دیوبند

حق تعالیٰ کی ذات پر مکمل بھروسہ کرتے ہوئے اسباب اور احتیاطی تدابیر کو اختیار کرنے کا حکم بھی عین منشائے شریعت ہے : مولانا سفیان قاسمی

دیوبند، 24مارچ (رضوان سلمانی) دارالعلوم وقف کے مہتمم مولانا سفیان قاسمی نے پریس کو جاری اپنے ایک بیان میں کہا ہے کہ کرونا وائرس جس کی وحشت انگیزی نے اس وقت دنیا کے کم و بیش 175 ممالک کو اپنی لپیٹ میں لیا ہوا ہے بلاشبہ یہ عالمی وبائ، خدائی قہر کی صورت ہے۔ چنانچہ موجودہ صورتِ حال میں جہاں رجوع الی اللہ، توبہ و استغفار اور بہ نیت اخلاصِ قلب خشوع و خضوع کے ساتھ دعائوں کی ضرورت ہے جو کہ قہرِ الٰہی کو مہر و رحمت سے مبدّل کردینے کا حقیقی اور مؤثر ترین ذریعہ ہے، وہیں ہمیں حق تعالیٰ کی ذات پر مکمل بھروسہ کرتے ہوئے اسباب اور احتیاطی تدابیر کو اختیار کرنے کا حکم بھی عین منشائے شریعت ہے جو کہ نہ توکل علی اللہ کے منافی ہے اور نہ مقصدِ شریعت سے متصادم ہے۔انہوں نے کہا حکومت ہند سمیت اس وقت دنیا کے بہت سے ممالک نے ملکوں اور شہروں کو لاک ڈائون کیا ہے، اس کے وجوب اور اس احتیاطی تدبیر پر عمل کرنے کی دلیل ہمیں نبی کریم علیہ الصلوٰۃ والسلام کے اس ارشاد گرامی سے ملتی ہے جس کو مسند احمد نے حدیث نمبر 1491 پر درج کیا ہے جبکہ جب طاعون کا موذی اور متعدی مرض پھیلا اور انسانیت کو خطرہ لاحق ہوا۔ اس موقع پر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: جس علاقے میں طاعون پھیلا ہو لوگ وہاں نہ جائیں اور وہاں کے لوگ اپنے علاقے سے باہر نہ نکلیں بلکہ صبر کے ساتھ اپنے اپنے علاقوں میں رہیں جب کہ اگر کسی کی موت کا وقت ہی آگیا ہے تو اس سے ہرگز فرار حاصل نہیں کرسکتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ قرآن پاک میں ارشاد ہے تم لوگ جہاں کہیں بھی ہو گے موت تم کو آپکڑے گی، اگرچہ تم مضبوط قلعوں میں ہی کیوں نہ ہو۔مولانا نے کہا دوسرے لوگوں کو وبائی امراض کی جگہ پر جانے کی ممانعت کا مقصد یہ ہے کہ نہ اپنے آپ کو ہلاکت میں ڈالو اور نہ دوسروں کے لئے ہلاکت کا خطرہ بنو۔ یہ لوک ڈائون نہیں تو اور کیا ہے؟ لہٰذا احتیاطی تدابیر کے حوالے سے حکومت کے محکمۂ صحت کی جانب سے جاری ہدایات پر اسلامی اصولِ صحت کے نقطۂ نظر سے بھی اور انسانیت کے بقائے باہم کے اصول کے تناظر میں بھی عمل کرنا میری نظر میں ضروری ہی نہیں بلکہ بحالات موجودہ واجب کے درجے میں ہے۔ لہٰذا عامۃ المسلمین سے دارالعلوم وقف دیوبند کی مخلصانہ اپیل ہے کہ درج ذیل احتیاطی اقدامات کو بروئے کار لانے کو یقینی بنانے میں انسانیت کی خاطر حکومت کی ہدایات پر عمل کریں۔موضوع مذکور کے حوالے سے فقیہ العصر مولانا خالد سیف اللہ رحمانی (رکن مجلس مشاورت دارالعلوم وقف دیوبند و جنرل سکریٹری اسلامک فقہ اکیڈمی، انڈیا) نے جو رہنما تجاویز تحریر کی ہیں، دارالعلوم وقف دیوبند ان تجاویز کی بھرپور تائید کرتا ہے، تجاویز کا خلاصہ درج ذیل ہے(۱)جب تک اس متعدی مرض کے اثرات دنیا میں باقی ہیں ایک دوسرے سے مصافحہ اور معانقہ سے مکمل طور پر گریز کیا جائے کیوںکہ ماہرین صحت کی رائے کے مطابق حفاظتی نقطۂ نظر سے ایک د وسرے سے کم از کم ایک میٹر کا فاصلہ بنائے رکھنا ضروری ہے ۔ (۲)اجتماعات اور اجتماعیت سے بھی گریز ضروری ہے کیوںکہ دنیا بھر کے ماہرین کی رائے کے بموجب ہر وہ مقام جہاں پر اجتماعیت لازمی ہے سردست احتیاط کے نقطۂ نظر سے اجتناب برتا جائے، اپنے کو اور دوسروں کو نقصان سے بچانے کا حکم بھی دیا گیا ہے، کیوںکہ اجتماع کی جگہ اس قسم کے متعدی مرض کے پھیلائو کا خطرہ زیادہ قوی ہوتا ہے۔ اس تناظر میں فقہائے امت بھی رخصت کو اختیار کرتے ہوئے مساجد میں باجماعت نمازوں میں افرادی تخفیف کی بایں طور رائے رکھتے ہیںکہ مساجد میں مقیم امام و مؤذن اور خدّامِ مسجد اذان و جماعت کا اہتمام کریں اور جہاں یہ صورت نہ ہو وہاں محلہ کے چند تندرست نوجوان نماز باجماعت ہدایات کے مطابق مناسب فاصلہ رکھتے ہوئے نماز قائم کریں جب کہ محلّے کے اکثر لوگ موجودہ مہلک احوال کے تناظر میں نماز اگر اپنے اپنے گھر پر ادا کرتے ہیں تو اس میں کوئی مضائقہ نہیں ہے۔(۳)دعاء و استغفار کی کثرت کے ساتھ ساتھ مساجد نیز سامانِ مساجد کی صفائی ستھرائی کو بہرصورت یقینی بنائیں جب کہ اس کے علاوہ مسجد میں نماز مختصر بقدرِ فرض ادا کریں اور سنن و نوافل کا اہتمام اپنے گھروں پر کریں، ایسے ہی ائمہ حضرات خیال رکھیں کہ نماز میں قراء ت مختصر کرنے کے ساتھ ساتھ رکوع و سجود میں طوالت نہ ہو۔(۴) پیش آمدہ ہلاکت خیز احوال کے پیش نظر سردست مساجد میں درس و تدریس اور تقریر و خطابات کا سلسلہ موقوف رکھا جائے، نیز یہ بات بھی اپنی جگہ اہمیت رکھتی ہے کہ جمعہ کی نماز بھی کم سے کم نمازیوں کے ذریعہ ہی ادا کی جائے اور خطبہ و قراء ت کی مقدار بھی بس اتنی ہی رکھی جائے جتنی کہ فقہاء نے واجب قرار دی ہے۔ پنج وقتہ نمازوں کی طرح وہی احتیاطی نہج نمازِ جمعہ میں بھی ضروری ہے۔اپنی نمازوں میں، عبادات میں اور خلوت میںمانگی جانے والی دعائوں میں ذات حق جل مجدہٗ سے بلاتخصیص مذہب و ملّت تمام انسانیت کے لئے امن و عافیت کی دعا کریں۔

Urdutimes@123

ہندوستان اردو ٹائمز پر آپ سب کا خیر مقدم کرتے ہیں

Leave a Reply

متعلقہ خبریں

Back to top button
Close
Close