

ہندوستان اردو ٹائمز پر آپ سب کا خیر مقدم کرتے ہیں

جواب دیجئے

Back to top button
Close
Close