دیوبند

ضلع کے ترقیاتی کاموں میں رکاوٹ بن رہے ہیں اے ایم اے

ہندو مسلم ذہنیت سے کام کررہی ہیں اے ایم اے : ماجد علی

دیوبند، 6؍ دسمبر (رضوان سلمانی) ضلع پنچایت چیئرمین اور اے ایم اے کے درمیان ضلع پنچایت کی میٹنگ کو لے کر طناطنی شروع ہوگئی ہے ، ایک جانب جہاں ضلع پنچایت چیئرمین کی جانب سے ان کے نمائندے اور شوہر نے اے ایم اے پر ترقیاتی کامو ںکے لئے میٹنگ نہ بلائے جانے اور ہندو مسلم ذہنیت سے کام کرنے کے سنگین الزامات عائد کئے ہیں تو وہیں اے ایم اے نے سبھی الزامات کو بے بنیاد بتاتے ہوئے کہا کہ ترقیاتی کام حکومت کی منشا کے مطابق کرکے ضلع کو ترقیات کی راہ پر لے جانے کا کام کررہی ہیں۔ ضلع پنچایت کے میٹنگ ہال میں ضلع پنچایت چیئرمین تسنیم بانو اور ان کے شوہر ماجد علی نے الزام عائد کرتے ہوئے کہا کہ وہ ضلع پنچایت کی میٹنگ کرانے کے لئے برابر منسوخ کی جارہی ہیں ، پہلے ایودھیا معاملے کا حوالہ دے کر میٹنگ منسوخ کردی گئی تھی اور اب 7دسمبر کو ہونے والی میٹنگ دفعہ 140کا حوالہ دیتے ہوئے منسوخ کرادی گئی ہے۔ انہو ں نے کہا کہ وہ بورڈ کو اپنے من مطابق طریقے سے چلانا چاہتی ہے اور افسران پر بھی بلاوجہ دبائو بنارہی ہیں ۔ انہوں نے الزام عائد کرتے ہوئے کہا کہ اے ایم اے اپنے آپ کو ریاستی وزیر بھوپیندر سنگھ کا بھائی بتاکر رعب غالب کرنا چاہتی ہیں اورا ن کی غلط پالیسیوں کی وجہ سے ہی ضلع پنچایت ترقیاتی کاموں میں پچھڑ رہا ہے جو کبھی اول نمبر پر ہوا کرتا تھا، آج وہ 50ویں پائیدان سے بھی نیچے جاچکا ہے۔ ماجد علی نے کہا کہ وہ اس سلسلہ میں کمشنر ، ڈی ایم اور سی ڈی او کو بھی آگاہ کراچکے ہیں۔ ماجد علی نے الزام عائد کیا کہ اے ایم اے ہندو مسلم ذہنیت کو لے کر کام کررہی ہیں جس سے انہیں عہدے سے ہٹایا جائے ۔ جب کہ وہ آپسی بھائی چارے کے ساتھ بورڈ کو چلانے کا کام کررہے ہیں ۔ انہوں نے کہا کہ گزشتہ سالوں کا 25کروڑ روپیہ ترقیاتی کام نہ کرائے جانے کی وجہ سے بچا ہوا ہے اور اب تقریباً 33کروڑ کابجٹ پاس ہوچکا ہے جس کی پہلی قسط 11کروڑ روپے بھی آچکی ہے لیکن ترقیاتی کام نہ کرانے پر یہ رقم رکی ہوئی ہے۔ انہوں نے اے ایم اے کو ناتجربہ کار آفیسر بتاتے ہوئے وزیر اعلیٰ اترپردیش سے مطالبہ کیا ہے کہ ضلع کی ترقی کو مدنظر رکھتے ہوئے انہیں یہاں سے ہٹایا جائے ۔ دوسری جانب اے ایم اے ڈاکٹر سمن لتا نے ضلع پنچایت چیئرمین کے نمائندے ماجد علی کے سبھی الزامات کو بے بنیاد بتاتے ہوئے کہا کہ جس وقت انہوں نے ضلع پنچایت کام کام سنبھالا تھا اس وقت سہارنپور نچلے پائیدان سے ایک نمبر پر تھا لیکن آج وہ ترقیاتی کاموں میں نمبر ایک پر آچکا ہے اور جو کبھی کان کنی کا ٹھیکہ 6.40کروڑ میں ہوا کرتا تھا وہ اب ٹھیکہ انہوں نے 16.41کروڑ میں دیا ہے اور برابر پنچایت کے ذریعے سے ترقیاتی کاموں کو آگے بڑھانے کا کام کیا جارہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ پوری ریاست میں آن لائن کا کام شروع ہوچکا ہے لیکن پنچایت چیئرمین جان بوجھ کر آ ن لائن کام کو ٹالنے کا کام کررہی ہیں، جب کہ حکومت کی جانب سے برابر اس سلسلے میں خط وکتابت کی جارہی ہے۔ انہوں نے مسلم مخالف ہونے کے الزام کو پوری طرح سے مسترد کرتے ہوئے کہا کہ وہ ایک سرکاری ملازم ہے ،وہ ذات اور مذہب کی بنیاد پر کام نہیں کرتیں بلکہ ان کے بہت سے ملازم مسلم سماج سے تعلق رکھتے ہیں اور مسلم سماج کے ملازمین ضلع پنچایت میں دیگر عہدوں پر کام کررہے ہیں اور وہ صرف شفافیت کے ساتھ کام کررہی ہیں۔ اسی وجہ سے ان پر بلاوجہ دبائو بنایا جارہا ہے۔

Urdutimes@123

ہندوستان اردو ٹائمز پر آپ سب کا خیر مقدم کرتے ہیں

متعلقہ خبریں

Leave a Reply

Back to top button
Close
Close