دیوبند

جامعہ رحمت گھگھرولی سہارنپور میں اصلاحی پروگرام انعقاد،ہم اللہ تعالیٰ کو یاد کرسکتے ہیں لیکن ہم اسکی نعمتوں کو شمار نہیں کرسکتے: مولانا محمد طاہر

دیوبند، 19؍ جولائی (رضوان سلمانی) جامعہ رحمت گھگھرولی سہارنپور میں ایک اصلاحی پروگرام انعقاد کیا گیا،اس تربیتی ورکشاپ کا انعقاد آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ کی اصلاح معاشرہ کمیٹی مغربی یوپی کی مہم عشرہ ذی الحجہ کی زیر نگرانی کیا گیا جس میں علماء کرام اور عوام نے شرکت کی۔ پروگرام کا آغاز حافظ عبدالباطن مغیثی کی تلاوت سے ہوا، نظامت کے فرائض مہتمم جامعہ رحمت گھگرولی مولانا ڈاکٹر عبدالمالک مغیثی رکن اصلاح معاشرہ کمیٹی مغربی یوپی مسلم پرسنل لا بورڈ نے انجام دئیے اور اسی کے ساتھ پروگرام کے اہداف و مقاصد پر بھی روشنی ڈالی۔

 

اس موقع پر عوام اور طلبہ سے اپنے خطاب کرتے ہوئے مولانا نثار نے کہا کہ بظاہر پوری دنیا میں مسلمان کروڑوں اربوں روپے جانوروں کی قربانی پر صرف کرتے ہیں جو فضول خرچی معلوم ہوتا ہے لیکن مسلمان پھر بھی قربانی کرتے ہیں کیونکہ عقل کے مطابق کام کرنے اور اپنے شوق پورے کرنے کا نام دین نہیں،بلکہ اللہ اور اُس کے رسول ﷺ کے کہنے پر عمل کرنے کا نام دین ہے، اُن کی پیروی اور اِتباع کا نام دین ہے۔مسلمان اس موقع پرحسب استطاعت عمدہ سے عمدہ جانور خریدیں اور بخل سے کام نہ لیں کیونکہ قربانی سے مقصود اللہ تعالی کی رضا ہے اور اللہ تعالی دل کی پاکیزگی کو دیکھتا ہے۔ تکبیر تشریق کے متعلق انھوں نے کہا کہ یہ شعائر اسلام میں سے ہے اور شعائر کو زندہ رکھنا مسلمانوں کی ذمہ داری ہے،تمام مسلمانوں کو اسے بلند آواز سے پڑھنا چاہیے تاکہ اللہ تعالی کے بندوں کی جمعیت کا اظہار ہواور عورتوں کو بھی اسے پڑھ لینے میں کوئی حرج نہیں ہے۔انھوں نے سامعین سے ذی الحجہ کا روزہ رکھنے کی بھی تلقین کرتے ہوئے کہا کہ عرفہ کے دن کا ایک روزہ ایک سال پہلے اور ایک سال بعد کے گناہوں کی معافی کا سبب بنتا ہے۔ لہٰذا ہمیں 9 ذی الحجہ کے دن روزہ رکھنے کا اہتمام کرنا چاہئے۔

 

مولانا نے اپنی گفتگو کے اختتام پر کہا کہ اللہ تعالی سے ہمارا تعلق آج محض رسمی رہ گیا ہے،ہماری عبادات اخلاص سے خالی ہیں،ہم دین و شریعت کے تقاضوں کو پورا نہیں کررہے ہیں،اللہ تعالی سے ہمارا تعلق جنون کی حد تک ہونا چاہیے،ہماری کا میابی کا راستہ اسی وقت کھلے گا جب یہ تعلق رسمی نہیں بلکہ والہانہ ہوگا۔مولانامحمد طاہر نے اپنے کلیدی خطاب میں فرمایا کہ ہم اللہ تعالیٰ کو یاد کرسکتے ہیں لیکن ہم اسکی نعمتوں کو شمار نہیں کرسکتے اور قرآن کا سیکھنا اور سکھانا دنیا کی سب سے بڑی نعمت ہے،ملک میں موجودہ حالات کو دیکھتے ہوئے آج ہمیں اللہ تعالی کا شکرادا کرنا چاہیے کہ ان ہنگامہ خیز حالات میں بھی اس نے ہمیں تعلیم سے محروم نہیں رکھا۔ان وحشت ناک اور خطرناک ایام میں بھی ہم اپنے پرانے طور طریقوں اور بری عادتوں پر قائم ہیں،ہمارا یہ عقیدہ ہے کہ باطل طاقتوں سے کچھ نہیں ہوتا بلکہ جو اللہ چاہتا ہے وہی ہوتا ہے،ہم اللہ کو راضی کرلیں اور اسکی منشا کے مطابق زندگی گزاریں تو ان شاء اللہ حالات پھر سے بدلیں گے۔پروگرام مولانا محمد طاہر کی پرسوز دعا سے اختتام کو پہنچا۔ پروگرام میں ماسٹر محمد یوسف، مولانا عبد الخالق مغیثی، چودھری عبدالقیوم، مولانا عبدالماجد مغیثی، مولوی بلال، حاجی فرید وغیرہ کے علاوہ اہلیان بستی و تمام اساتذہ و طلبہ شریک رہے۔پروگرام کی صدارت مولانا محمد طاہر شیخ الحدیث مدرسہ فیض ہدایت رحیمی، رائے پور ی نے کی ۔

Urdutimes@123

ہندوستان اردو ٹائمز پر آپ سب کا خیر مقدم کرتے ہیں

Leave a Reply

Back to top button
Close
Close