دیوبند

مرکز اور ریاست کی بی جے پی حکومت نے مسلم طبقے کو اس ملک کی مین اسٹریم میں شامل کرنے کا کام کیا ہے: کنور باسط علی

دیوبند، 15؍ جولائی (رضوان سلمانی) بی جے پی اقلیتی سیل کے صوبائی صدر کنور باسط علی نے کہا ہے کہ مرکز اور ریاست کی بی جے پی حکومت نے مسلم طبقے کو اس ملک کی مین اسٹریم میں شامل کرنے کا کام کیا ہے ، جب کہ اپوزیشن پارٹیوں نے مسلم قوم کو طرح طرح سے بھٹکاکر اس کو بینک ووٹ کے طو رپر استعمال کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ آرایس ایس اور دارالعلوم دیوبند کے درمیان اگر مختلف مسائل پر گفتگو ہوتی ہے تو وہ ملک کے مفاد اور ترقی کے لئے بہتر ہوگی۔ صوبائی صدر کنورباسط علی نے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ہندوستان کی بڑھتی ہوئی آبادی ملک کی اقتصادی حالت اور ترقی میں روکاٹ بنی ہوئی ہے ۔ ریاست کی بی جے پی حکومت کی جانب سے آبادی پر قابو پانے کا قانون بنانا قابل ستائش ہے کیو ںکہ ہندوستان کی آبادی میں اضافہ ہونے سے اقتصادی ترقی کی شرح اور ملازمتوں میں کافی کمی واقع ہوئی ہے ۔ کنور باسط علی نے کہا کہ این آرسی اور سی اے اے قانون پر مسلم طبقے کو بھڑکانے والے کانگریسی ، سماج وادی پارٹی اور بہوجن سماج پارٹی کے لیڈران اس ملک کی فرقہ وارانہ ہم آہنگی اور آپسی اتحاد کو ختم کرنے کا کام کررہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ کانگریس لیڈر راہل گاندھی، قومی صدر سونیا گاندھی کے پاس دوہری شہریت ہے جو غیرقانونی ہے۔ ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ اگر آرایس ایس اور دارالعلوم دیوبند کے درمیان باہمی مذاکرات شروع ہوتے ہیں تویہ پورے ملک کے مفاد میں ہوگا ۔ انہو ںنے کہا کہ آرایس ایس ہندوستانی تہذیب کی حفاظت کررہی ہے اور تمام مذاہب کو ساتھ لے کر ملک کے مفاد میں کام کررہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ وہ عنقریب دیوبند پہنچ کر علمائے کرام سے ملاقات کریںگے اور سازگار ماحول بنانے کی کوشش کریں گے۔

Urdutimes@123

ہندوستان اردو ٹائمز پر آپ سب کا خیر مقدم کرتے ہیں

Leave a Reply

متعلقہ خبریں

Back to top button
Close
Close