دیوبند

کورونا وائرس پوری دنیا میں قہر بن کر ٹوٹ رہاہے مسلمان اجتماعیت سے دوری بنائے رکھیں : مولانا ارشد مدنی

دیوبند،6؍ اپریل(رضوان سلمانی) جمعیۃ علماء ہند کے قومی صدر مولانا سید ارشد مدنی نے کہاکہ کورونا وائرس پوری دنیا میں قہر بن کر ٹوٹ رہاہے اور مشکل یہ ہے کہ اس مرض کا کوئی علاج اب تک دریافت نہیں ہوسکاہے، دنیا کے وہ ملک جن کے یہاںہیلتھ کے پر خصوصی توجہ دی جاتی ہے انہوں نے اپنے ہاتھ اوپر اٹھا لئے ہیں اوروہاں ایسی بربادی آئی ہے کہ جو دیکھی نہیں گئی ہے، اسلئے اس سے بچنے کے لئے صرف اور صرف احتیاطی تدابیر اختیار کریں،مذہبی اور سیاسی اجتماعات سے دوری بنائیں۔ یہاں صحافیوں سے بات کرتے ہوئے مولانا سید ارشد مدنی نے کہاکہ یہی وجہ ہے کہ مندر اورگرودواروں کے پروگرا م متاثرہ ہوگئے ہیں ،وہیں مساجد میں نمازیوں کی تعداد نہایت محدود کردی گئی اور مسجد وں کے اندر ایک امام اور مؤذن ہی نماز پڑھ رہے ہیں، اسلئے احتیاط بہت ضروری ہے اور دعاء کرنی چاہئے یہ وقت ٹل جائے اور جو ہماری جنگ کوروناوائرس کے خلاف چل رہی اس میں کامیاب ہوسکے۔انہوں نے مسلمانوں سے اپیل کی وہ اجتماعیت سے دوری بنائے رکھیں،چاہے مساجد میں میں ہوں یا تبلیغی جماعت کے پروگرام ہوں ان سے دوری بنائے رکھیں، اگر کسی کو ذرہ برابر کوئی دقت پریشانی ہے تو انہیں فوری طورپر ڈاکٹروں سے رابطہ کرنا چاہئے اور محکمہ صحت کی گائیڈ لائن پر عمل کرنا چاہئے،تاکہ پورے سماج اور ملک کو اس سے محفوظ رکھا جاسکے۔انہوں نے کہاکہ اس وقت لوگوں نے طرح طرح کی افواہیں اڑا دی ہیں،جس سے ڈاکٹروں کے ساتھ بدتمیزی کا واقعہ بھی پیش آنے کی خبر آئی ہے۔انہوںنے کہاکہ کسی نے کہیں دوسرے علاقوں میں یہ افواہ اڑا دی ہے کہ یہ لوگ این پی آرکے لئے آئے ہیں،جس سے حالات بگڑے ہیں،میری لوگوں سے اپیل کہ وہ ڈاکٹروںکو تعاون کریں۔ مولانا ارشد مدنی نے کہاکہ اس وقت حکومت کے سامنے صرف اور صرف کورونا وائرس کامعاملہ ہے۔ اس سلسلہ میں محکمہ صحت نے جو بھی گائیڈ لائن جاری کی ہے اس میں تمام لوگوں کو مددکرنی چاہئے تاکہ اس جنگ کے اندر ہم کامیاب ہوسکیں۔ انہوںنے کہاکہ لوگوں کی ضروریات کے مدنظر حکومت نے الگ الگ علاقوں میں لاگ ڈاؤن میں رعایت کی ہے، اس دوران پولیس کو بھی عوام سے ہمدری کامعاملہ کرناچاہئے۔اگر یہ لوگ اپنی ضروریات پوری نہیںکرینگے تو وہ اپنے اور اپنے بچوں کا پیٹ کیسے بھرینگے، اسلئے پولیس و انتظامیہ کو چاہئے اگر ان کا باہر نکلنے کا سبب جائز ہے تو انتظامیہ اور پولیس کو ان کی مددکرنی چاہئے۔

Urdutimes@123

ہندوستان اردو ٹائمز پر آپ سب کا خیر مقدم کرتے ہیں

جواب دیجئے

Back to top button
Close
Close