دیوبند

لاک ڈائون کی وجہ سے آج سڑکوں پر نظر آئی انتظامیہ کی سختی ، شہر سے لے کر دیہات تک رہا سنسان

دیوبند سرکل میں تین ہزار گاڑیوں کے کئے چالان اور 110لوگوں کو کیا گرفتار

دیوبند،25مارچ (رضوان سلمانی) وزیر اعظم ہند نریندر مودی کی جانب سے ملک کو 21روز تک لاک ڈائون اعلان کے بعد سے انتظامیہ اور زیادہ سخت ہوگئی ہے۔ آج پولیس کی سختی کی وجہ سے شہر سے لے کر دیہی علاقوں تک سنسان نظر آیا حالانکہ صبح کے وقت ضروری گھریلو سامان کی خریداری کے لئے بازاروں میں زبردست بھیڑ رہی۔ آج صبح ہوتے ہی سبزی، کریانہ اور دودھ کی ڈائریوں پر لوگ جمع ہوگئے اور سامان کی زبردست خریداری کی۔ خریداری کے لئے دیئے گئے 3گھنٹے کی چھوٹ کے بعد پولیس انتظامیہ نے سختی کرنی شروع کردی اور دکانوں کو بند کراتے ہوئے بازاروں میں جمع لوگوں کو ان کے گھر واپس بھیجا ۔ کئی مقامات پر پولیس نے لاٹھیاں پٹھکارتے ہوئے لوگوں کو سختی کے ساتھ واپس بھیجا اور دوبارہ بھیڑ جمع کرنے پر قانونی کارروائی کا انتباہ دیا۔کئی مقامات پر پولیس نے غیر ضروری طورپر اپنی گاڑیوں پر گھوم رہے لوگوں پر لاٹھیاں برساکر واپس بھیجا، شہرمیں چوک چوراہوں بازاروں کے علاوہ دیہی علاقوں میں بھی اہم مقامات پر پولیس اور پی ایس سی تعینات رہی، افسران نے گھوم گھوم کر لوگوں کو بتایا کہ حکومت کی جانب سے 21روز کا لاک ڈائون کیا گیا ہے، لوگ اپنے گھروں سے باہر نہ نکلیں اگر بلاوجہ کوئی گھومتا ہوا نظر آیا تو اس کے خلاف قانونی کارروائی کی جائے گی اور ساتھ ہی انکی گاڑیوں کو سیز کردیا جائے گا۔ ایس ڈی ایم دویندر کمارپانڈے، سی اُو چوب سنگھ اور تھانہ انچارج وائی ڈی شرماعلاقوں میں گھوم کر پولیس اہلکاروں کو ضروری ہدایات دیتے رہے۔ دیوبند کے چاروں جانب کی سرحدیں گزشتہ 3روز سے سیل کی ہوئی ہیں بہت سے ایسے افراد ہیں جو اپنی رشتہ داری میں آئے اور لاک ڈائون کی وجہ سے اپنے گھروں کو واپس نہیں جاسکے۔ اتنا ہی نہیں بہت سے خاندان کے لوگ ایسے بھی ہیں جو دیوبند سے باہر اپنے رشتہ داروں کے یہاں گئے مگر ابھی تک وہ واپس نہیں لوٹ پارہے ہیں، لاک ڈائون کی وجہ سے شہر کے بینک اور اے ٹی ایم صبح کے وقت کھلے تو ان پر رقم نکالنے والے لوگوں کی بھیڑ لگ گئی ، کئی مقامات پر اے ٹی ایم میں روپئے ختم ہوجانے کی وجہ سے بینک صارفین کو پریشانیوں کا سامنا کرنا پڑا۔ادھر لاک ڈائون کی خلاف ورزی کرنے والوں کے خلاف پولیس انتظامیہ نے سخت کارراوئی کرتے ہوئے 110افراد کو گرفتار کیا اور 3000گاڑیوں کے چالان بھی کاٹے جبکہ 300سے زائد گاڑیوں کو پولیس نے گزشتہ 2روز کے اندر سیز بھی کیا ہے۔بلاوجہ سڑکوں پر گھوم رہے لوگوں کو پولیس نے دوڑایا اور انکی جم کر خبر لی۔سی اُو چوب سنگھ نے بتایا کہ سختی کے باوجود بھی لوگ حرکت سے باز نہیں آرہے ہیں جس کی وجہ سے اب گاڑیوں کو سیز کرنے کارروائی شروع کردی گئی ہے، انہوں نے بتایا کہ دیوبند سرکل کے ناگل، دیوبند اور بڑگائوں تھانہ علاقوں میں تقریباً 3000ہزار سے زائد افراد کے چالان کاٹتے ہوئے 300سے زائد گاڑیوں کو سیز کردیاگیاہے۔اس کے باوجود بھی لوگوں میں لاک ڈائون کولے کر کوئی سنجیدگی نظر نہیں آرہی ہے،انہوں نے کہا کہ علاقہ کے باشندے بلاوجہ سڑکوں پر اپنے اہل خانہ اور بچوں کے ساتھ نہ گھومے، انہوں نے کہا کہ کہ اگر لوگ اس کے باوجود بھی نہیں مانتے ہیں تو پھر انتظامیہ کو مجبوری میں کرفیو لگانے کے لئے مجبور ہونا پڑیگا، انہوں نے کہا کہ دیوبند علاقے کے باشندے وزیر اعظم نریندر مودی کی ہدایت پر عمل کریں۔انتظامیہ کی جانب سے سڑکوں پر گھوم رہے باشندوں کی وڈیوگرافی بھی کرائی جارہی ہے جبکہ ایس ڈی ایم دفتر بھی دیر رات تک پولیس کے ذریعہ گرفتار کئے گئے لوگوں کو ضمانت دینے میں لگارہا۔آج پولیس نے دیوبند میں سائیکل اور موٹل سائیکل سمیت دیگر گاڑیوں کی آمدورفت پر بھی پابندی عائد کردی ہے۔تھانہ انچارج وائی ڈی شرما نے بتایا کہ اگر اس کے باوجود بھی کوئی شخص بلاوجہ سڑکوں اور گاڑیوں کے ساتھ گھومتا نظر آیا تو اسکے خلاف سخت کارروائی کی جائیگی، انہوں نے کہاچوکی انچارجوں کو بھی حکومت کی جانب سے آئے احکامات سے آگاہ کردیاگیاہے،جبکہ کوروناوائرس کی وجہ سے ہوئے لاک ڈائون کے چلتے کچھ سرکاری محکمہ کو چھوڑ کر سبھی سرکاری وغیر سرکاری ادارے بند ہیں، لوگ لیپ ٹاپ اور موبائل وغیرہ سے آن لائن اپنے کاموں کو مکمل کرنے میں لگے ہوئے ہیں۔

مزید پڑھیں

Urdutimes@123

ہندوستان اردو ٹائمز پر آپ سب کا خیر مقدم کرتے ہیں

متعلقہ خبریں

جواب دیجئے

Back to top button
Close
Close