دیوبند

عیدگاہ میدان میں ’دیوبندستیہ گرہ‘ سے انتظامیہ کی نیند حرام

سماجی تنظیم ’سنویدھانک کرانتی‘ کی قومی صدر ممتا شیوا نے خواتین کی حوصلہ افزائی کی

دیوبند،10؍فروری(رضوان سلمانی) شہریت ترمیمی قانون، این پی آر اور این آرسی کے خلاف دیوبند کے عیدگاہ میدان میں گزشتہ پندرہ یوم سے جاری خواتین کااحتجاج مسلسل مضبوط ہوتاجارہاہے ،حالانکہ انتظامیہ نوٹسوں اور مقدمات کے ذریعہ یہاں احتجاج کرنے والی خواتین او راس احتجاج کو کور کرنے والے صحافیوں و تعاون کرنے والے لوگوں کو ڈرانے کی کوششیں کررہی ہیں،لیکن خواتین کا ہمت و حوصلہ مزید مستحکم اور مضبوط ہوتا جارہاہے۔ گزشتہ شب یہاں پہنچی سماجی تنظیم ’سنویدھانک کرانتی‘ کی قومی صدر ممتا شیوا نے خواتین کی حوصلہ افزائی کرتے ہوئے مرکزی حکومت کوسخت تنقید کانشانہ بنایا۔ متحدہ خواتین کمیٹی کی جانب سے جاری عیدگاہ میدان میں ’دیوبندستیہ گرہ‘ سے انتظامیہ کی نیندیں حرام ہیں،سیکڑوں مردو خواتین کو نوٹس جاری کرنے کے بعد اب پولیس نے دو صحافیوں سمیت تین لوگوں کے خلاف مقدمات قائم کئے ہیں لیکن خواتین کے عز م و حوصلہ میں ذرہ برابر فرق نہیںدیکھاگیاہے ۔ گزشتہ شب یہاں پہنچی سماجی تنظیم ’سنویدھانک کرانتی‘ کی قومی صدر ممتا شیوا نے یہاں احتجاج کرنے والی خواتین کی حوصلہ افزائی کرتے ہوئے کہاکہ موجودہ حکومت ایک سازش کے تحت اس ملک کو نقصان پہنچارہی ہے اور وہ سی اے اے ،این آرسی کے ذریعہ لوگوں کو ڈرانا چاہتی ہے ،ان کامقصد یہ ہے کہ جس کو وہ چاہے وہ یہاںرہے گا لیکن ہم ایسا نہیں ہونے دینگے ،حکومت کے تانہ شاہی رویہ کو برداشت نہیںکیاجائیگا اور اس قانون کی سخت مخالفت کی جائے گی،حکومت نے گزشتہ دو ماہ سے ملک میں افراتفری کاماحول پیدا کردیاہے۔ ممتا شیوا نے کہاکہ یہ ملک تمام لوگوں کا ہے،یہاںاحتجاج کرنے والی خواتین اس ملک کی ہیںلیکن حکومت اپنی ضد اور ہٹ دھرمی پر اڑی ہے، لیکن ہم ان کے ساتھ نا انصافی نہیں ہونے دینگے ۔انہوں نے کہاکہ ہم سب ملک کے اتحاد اور سالمیت کے ساتھ ہیں اور کسی بھی طبقہ کے ساتھ زیادتی قطعی طورپر برداشت نہیں کی جائیگی ۔ اس دوران متحدہ خواتین کمیٹی کی صدر آمنہ روشنی، فوزیہ پروین، سلمہ احسن،فاریحہ ناز عثمانی، ارم عثمانی اورہما قریشی وغیرہ نے اپنے خطاب کے دوران خواتین کو سی اے اے ،این آرسی اور این پی آر کے متعلق تفصیلی معلومات دیتے ہوئے کہاکہ جب تک حکومت ان متنازعہ قوانین کو واپس نہیں لے گی اس وقت تک خواتین کی یہ تحریک جاری رہے گی اور ہم اپنااحتجاج ختم نہیں کرینگے۔ انہوں نے کہاکہ پولیس اور نتظامیہ ہمیں گرفتاری اور مقدمات کاخوف دکھاکر ڈرانا چاہتی ہے لیکن ہم نہ ڈرنے والے اور نہ گھبرانے والے ہیں ،اگر پولیس ہمیں گرفتار کرتی ہے تو یہ تحریک مزید مضبوط ہوگی ،انہوں نے دو ٹوک کہاکہ جب تک کالا قانون واپس نہیں ہوگا اس وقت تک ہم ایک انچ بھی پیچھے نہیں ہٹے گی۔ واضح رہے کہ دیوبند کے عیدگاہ میں گزشتہ پندرہ یوم سے خواتین کا احتجاج جاری ہے ،جہاں خواتین دن رات ڈٹی ہوئی ہیں جس سے ضلعی انتظامیہ کے ہوش فاختہ ہیں اور وہ کسی بھی قیمت اس احتجاج کو ختم کرناچاہتی ہے ۔

Urdutimes@123

ہندوستان اردو ٹائمز پر آپ سب کا خیر مقدم کرتے ہیں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

متعلقہ خبریں

Back to top button
Close
Close