دیوبند

بی سی سی ، کوئنٹ اور انڈین ایکسپریس تحقیقی اداروں نے میڈیا چینلوں کی نفرت آمیز پروپیگنڈہ کی ہوا نکال دی: ڈاکٹر عبید اقبال عاصم

دیوبند، 6؍ اپریل (رضوان سلمانی) یوپی رابطہ کمیٹی کے سکریٹری ڈاکٹر عبید اقبال عاصم نے پریس کو جاری اپنے ایک بیان میں کہا ہے کہ ہندوستان میں مسلمانوں کو بدنام کرتے ہوئے انہیں پورے ملک میں کورونا وائرس پھیلانے کا ذمہ دار قرار دینے کی نفرت آمیز کوششیں اب ناکام ہونے لگی ہیں۔ کیونکہ بی بی سی، کوئنٹ اور انڈین ایکسپریس جیسے اداروں کی جانب سے سوشل میڈیاپر وائرل ہونے والی نفرت آمیز ویڈیو اور خبروں کی تحقیق کے بعد بے بنیاد اور جھوٹ کا پلندہ ثابت ہوئی ہیں۔ جومسلمانوںکو بدنام کرنے کی غرض سے متعدد چینلوں پر چلائی جارہی ہیں، انہوں نے کہا کہ اکثر چینلوں کے اینکرس ہندوستانی عوام کو یہ باور کرانے کی کوشش کررہے ہیں کہ مسلمان عمداً ہندوستان میں کورونا وائرس پھیلانے کے ذمہ دار ہیں، ہندوستانی نیوز چینلوں کی جانب سے جب وائرس زدہ اینکرس نے زہریلی خبریں نشر کرنی شروع کیں تو بیشتر تحقیقی ادارے ان خبروں کی سچائی معلوم کرنے کے لئے حرکت میں آگئے اور تمام اشتعال انگیز ویڈیو اور خبروں کی تحقیق کا عمل شروع کیا گیا، مختلف زاویوں سے تحقیق کے بعد یہ حقیقت سامنے آئی کہ منافرت آمیز تمام خبریں گندی ذہنیت رکھنے والے میڈیا اینکرس کے پری پلان پروپیگنڈے کی پیداوار ہیں اور حقیقت سے ان خبروں کا کوئی واسطہ نہیں ہے، انہوں نے کہا کہ اسی طرح حضرت نظام الدین میں موجود جماعتی افراد پر جان بوجھ کر چھینکنے اور کھانسنے کے تمام الزامات بھی غلط ثابت ہوئے، ڈاکٹر عاصم نے کہا کہ نیوز چینلوں کے ساتھ ساتھ سوشل میڈیاکے کئی گروپس بھی ہندوستان میں منافرت پھیلانے میں پیش پیش رہے ہیں انہوں نے پورے ملک کو یہ تأثر دینے کی کوشش کی کہ مسلمان جان بوجھ کر کورونا وائرس کو پھیلارہے ہیں لیکن ان ویڈیوز کے حقائق کی جانچ کرنے والے سرکردہ ذرائع ابلاغ کے ادراروں تمام حقائق کو منظر عام پر لاتے ہوئے یہ ثابت کردیاہے کہ جو ویڈیو چلائی جارہی ہیں یا نیوز اینکرس جس طرح کی منافرت پھیلانے والی خبریں نشر کررہے ہیں ان سے دور دور تک حقیقت کا کوئی واسطہ نہیں ہے، عاصم نے کہا کہ تحقیق کے بعد یہ بات بھی سامنے آئی ہے کہ منافرت پھیلانے کے لئے جن ویڈیوز کاسہارا لیا جارہاہے ان میں سے ایک ویڈیو اجتماعی صوفی ذکر وسلوک کی ویڈیو ہے، اس ویڈیو کے متعلق لوجکل انڈین نے وضاحت کی ہے کہ اس ویڈیو کا تعلق نہ تو حضرت نظام الدین کے مرکز سے ہے اور نہ ہی کورونا وائرس سے اس کا کوئی تعلق ہے بلکہ یہ ویڈیو صوفی ذکروسلوک کی ہے۔ اسی طرح دوسری ویڈیو جس کو سوشل میڈیا پر چلاکر زہریلے پروپیگنڈے کو مزید ہوادینے کی کوشش کی گئی او مسلمانوں کو بدنام کرنیکی تمام حدیں پار کرلی گئیں ۔ تحقیق کے بعد معلوم ہوا کہ اس ویڈیو کا تعلق بوہرہ فرقہ سے ہے جس میں کچھ لوگوں کو برتن چاٹتے ہوئے دکھایاگیاہے لیکن جریدے نے اپنی تحقیق سے ثابت کردیا کہ اس ویڈیو کا تعلق تبلیغی جماعت یا کورونا وائرس پھیلانے کی کسی کوشش کا نہیں ہے بلکہ یہ بہت پرانی ویڈیو ہے، اسی طرح کوئنٹ نے ایک ایسی ویڈیو کی حقیقت کا پردہ فاش کیا جس میں کوروناٹیسٹ کے لئے زبردستی اور بلاجواز مجبور کیا جارہاہے۔ کاش ان چینلوں نے اور ان کے تعصبانہ صفت اینکرس نے اپنی توانائی کو اخلاص کے ساتھ صرف کیا ہوتا تو ہندوستان کی تصویر اس وقت دیگر ہوتی۔ لیکن ابھی بھی وقت ہے کہ حکومت ان چینلوں کی حرکتوں کا سختی کے ساتھ نوٹس لے ، کہیں ایسا نہ ہو کہ ہندوستان کا میڈیاہی ایک دن ملک کو لے ڈوبے۔

Urdutimes@123

ہندوستان اردو ٹائمز پر آپ سب کا خیر مقدم کرتے ہیں

جواب دیجئے

Back to top button
Close
Close