دیوبند

دیوبند: صحافی فہیم صدیقی کے چچا راحت حسین کا مختصر علالت کے بعد انتقال ،متعلقین میں غم کی لہر

دیوبند،20؍جون (رضوان سلمانی ) دیوبند کے مشہور و معروف ٹیچر ماسٹر ابرار حسین مرحوم کے سب سے چھوٹے صاحبزادہ صحافی فہیم صدیقی کے چچا راحت حسین عرف حسین میاں کا مختصر علالت کے بعد تقریباً 70سال کی عمر میں آج جمو کشمیر میں انتقال ہو گیا ،انا للہ وانا الیہ راجعون ۔جیسے ہی ان کے انتقال کی اطلاع دوپہر دیوبند پہنچی تو ان کے اہل خانہ اور متعلقین میں غم کی لہر دوڑ گئی اور لوگ تعزیت کیلئے فہیم صدیقی کے گھر پر پہنچنے لگے ۔ صحافی فہیم صدیقی نے بتایا کہ مرحوم راحت حسین گذشتہ چار روز سے بخار میں مبتلا تھے گذشتہ رات سے انہیں سانس لینے میں تکلیف محسوس ہو رہی تھی آ ج تقریباً دوپہر 2؍بجے انہیں سانس میں زیادہ گھٹن محسوس ہوئی اس سے پہلے کہ ان کیلئے فسٹ ایڈ کا انتظام ہوتا وہ اپنے رب حقیقی سے جا ملے ۔مرحوم کے صاحبزدہ فرحت حسین نے بتایا کہ بخار کے ساتھ ساتھ ان کا شوگر لیول بھی بہت کم ہو گیا تھا ۔ انہوںنے بتایا کہ راحت حسین 40؍سالوں سے زائد عرصہ سے جمومیں اپنی فیملی کے ساتھ رہتے تھے انتہائی خوش مزاج پر مزاح شخصیت کے مالک اور ملنسار انسان تھے ،خاندان میں سب سے چھوٹے ہونے کی وجہ سے وہ سب کے پیارے تھے ۔ماریشش میں مقیم ہماری پھوپی صاحبہ اور راحت حسین مرحوم کی اکلوتی بہن اور ہمارے لئے یہ حادثہ عظیم صدمہ ہے اس حادثہ سے پورا خاندان گہرے صدمہ میں ہے ،حالات کے پیش نظر ہم لوگوں کا وہاں پہنچنا مشکل ہے جس کی وجہ سے پورا خاندان شدید رنج و غم میں مبتلا ہے ۔ فہیم صدیقی نے بتایا کہ مرحوم کی نماز جنازہ بعد نماز مغرب جمو میںاد ا کی گئی اور وہیں پر تدفین عمل میں آئی ، اللہ تعالیٰ ان کی اہلیہ، تینوں صاحبزادوں اور جملہ پسماندگان کو صبر جمیل عطا فرمائے اور مرحوم کو اپنی جوار رحمت میں خاص جگہ عطا فرمائے ۔ ڈاکٹر طاہر الاسلام نے مرحوم راحت حسین کے انتقال پر اپنے تعزیتی پیغام میں کہا کہ مرحوم اپنے تمام بھائیوں میں بڑے خوب صورت اور ہنس مکھ انسان تھے ، ان کے انتقال سے ان کو دلی صدمہ پہنچا ہے ،وہ میرے بہت اچھے ملنے والوں میں سے تھے ۔مرحوم کافی عرصہ سے جمو کشمیر میں رہ کر اپنی اولاد کی کفالت کررہے تھے ،اللہ تعالیٰ ان کی مغفرت فرمائے اور پسماندگان کو صبر جمیل سے نوازے ۔ ماہنامہ ترجمان کے مدیر اعلیٰ مولانا ندیم الواجدی نے اپنے تعزیتی پیغام میں کہا کہ مرحوم اچھے انسان تھے جب بھی وہ جمو سے دیوبند تشریف لاتے تو وہ ان سے ضرور ملاقات کے لئے دوکان پر آتے او ربہت دیر تک ان سے باتیں ہوتی ،ہر وقت وہ ہنستے ہوئے نظر آتے تھے ۔ انتقال کی خبر سے نگاہوں کے سامنے ان کا خوب صورت چہرہ آگیا اور کانوں میں ان کی بلند آواز گونجنے لگی ،اللہ تعالیٰ مرحو م کی مغفرت فرمائے اور پسماندگان کو صبر جمیل عطا فرمائے ۔معروف ادیب اور دارالعلوم وقف کے استاذ مولانا نسیم اختر شاہ قیصر نے اپنے تعزیتی پیغام میں کہا کہ راحت حسین کے انتقال کی خبر سے بہت دکھ ہوا ،بہت سی یادوں نے ذہن کے دروازہ پر دستک دی ، اللہ تعالیٰ ان کی مغفرت کاملہ فرمائے اور اہل خانہ کو صبر کی دولت سے نوازے ۔ یوپی رابطہ کمیٹی کے سکریٹری ڈاکٹر عبید اقبال عاصم نے کہا کہ مرحوم بہت سی خوبیوں کے مالک تھے ہمیشہ ہنسنا ان کا شیوہ تھا ،ہر انسان سے بڑی ملنساری سے ملتے تھے جب بھی وہ دیوبند آتے ہر ملنے والوں سے خصوصی طو رپر ملاقات کرتے تھے ، ان کا رخصت ہوجاناایک بڑا حادثہ ہے ،اللہ تعالیٰ ان کی مغفرت فرمائے ،اہل خانہ اور پسماندگان کو صبر جمیل عطا فرمائے ۔ ا ن کے علاوہ ان کے انتقال پر دارالعلوم وقف کے شیخ الحدیث مولانا سید احمد خضر شاہ مسعودی ،دارالعلوم وقف کے استاذ حدیث مولانا اسلام قاسمی،مسلم فنڈ ٹرسٹ دیوبند کے منیجرسہیل صدیقی ،نائب منیجر محمد آصف ،سابق نگر پالیکا چیئر مین انعام قریشی ،حاجی انس صدیقی ،جامعہ طبیہ دیوبند کے سکریٹری ڈاکٹر انور سعید ،ایڈمنسٹریٹر ڈاکٹر اختر سعید ،اعظم عثمانی ،مرغوب صدیقی ،عمیر عثمانی،ارشاد قریشی ،ڈاکٹر شبلی اقبال ،مولانا دلشاد قاسمی ،مفتی وقاص ہاشمی ،جنید صدیقی ،نسیم انصاری ایڈووکیٹ ،نسیم الحق ،طارق عثمانی ،وسیم صدیقی ،صحافی اطہر عثمانی ،معین صدیقی ،فہیم عثمانی ،رضوان سلمانی ،نوشاد عثمانی ،سمیر چودھری ،آباد علی شیخ ،عارف عثمانی ،فیروز خان،ایم افسر، پریس ایسو سی ایشن کے صدر منوج سنگھل ،مشرف عثمانی ،راشد قیصر ،ڈاکٹر شمیم دیوبندی وغیرہ نے مرحوم کے اہل خانہ کو تعزیت مسنونہ پیش کی ۔

Urdutimes@123

ہندوستان اردو ٹائمز پر آپ سب کا خیر مقدم کرتے ہیں

Leave a Reply

Back to top button
Close
Close