دیوبند

گزشتہ دو روز سے دہلی میں ہورہے پر تشدد حملوں جمعیۃ علماء نے شدید مذمت کرتے ہوئے حملہ آوروں کو فوراً گرفتار کرنے کا مطالبہ کیا

دیوبند،25فرروری(رضوان سلمانی )گزشتہ دو روز سے دہلی میں ہورہے پر تشدد حملوں جمعیۃ علماء نے شدید مذمت کرتے ہوئے حملہ آوروں کو فوراً گرفتار کرنے کا مطالبہ کیا ہے، جمعیۃ کے عہدے دارن نے جمعیۃ کے ذمہ دار مولانا عرفان قاسمی اور مولانا عارف قاسمی پر ہوئے حملہ کی بھی مذمت کی ہے،اس سلسلہ میں جمعیۃ علماء ضلع سہارنپور کے صدر مولانا ظہور قاسمی نے دہلی کر پر تشدد حالات پر اپنی گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ حکومت پر پورے ملک میں امن وامان قائم رکھنے کی ذمہ داری اور حکومت اپنے بنائے ہوئے کالے قانون کو فوراً واپس لے اور کپل مشرا جیسے شخص پر قانونی کارروائی کرے،جمعیۃ کے ضلع جنرل سکریٹری ذہین احمد نے جمعیۃ عہدے داران پر ہوئے حملہ پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ یہ جمہوریت پر حملہ ہے ہم حکومت سے سخت قدم اٹھانے کا مطالبہ رکرتے ہیں، انہوں نے کہا کہ اس ملک میں مظلوموں کی داد رسی کرنا بھی جرم ہے، اگر ایسی ہی صورتحال رہی تو ملک سے انصاف ختم ہوجائے گا،انہوں نے دہلی میں ہورہے پر تشدد حملوں کے ذمہ داران فوراً گرفتار کرنے کا مطالبہ کیا۔ جمعیۃ علماء ضلع سہارنپور کے سکریٹری مولانا ابراہیم قاسمی نے بھی جعفرآباد میں ہوئی بربریت پر شدید غم وغصہ کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ شرپسند عناصر بے خوف ہوکر لوگوں کو اپنا نشانہ بنا رہے ہیں انکو قانون کا کوئی خوف نہیں ہے اور کھلے عام پتھر بازی کررہے ہیں اور تشدد پرآمادہ ہیں۔جمعیۃ علماء یونٹ دیوبند کے جنرل سکریٹری عمیر عثمانی نے بھی ان واقعات کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ دہلی میں کھلے عام بے قصور لوگوں کو مارا جارہا ہے غنڈہ عناصر بے خوف لوگوں پر پتھر بازی کررہے ہیں مگر انکو کوئی روکنے والا نہیں ہے، انہوں نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ قصور واروں فورا ً گرفتار کیا جائے اور مرنے والوں کے ورثہ کو انصاف دیتے ہوئے انکے اہل خانہ کو معاوضہ بھی دیا جائے۔راہل گاندھی وچار منچ کے ضلع صدر سلیم عثمانی نے کہا کہ دہلی فساد کے ذمہ دار کپل مشرا کے خلاف کارروائی کرتے ہوئے انہیں فوراً گرفتار کیاجائے، انہوں نے کہا کہ دہلی میں پرتشدد حملوں کے ذمہ دار کپل مشرا اور فرقہ پرستوں نے دہلی کے ماحول کو خراب کرکے اسے فرقہ وارانہ رنگ دے دیاہے اور گزشتہ تین روز سے جس طرح دہلی میں ننگا ناچ کیا جارہاہے، اس یہ معلوم ہورہاہے کہ مرکزی حکومت کے وزیر داخلہ کے اشارے پر دہلی کے پر امن ماحول کو پراگندہ کیا گیاہے، انہوں نے کہا کہ یہ بات ہماری سمجھ سے پرے لگ رہی ہے، این پی آر ، این آرسی اورسی اے اے کے خلاف دہلی میں تقریباً ڈھائی شاہین باغ میں پرامن احتجاجی مظاہرہ جاری ہیں اور فرقہ پرست طاقتوں نے جامعہ ملیہ، جے این یو جیسی تعلیمی درسگاہوں اپنے ذہنیت اجاگر کی لیکن شاہین باغ اور دہلی کے مختلف علاقوں میں کسی قسم کا احتجاج کو لیکر کوئی تشدد نہیں ہواتھا، کیا وجہ ہے کہ جیسے ہی جعفر آباد اور اس سے منسلک علاقوں میں احتجاج شروع فوراً کپل مشرا اور انکے حامیوں نے اپنی ذہنیت کا ننگا ناچ کرکے ماحول کو خراب کردیا، جس کے نتیجہ میں غیر سرکاری اطلاعات کے مطابق تقریبا 8افراد کو اپنی جان سے ہاتھ دھونا پڑا اور کروڑوں روپئے کی املاک کو نقصان پہنچایا گیا، انہوں نے کہا کہ آج جب حالات کا جائزہ لینے کے لئے جمعیۃ علماء ہند کا ایک وفد جن میں مولانا عرفان قاسمی اور مولانا عارف قاسمی شامل تھے ان پر شرپسند عناصر نے جان لیوا حملہ کیا اور انہیں شدید طورپر زخمی کیا گیا،جس سے صاف ظاہر ہے کہ شرپسند عناصر کے حوصلے کتنے بلند ہیں، انہوں نے حکومت سے مطالبہ کیا کے قصورواروں کو فوراً گرفتار کیا جائے۔

مزید پڑھیں

Urdutimes@123

ہندوستان اردو ٹائمز پر آپ سب کا خیر مقدم کرتے ہیں

متعلقہ خبریں

جواب دیجئے

Back to top button
Close
Close